<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>100 ارب ڈالر کا ریونیو ہدف، پورٹ قاسم کو جدید خطوط پر استوار کیا جائیگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278890/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر  بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ پورٹ قاسم کو جدید ترین خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے ، تاکہ پاکستان کے 100 ارب ڈالر کے ریونیو ہدف میں سے کم از کم نصف حاصل کرنے میں مدد ملے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بندرگاہ اب ایک اہم صنعتی اور تجارتی مرکز کے طور پر ابھر رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر بحری امور نے بطور مہمانِ خصوصی  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ پورٹ قاسم کو عالمی سطح پر کنٹینر پورٹس میں کارکردگی کے لحاظ سے نویں سب سے زیادہ بہتر بندرگاہ تسلیم کیا گیا ہے، جو جاری اصلاحات اور جدیدیت کی کامیابی کا مظہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  پورٹ قاسم نے اپنی کارکردگی کا اسکور 35.2 پوائنٹس بڑھایا ہے، جس سے  ظاہر ہوتا ہے کہ مال برداری کے قیام کے وقت میں کمی، برتھ آپریشنز کی بہتری اور ڈیجیٹل انتظامی نظام کے نفاذ میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید چوہدری نے کہا کہ حکومت کا مقصد پورٹ قاسم کو علاقائی تجارتی اور صنعتی گیٹ وے میں تبدیل کرنا ہے جو انفرااسٹرکچر میں توسیع، صنعتی ترقی اور ماحول دوست سمندری اقدامات کے ذریعے ملکی معیشت کی ترقی میں کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس بندرگاہ کی اسٹریٹجک لوکیشن اور صنعتی کمپلیکس کی بدولت یہ قومی آمدنی کے ہدف میں بڑا حصہ ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر نے مزید کہا کہ حکومت نے آئندہ دس سالوں میں 13 ارب ڈالر کی بچت کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے لیے ملک کا پہلا  سی ٹو اسٹیل گرین میری ٹائم انڈسٹریل کوریڈور قائم کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت بندرگاہ کی سرگرمیوں کو صنعتی پیداوار سے جوڑا جائے گا، تاکہ سمندری لاجسٹکس سے لے کر اسٹیل مینوفیکچرنگ تک ایک مسلسل ویلیو چین قائم ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کے دوسرے مرحلے میں آئرن اور کوئلے کی برتھ (آئی او سی بی) ٹرمینل کی بحالی عمل میں لائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وہاں ایک انٹیگریٹڈ میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس (آئی ایم آئی سی) قائم کیا جائے گا، جو جہازوں کی ری سائیکلنگ کو اسٹیل کی تیاری سے جوڑ کر مقامی پیداوار بڑھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر  بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ پورٹ قاسم کو جدید ترین خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے ، تاکہ پاکستان کے 100 ارب ڈالر کے ریونیو ہدف میں سے کم از کم نصف حاصل کرنے میں مدد ملے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بندرگاہ اب ایک اہم صنعتی اور تجارتی مرکز کے طور پر ابھر رہی ہے۔</strong></p>
<p>وزیر بحری امور نے بطور مہمانِ خصوصی  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ پورٹ قاسم کو عالمی سطح پر کنٹینر پورٹس میں کارکردگی کے لحاظ سے نویں سب سے زیادہ بہتر بندرگاہ تسلیم کیا گیا ہے، جو جاری اصلاحات اور جدیدیت کی کامیابی کا مظہر ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  پورٹ قاسم نے اپنی کارکردگی کا اسکور 35.2 پوائنٹس بڑھایا ہے، جس سے  ظاہر ہوتا ہے کہ مال برداری کے قیام کے وقت میں کمی، برتھ آپریشنز کی بہتری اور ڈیجیٹل انتظامی نظام کے نفاذ میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔</p>
<p>جنید چوہدری نے کہا کہ حکومت کا مقصد پورٹ قاسم کو علاقائی تجارتی اور صنعتی گیٹ وے میں تبدیل کرنا ہے جو انفرااسٹرکچر میں توسیع، صنعتی ترقی اور ماحول دوست سمندری اقدامات کے ذریعے ملکی معیشت کی ترقی میں کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس بندرگاہ کی اسٹریٹجک لوکیشن اور صنعتی کمپلیکس کی بدولت یہ قومی آمدنی کے ہدف میں بڑا حصہ ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>وزیر نے مزید کہا کہ حکومت نے آئندہ دس سالوں میں 13 ارب ڈالر کی بچت کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے لیے ملک کا پہلا  سی ٹو اسٹیل گرین میری ٹائم انڈسٹریل کوریڈور قائم کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت بندرگاہ کی سرگرمیوں کو صنعتی پیداوار سے جوڑا جائے گا، تاکہ سمندری لاجسٹکس سے لے کر اسٹیل مینوفیکچرنگ تک ایک مسلسل ویلیو چین قائم ہو۔</p>
<p>منصوبے کے دوسرے مرحلے میں آئرن اور کوئلے کی برتھ (آئی او سی بی) ٹرمینل کی بحالی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وہاں ایک انٹیگریٹڈ میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس (آئی ایم آئی سی) قائم کیا جائے گا، جو جہازوں کی ری سائیکلنگ کو اسٹیل کی تیاری سے جوڑ کر مقامی پیداوار بڑھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد دے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278890</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Nov 2025 13:36:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/031242410cc5c5f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/031242410cc5c5f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
