<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:34:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:34:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قرض کا جال اور اس سے نکلنے کا راستہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278894/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِاعظم شہباز شریف نے نویں فیوچر انوسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جس کا عنوان تھا کیا انسانیت صحیح سمت میں آگے بڑھ رہی ہے؟ کہا کہ پاکستان قرضوں پر انحصار جاری نہیں رکھ سکتا کیونکہ مسلسل قرض لینا معیشت کو کمزور کرتا ہے تاہم یہ بیان کسی معاشی اصول کی عکاسی نہیں کرتا, اگرچہ پاکستان کے حالات پر یہ بالکل صادق آتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ممالک خواہ ترقی یافتہ ہوں یا ترقی پذیر کمرشل مارکیٹ  اور/یا دوطرفہ  یا کثیر الجہتی اداروں سے قرض لیتے ہیں، تو اس قرض کی افادیت کا زیادہ تر انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ انتظامیہ اسے کہاں خرچ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔  اگر قرض کو درج ذیل مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو:(i) اگر قرض کو فزیکل اور سوشل انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ پیداواریت میں اضافہ کا باعث بن سکتا ہے، جو بالآخر زیادہ ٹیکس آمدن پیدا کرے گا اور اس سے سود اور اصل رقم کی بروقت ادائیگی ممکن ہوگی۔ یورپی یونین کی جانب سے امریکی صدر ٹرمپ سے حالیہ یہ وعدہ کہ وہ اپنی ابھرتی ہوئی دفاعی صنعت کو فروغ دینے کے لیے کیپٹل مارکیٹ سے 800 ارب یورو کی سرمایہ کاری کرے گی، نہ صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر بلکہ اس وجہ سے بھی تنقید کی زد میں ہے کہ اس بھاری قرضے کی لاگت نجی شعبے کی زیادہ پیداواریت سے نہیں سنبھالی جا سکے گی، کیونکہ سستی روسی گیس کی خریداری پر پابندی نے نجی پیداواریت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔(ii) اگر قرض اس مقصد کے لیے لیا جائے کہ مقروض ملک اپنے غیر پائیدار قرض برائے جی ڈی پی کے تناسب کو قابو میں لا سکے اور ممکنہ ڈیفالٹ کے خطرے کو ٹالا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل قرض لینے کی لاگت کا تعین تین بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں موڈیز، فِچ، اور اسٹینڈرڈ اینڈ پُورز  کی جانب سے دی گئی درجہ بندی سے ہوتا ہے، جو کسی ملک کی اس صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ اپنی اصل معاشی اشاریوں سے قطع نظر مناسب شرحِ سود پر قرض حاصل کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، یونان کو 2020 میں 250 فیصد قرض برائے جی ڈی پی کے تناسب کے باوجود یورپی یونین سے فنڈز تک رسائی حاصل تھی، جب کہ پاکستان، جس کا قرض برائے جی ڈی پی تناسب تقریباً 87 فیصد تھا، ایسے فنڈز حاصل نہیں کر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کا یہ بیان کہ پاکستان قرضوں پر مزید انحصار نہیں کر سکتا، ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں غلط نہیں۔ کیونکہ بیرونی قرضوں کے بغیر پاکستان اپنے سابقہ قرضوں پر واجب الادا سود اور اصل رقم (جس میں یورو بانڈز اور اجارہ سکوک کے ذریعے حاصل کردہ قرضے بھی شامل ہیں) ادا کرنے کے قابل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی بینکنگ شعبے سے لیے گئے قرضے اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کے اجراء کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم بنیادی طور پر بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ یہ خسارہ مسلسل حکومتوں، بشمول موجودہ حکومت، کی اس ناکامی کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنے جاری اخراجات میں کمی نہیں لا سکیں۔ اس پالیسی کے باعث نہ صرف نجی شعبے کے لیے قرضے حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے حالانکہ حکومتیں نجی شعبے کو ترقی کا انجن قرار دیتی ہیں بلکہ معیشت میں رقم کی فراہمی بڑھنے سے افراطِ زر میں بھی نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح حل یہ ہے کہ بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے رعایتی شرحِ سود میں کمی کے بجائے کم از کم دو کھرب روپے کے موجودہ اخراجات میں فوری کمی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے بڑے قرض دہندگان تین دوست ممالک  چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہیں جو تاریخی طور پر ہمارے ترقیاتی منصوبوں میں معاون رہے ہیں۔ خطے کی حالیہ جیو پولیٹیکل تبدیلیوں کو موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے یونان کی طرز پر ایک بیل آؤٹ پیکیج کے لیے فریم ورک تیار کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابلِ غور ہے کہ یہ تینوں دوست ممالک اپنے قرضوں کی تجدید کے لیے پاکستان کا ایک فعال آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہونا لازمی قرار دیتے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انہیں ہمارے معاشی منتظمین کی معیشت کو سنبھالنے کی صلاحیت پر اعتماد نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امید کی جاسکتی ہے کہ حکومت ان تینوں ممالک کے ساتھ فعال انداز میں رابطہ کرے جیسا کہ وزیرِاعظم نے 2023 میں اس وقت کیا تھا جب اُس وقت کے وزیرِ خزانہ نے جاری آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کی خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں نویں جائزہ معطل کر دیا گیا تھا۔ایک ممکنہ راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کی ساختی خامیوں کو ان تین بڑے قرض دہندگان کے سامنے پیش کرے اور انہیں یقین دلائے کہ حکومت اصلاحات کے لیے پُرعزم ہے، اس عزم کو ثابت کرنے کے لیے وہ گھریلو سطح پر “نئے، تخلیقی اور وقت کے تعین کے ساتھ” اصلاحی اقدامات کا متبادل خاکہ پیش کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِاعظم شہباز شریف نے نویں فیوچر انوسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جس کا عنوان تھا کیا انسانیت صحیح سمت میں آگے بڑھ رہی ہے؟ کہا کہ پاکستان قرضوں پر انحصار جاری نہیں رکھ سکتا کیونکہ مسلسل قرض لینا معیشت کو کمزور کرتا ہے تاہم یہ بیان کسی معاشی اصول کی عکاسی نہیں کرتا, اگرچہ پاکستان کے حالات پر یہ بالکل صادق آتا ہے۔</strong></p>
<p>جب ممالک خواہ ترقی یافتہ ہوں یا ترقی پذیر کمرشل مارکیٹ  اور/یا دوطرفہ  یا کثیر الجہتی اداروں سے قرض لیتے ہیں، تو اس قرض کی افادیت کا زیادہ تر انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ انتظامیہ اسے کہاں خرچ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔  اگر قرض کو درج ذیل مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو:(i) اگر قرض کو فزیکل اور سوشل انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ پیداواریت میں اضافہ کا باعث بن سکتا ہے، جو بالآخر زیادہ ٹیکس آمدن پیدا کرے گا اور اس سے سود اور اصل رقم کی بروقت ادائیگی ممکن ہوگی۔ یورپی یونین کی جانب سے امریکی صدر ٹرمپ سے حالیہ یہ وعدہ کہ وہ اپنی ابھرتی ہوئی دفاعی صنعت کو فروغ دینے کے لیے کیپٹل مارکیٹ سے 800 ارب یورو کی سرمایہ کاری کرے گی، نہ صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر بلکہ اس وجہ سے بھی تنقید کی زد میں ہے کہ اس بھاری قرضے کی لاگت نجی شعبے کی زیادہ پیداواریت سے نہیں سنبھالی جا سکے گی، کیونکہ سستی روسی گیس کی خریداری پر پابندی نے نجی پیداواریت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔(ii) اگر قرض اس مقصد کے لیے لیا جائے کہ مقروض ملک اپنے غیر پائیدار قرض برائے جی ڈی پی کے تناسب کو قابو میں لا سکے اور ممکنہ ڈیفالٹ کے خطرے کو ٹالا جا سکے۔</p>
<p>اصل قرض لینے کی لاگت کا تعین تین بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں موڈیز، فِچ، اور اسٹینڈرڈ اینڈ پُورز  کی جانب سے دی گئی درجہ بندی سے ہوتا ہے، جو کسی ملک کی اس صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ اپنی اصل معاشی اشاریوں سے قطع نظر مناسب شرحِ سود پر قرض حاصل کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، یونان کو 2020 میں 250 فیصد قرض برائے جی ڈی پی کے تناسب کے باوجود یورپی یونین سے فنڈز تک رسائی حاصل تھی، جب کہ پاکستان، جس کا قرض برائے جی ڈی پی تناسب تقریباً 87 فیصد تھا، ایسے فنڈز حاصل نہیں کر سکا۔</p>
<p>وزیراعظم کا یہ بیان کہ پاکستان قرضوں پر مزید انحصار نہیں کر سکتا، ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں غلط نہیں۔ کیونکہ بیرونی قرضوں کے بغیر پاکستان اپنے سابقہ قرضوں پر واجب الادا سود اور اصل رقم (جس میں یورو بانڈز اور اجارہ سکوک کے ذریعے حاصل کردہ قرضے بھی شامل ہیں) ادا کرنے کے قابل نہیں۔</p>
<p>مقامی بینکنگ شعبے سے لیے گئے قرضے اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کے اجراء کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم بنیادی طور پر بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ یہ خسارہ مسلسل حکومتوں، بشمول موجودہ حکومت، کی اس ناکامی کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنے جاری اخراجات میں کمی نہیں لا سکیں۔ اس پالیسی کے باعث نہ صرف نجی شعبے کے لیے قرضے حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے حالانکہ حکومتیں نجی شعبے کو ترقی کا انجن قرار دیتی ہیں بلکہ معیشت میں رقم کی فراہمی بڑھنے سے افراطِ زر میں بھی نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔</p>
<p>واضح حل یہ ہے کہ بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے رعایتی شرحِ سود میں کمی کے بجائے کم از کم دو کھرب روپے کے موجودہ اخراجات میں فوری کمی کی جائے۔</p>
<p>پاکستان کے بڑے قرض دہندگان تین دوست ممالک  چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہیں جو تاریخی طور پر ہمارے ترقیاتی منصوبوں میں معاون رہے ہیں۔ خطے کی حالیہ جیو پولیٹیکل تبدیلیوں کو موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے یونان کی طرز پر ایک بیل آؤٹ پیکیج کے لیے فریم ورک تیار کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>یہ بات قابلِ غور ہے کہ یہ تینوں دوست ممالک اپنے قرضوں کی تجدید کے لیے پاکستان کا ایک فعال آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہونا لازمی قرار دیتے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انہیں ہمارے معاشی منتظمین کی معیشت کو سنبھالنے کی صلاحیت پر اعتماد نہیں۔</p>
<p>امید کی جاسکتی ہے کہ حکومت ان تینوں ممالک کے ساتھ فعال انداز میں رابطہ کرے جیسا کہ وزیرِاعظم نے 2023 میں اس وقت کیا تھا جب اُس وقت کے وزیرِ خزانہ نے جاری آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کی خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں نویں جائزہ معطل کر دیا گیا تھا۔ایک ممکنہ راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کی ساختی خامیوں کو ان تین بڑے قرض دہندگان کے سامنے پیش کرے اور انہیں یقین دلائے کہ حکومت اصلاحات کے لیے پُرعزم ہے، اس عزم کو ثابت کرنے کے لیے وہ گھریلو سطح پر “نئے، تخلیقی اور وقت کے تعین کے ساتھ” اصلاحی اقدامات کا متبادل خاکہ پیش کرے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278894</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Nov 2025 13:32:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/03131625cc68202.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/03131625cc68202.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
