<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:18:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:18:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>احسن اقبال نے انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو کا افتتاح کر دیا، بلیو اکانومی کے فروغ پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278908/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے پیر کو ایکسپو سینٹر کراچی میں چار روزہ پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس (پی آئی ایم ای سی) 2025 کا باضابطہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں سعودی عرب کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ و لاجسٹک سروسز انجینئر صالح بن ناصر الجاسر، گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری، گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف اور دیگر اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو 1,050 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی، تقریباً 2,90,000 مربع کلومیٹر کے خصوصی اقتصادی زون اور قابلِ تجدید توانائی، ماہی گیری و معدنی وسائل کے وسیع ذخائر کی نعمت حاصل ہے۔ تاہم ان قدرتی وسائل کے باوجود بحری معیشت کا قومی جی ڈی پی میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ کئی ممالک میں یہ شرح 4 سے 7 فیصد کے درمیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فرق پاکستان کے لیے ایک بڑی معاشی موقع کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایک قدرتی بحری پل ہے جہاں جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے خطے آپس میں ملتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کی 80 فیصد تجارت حجم کے لحاظ سے اور 70 فیصد قدر کے لحاظ سے سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسن اقبال نے کہا کہ بلو اکانومی آج دنیا کی مجموعی جی ڈی پی میں سالانہ 2.5 ٹریلین ڈالر کا حصہ ڈال رہی ہے اور 35 کروڑ سے زائد روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ اگر اسے ایک ملک تصور کیا جائے تو یہ دنیا کی ساتویں بڑی معیشت شمار ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سمندر اب عالمی تجارت، توانائی اور رابطے کی شاہراہیں بن چکے ہیں اور جو ممالک انہیں دانشمندی سے استعمال کرتے ہیں، وہ اقتصادی طاقت کا مستقبل تشکیل دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو محض ایک نمائش نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی سمت کو خشکی سے سمندر کی طرف موڑنے کی تحریک ہے۔ یہ پلیٹ فارم حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں اور عالمی شراکت داروں کے درمیان تعاون کو فروغ دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان جہاز سازی، لاجسٹکس، میرین بائیوٹیکنالوجی، ساحلی سیاحت، ڈیجیٹل پورٹ مینجمنٹ، مصنوعی ذہانت اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبوں میں عالمی سرمایہ کاری اور جدت کا خیرمقدم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسن اقبال نے اُڑان پاکستان پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2035 تک پاکستان ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے سفر پر گامزن ہے، اور بلو اکانومی اس کی برآمدات پر مبنی ترقی کا ایک مضبوط ستون ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو جدید، ماحولیاتی اور مؤثر لاجسٹک مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب کے اختتام پر احسن اقبال اور سعودی وزیر نے نمائش کے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا اور یادگاری تحائف پیش کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے پیر کو ایکسپو سینٹر کراچی میں چار روزہ پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس (پی آئی ایم ای سی) 2025 کا باضابطہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں سعودی عرب کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ و لاجسٹک سروسز انجینئر صالح بن ناصر الجاسر، گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری، گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف اور دیگر اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی۔</strong></p>
<p>احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو 1,050 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی، تقریباً 2,90,000 مربع کلومیٹر کے خصوصی اقتصادی زون اور قابلِ تجدید توانائی، ماہی گیری و معدنی وسائل کے وسیع ذخائر کی نعمت حاصل ہے۔ تاہم ان قدرتی وسائل کے باوجود بحری معیشت کا قومی جی ڈی پی میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ کئی ممالک میں یہ شرح 4 سے 7 فیصد کے درمیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فرق پاکستان کے لیے ایک بڑی معاشی موقع کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایک قدرتی بحری پل ہے جہاں جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے خطے آپس میں ملتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کی 80 فیصد تجارت حجم کے لحاظ سے اور 70 فیصد قدر کے لحاظ سے سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے۔</p>
<p>احسن اقبال نے کہا کہ بلو اکانومی آج دنیا کی مجموعی جی ڈی پی میں سالانہ 2.5 ٹریلین ڈالر کا حصہ ڈال رہی ہے اور 35 کروڑ سے زائد روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ اگر اسے ایک ملک تصور کیا جائے تو یہ دنیا کی ساتویں بڑی معیشت شمار ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سمندر اب عالمی تجارت، توانائی اور رابطے کی شاہراہیں بن چکے ہیں اور جو ممالک انہیں دانشمندی سے استعمال کرتے ہیں، وہ اقتصادی طاقت کا مستقبل تشکیل دے رہے ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو محض ایک نمائش نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی سمت کو خشکی سے سمندر کی طرف موڑنے کی تحریک ہے۔ یہ پلیٹ فارم حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں اور عالمی شراکت داروں کے درمیان تعاون کو فروغ دے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان جہاز سازی، لاجسٹکس، میرین بائیوٹیکنالوجی، ساحلی سیاحت، ڈیجیٹل پورٹ مینجمنٹ، مصنوعی ذہانت اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبوں میں عالمی سرمایہ کاری اور جدت کا خیرمقدم کرتا ہے۔</p>
<p>احسن اقبال نے اُڑان پاکستان پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2035 تک پاکستان ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے سفر پر گامزن ہے، اور بلو اکانومی اس کی برآمدات پر مبنی ترقی کا ایک مضبوط ستون ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو جدید، ماحولیاتی اور مؤثر لاجسٹک مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے جاری ہیں۔</p>
<p>تقریب کے اختتام پر احسن اقبال اور سعودی وزیر نے نمائش کے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا اور یادگاری تحائف پیش کیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278908</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Nov 2025 09:57:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/0409545037c72d7.webp" type="image/webp" medium="image" height="663" width="995">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/0409545037c72d7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
