<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب سے اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری،ایس آئی ایف سی نے وزارتوں سے درجنوں سوالات کا جواب مانگ لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278907/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ اسٹریٹجک اقتصادی شراکت کو حتمی شکل دینے سے قبل مختلف وفاقی وزارتوں سے درجنوں سوالات کے جوابات طلب کر لیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باخبر ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم ہاؤس میں اس حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں شرکاء کو ایک تفصیلی سوالنامہ فراہم کیا گیا تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے جامع تجزیہ تیار کیا جا سکے اور پالیسی اقدامات، مراعات اور سرمایہ کاری کے لیے ایک مربوط منصوبہ تشکیل دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اس مشق کا مقصد اہدافی شعبوں کی مکمل تشخیص اور اصلاحات کے لیے ایک مرحلہ وار اور مالیاتی لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ کونسل نے مختلف وزارتوں سے صنعتوں کی موجودہ ساخت، پیداوار، صلاحیت، ٹیکنالوجی کی سطح، خام مال کی دستیابی، برآمدات و درآمدات کے تناسب، لاگت کے ڈھانچے اور عالمی معیار سے تقابل جیسے پہلوؤں پر تفصیلی معلومات طلب کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوالنامے میں وزارتوں سے یہ وضاحت مانگی گئی ہے کہ مختلف شعبوں کی پیداوار کا حجم کتنا ہے، کتنی گنجائش استعمال ہو رہی ہے، کتنی غیر فعال ہے، اور اس کی وجوہات کیا ہیں۔ اسی طرح برآمدی منظرنامے پر بھی جامع ڈیٹا طلب کیا گیا ہے، جس میں پچھلے 10 سالوں کی برآمدی کارکردگی، موجودہ عالمی منڈی میں پاکستان کا حصہ، اہم برآمدی منڈیاں، مصنوعات، اور برآمدی نظام میں پاکستان کی پوزیشن شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونسل نے وزارتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان کی برآمدی مسابقت کو خطے کے ممالک جیسے بنگلہ دیش، ویتنام، ترکیہ اور انڈونیشیا کے ساتھ موازنہ کر کے واضح کریں کہ پاکستان کہاں پیچھے ہے اور کون سے عوامل کاروبار کے اخراجات یا کاروبار میں آسانی کو متاثر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی و ریگولیٹری ڈھانچے کے حوالے سے بھی سوالات کیے گئے ہیں کہ کون سے وفاقی و صوبائی ضوابط برآمدی کارکردگی میں رکاوٹ بن رہے ہیں، کون سے ان پٹ اخراجات  جیسے توانائی، مالیات، اور لاجسٹکس  بین الاقوامی سطح پر غیر مسابقتی ہیں، اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کس سطح پر موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ کونسل نے ہر وزارت سے 2039 تک کے لیے اپنے شعبے کا وژن، برآمدی اہداف، نئی منڈیاں اور مصنوعات کے حوالے سے اہدافی منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس میں تین تا چار سال کے اندر حاصل کیے جانے والے مختصر المدتی اہداف اور مرحلہ وار سرمایہ کاری کے خاکے شامل کرنے کو کہا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ برآمدات کے فروغ کے لیے کس نوعیت کی مالی، پالیسی یا غیر مالی اصلاحات کی ضرورت ہے، کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کون سے اقدامات درکار ہیں، اور سعودی سرمایہ کاری کے لیے پاکستان کون سی مراعات پیش کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق کونسل نے متعلقہ وزارتوں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ خطرات کے انتظام اور شفافیت کے لیے مؤثر نظام تجویز کریں، تاکہ پالیسی اقدامات صرف کھپت پر مبنی نمو کے بجائے برآمدی ترقی کی طرف مبذول رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مشق پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور سعودی عرب کے ساتھ طویل المدتی سرمایہ کاری تعلقات کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، جس کے نتائج آئندہ اجلاس میں وزیراعظم کو پیش کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ اسٹریٹجک اقتصادی شراکت کو حتمی شکل دینے سے قبل مختلف وفاقی وزارتوں سے درجنوں سوالات کے جوابات طلب کر لیے ہیں۔</strong></p>
<p>باخبر ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم ہاؤس میں اس حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں شرکاء کو ایک تفصیلی سوالنامہ فراہم کیا گیا تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے جامع تجزیہ تیار کیا جا سکے اور پالیسی اقدامات، مراعات اور سرمایہ کاری کے لیے ایک مربوط منصوبہ تشکیل دیا جا سکے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق اس مشق کا مقصد اہدافی شعبوں کی مکمل تشخیص اور اصلاحات کے لیے ایک مرحلہ وار اور مالیاتی لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ کونسل نے مختلف وزارتوں سے صنعتوں کی موجودہ ساخت، پیداوار، صلاحیت، ٹیکنالوجی کی سطح، خام مال کی دستیابی، برآمدات و درآمدات کے تناسب، لاگت کے ڈھانچے اور عالمی معیار سے تقابل جیسے پہلوؤں پر تفصیلی معلومات طلب کی ہیں۔</p>
<p>سوالنامے میں وزارتوں سے یہ وضاحت مانگی گئی ہے کہ مختلف شعبوں کی پیداوار کا حجم کتنا ہے، کتنی گنجائش استعمال ہو رہی ہے، کتنی غیر فعال ہے، اور اس کی وجوہات کیا ہیں۔ اسی طرح برآمدی منظرنامے پر بھی جامع ڈیٹا طلب کیا گیا ہے، جس میں پچھلے 10 سالوں کی برآمدی کارکردگی، موجودہ عالمی منڈی میں پاکستان کا حصہ، اہم برآمدی منڈیاں، مصنوعات، اور برآمدی نظام میں پاکستان کی پوزیشن شامل ہے۔</p>
<p>کونسل نے وزارتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان کی برآمدی مسابقت کو خطے کے ممالک جیسے بنگلہ دیش، ویتنام، ترکیہ اور انڈونیشیا کے ساتھ موازنہ کر کے واضح کریں کہ پاکستان کہاں پیچھے ہے اور کون سے عوامل کاروبار کے اخراجات یا کاروبار میں آسانی کو متاثر کر رہے ہیں۔</p>
<p>پالیسی و ریگولیٹری ڈھانچے کے حوالے سے بھی سوالات کیے گئے ہیں کہ کون سے وفاقی و صوبائی ضوابط برآمدی کارکردگی میں رکاوٹ بن رہے ہیں، کون سے ان پٹ اخراجات  جیسے توانائی، مالیات، اور لاجسٹکس  بین الاقوامی سطح پر غیر مسابقتی ہیں، اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کس سطح پر موجود ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ کونسل نے ہر وزارت سے 2039 تک کے لیے اپنے شعبے کا وژن، برآمدی اہداف، نئی منڈیاں اور مصنوعات کے حوالے سے اہدافی منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس میں تین تا چار سال کے اندر حاصل کیے جانے والے مختصر المدتی اہداف اور مرحلہ وار سرمایہ کاری کے خاکے شامل کرنے کو کہا گیا ہے۔</p>
<p>دستاویز میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ برآمدات کے فروغ کے لیے کس نوعیت کی مالی، پالیسی یا غیر مالی اصلاحات کی ضرورت ہے، کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کون سے اقدامات درکار ہیں، اور سعودی سرمایہ کاری کے لیے پاکستان کون سی مراعات پیش کر سکتا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق کونسل نے متعلقہ وزارتوں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ خطرات کے انتظام اور شفافیت کے لیے مؤثر نظام تجویز کریں، تاکہ پالیسی اقدامات صرف کھپت پر مبنی نمو کے بجائے برآمدی ترقی کی طرف مبذول رہیں۔</p>
<p>یہ مشق پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور سعودی عرب کے ساتھ طویل المدتی سرمایہ کاری تعلقات کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، جس کے نتائج آئندہ اجلاس میں وزیراعظم کو پیش کیے جائیں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278907</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Nov 2025 09:48:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/0409451956e43bd.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/0409451956e43bd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
