<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:09:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:09:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریٹیل ادائیگیاں 612 کھرب روپے تک پہنچ گئیں، اسٹیٹ بینک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278910/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران ملک میں ریٹیل ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جو 9.1 ارب ٹرانزیکشنز تک پہنچ گئیں جن کی مجموعی مالیت 612 کھرب روپے رہی۔ ٹرانزیکشنز کی تعداد میں 38 فیصد اور مالیت میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ڈیجیٹل چینلز کی جانب تیزی سے منتقلی کا مظہر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پیمنٹ سسٹمز میں کارکردگی، شمولیت اور شفافیت کے لحاظ سے ساختی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ڈیجیٹل چینلز کے فروغ، انفراسٹرکچر کے توسیعی منصوبوں اور راست پی ٹو ایم اور پرزم پلس جیسے اقدامات کے آغاز سے مالیاتی نظام مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کا پیمنٹ لینڈ اسکیپ حالیہ برسوں میں تیزی سے جدید ہوا ہے، جسے ٹیکنالوجی پر مبنی پلیٹ فارمز نے فروغ دیا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں ادائیگیوں کا عمل زیادہ موثر، محفوظ اور مالی شمولیت کو فروغ دینے والا بنتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے کی جانے والی ادائیگیاں مجموعی ریٹیل ٹرانزیکشنز کا 88 فیصد رہیں، جو گزشتہ مالی سال کے 85 فیصد سے زیادہ ہیں۔ موبائل بینکنگ ایپس نے سبقت حاصل کی، جن کے ذریعے 6.2 ارب سے زائد ٹرانزیکشنز ہوئیں، جن میں 52 فیصد اضافہ ہوا۔ انٹرنیٹ بینکنگ پورٹلز نے 297 ملین ٹرانزیکشنز ریکارڈ کیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای منی والیٹ ایپس میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، جہاں ٹرانزیکشنز کی تعداد اور مالیت دونوں میں دوگنا اضافہ دیکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، یہ رجحان صارفین کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور ڈیجیٹل مالیاتی اداروں کی مقبولیت کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راست پلیٹ فارم کے ذریعے ٹرانزیکشنز کی تعداد اور مالیت دونوں میں دو گنا اضافہ ہوا، جس نے ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں اپنی حیثیت مستحکم کی۔ پوائنٹ آف سیل نیٹ ورک میں بھی 7 فیصد اضافہ ہوا اور اب 159,000 سے زائد تجارتی مقامات پر تقریباً دو لاکھ مشینیں نصب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، اسٹیٹ بینک محفوظ، موثر اور جامع پیمنٹ سسٹمز کے فروغ کے لیے پرعزم ہے تاکہ پاکستان کا مالیاتی انفراسٹرکچر عالمی معیار کے مطابق ترقی کرتا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران ملک میں ریٹیل ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جو 9.1 ارب ٹرانزیکشنز تک پہنچ گئیں جن کی مجموعی مالیت 612 کھرب روپے رہی۔ ٹرانزیکشنز کی تعداد میں 38 فیصد اور مالیت میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ڈیجیٹل چینلز کی جانب تیزی سے منتقلی کا مظہر ہے۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پیمنٹ سسٹمز میں کارکردگی، شمولیت اور شفافیت کے لحاظ سے ساختی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ڈیجیٹل چینلز کے فروغ، انفراسٹرکچر کے توسیعی منصوبوں اور راست پی ٹو ایم اور پرزم پلس جیسے اقدامات کے آغاز سے مالیاتی نظام مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہو رہا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کا پیمنٹ لینڈ اسکیپ حالیہ برسوں میں تیزی سے جدید ہوا ہے، جسے ٹیکنالوجی پر مبنی پلیٹ فارمز نے فروغ دیا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں ادائیگیوں کا عمل زیادہ موثر، محفوظ اور مالی شمولیت کو فروغ دینے والا بنتا جا رہا ہے۔</p>
<p>ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے کی جانے والی ادائیگیاں مجموعی ریٹیل ٹرانزیکشنز کا 88 فیصد رہیں، جو گزشتہ مالی سال کے 85 فیصد سے زیادہ ہیں۔ موبائل بینکنگ ایپس نے سبقت حاصل کی، جن کے ذریعے 6.2 ارب سے زائد ٹرانزیکشنز ہوئیں، جن میں 52 فیصد اضافہ ہوا۔ انٹرنیٹ بینکنگ پورٹلز نے 297 ملین ٹرانزیکشنز ریکارڈ کیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہیں۔</p>
<p>ای منی والیٹ ایپس میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، جہاں ٹرانزیکشنز کی تعداد اور مالیت دونوں میں دوگنا اضافہ دیکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، یہ رجحان صارفین کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور ڈیجیٹل مالیاتی اداروں کی مقبولیت کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>راست پلیٹ فارم کے ذریعے ٹرانزیکشنز کی تعداد اور مالیت دونوں میں دو گنا اضافہ ہوا، جس نے ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں اپنی حیثیت مستحکم کی۔ پوائنٹ آف سیل نیٹ ورک میں بھی 7 فیصد اضافہ ہوا اور اب 159,000 سے زائد تجارتی مقامات پر تقریباً دو لاکھ مشینیں نصب ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، اسٹیٹ بینک محفوظ، موثر اور جامع پیمنٹ سسٹمز کے فروغ کے لیے پرعزم ہے تاکہ پاکستان کا مالیاتی انفراسٹرکچر عالمی معیار کے مطابق ترقی کرتا رہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278910</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Nov 2025 10:21:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/04101910a020af9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/04101910a020af9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
