<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اربوں ڈالر کا منصوبہ، پہلی چینی آبدوز آئندہ برس پاک بحریہ کے بیڑے میں شامل ہوجائیگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278889/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ چین کے ڈیزائن کردہ آبدوز  آئندہ سال پاک بحری بیڑے میں شامل ہو جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈمرل نوید اشرف نے اتوار کو  چینی اخبار گلوبل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ معاہدہ جس کے تحت اسلام آباد کو 2028 تک 8 ہنگور کلاس آبدوزیں فراہم کی جائیں گی خوش اسلوبی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آبدوزیں پاکستان کی شمالی بحیرہ عرب اور بحرِ ہند میں نگرانی اور گشت کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی آبدوزوں سے متعلق یہ تازہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پاک فضائیہ نے مئی میں چینی ساختہ جے 10 لڑاکا طیاروں کا استعمال کرتے ہوئے بھارت کے فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے کو مار گرایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوہری ہتھیاروں سے لیس ان دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اس جھڑپ نے عسکری حلقوں کو حیران کر دیا اور مغربی ساختہ ہتھیاروں کے مقابلے میں چینی دفاعی ٹیکنالوجی کی برتری پر نئے سوالات اٹھا دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق تقریباً 5 ارب ڈالر مالیت کے اس آبدوز معاہدے کے تحت پہلی چار ڈیزل الیکٹرک اٹیک آبدوزیں چین میں تیار کی جائیں گی جبکہ باقی آبدوزیں پاکستان میں اسمبل کی جائیں گی تاکہ ملک کی تکنیکی اور صنعتی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پہلے ہی ان آبدوزوں میں سے تین کو چین کے صوبہ ہو بی کے ایک شپ یارڈ سے یانگ ژی دریا میں لانچ کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈمرل نوید اشرف نے  گلوبل ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ چینی ساختہ پلیٹ فارمز اور ساز و سامان قابلِ اعتماد، تکنیکی طور پر جدید اور پاکستان نیوی کی عملی ضروریات کے عین مطابق ثابت ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگ کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ اب نئی ٹیکنالوجیز  جیسے بغیر عملے کے نظام، مصنوعی ذہانت  اور ایڈوانسڈ الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز  تیزی سے اہمیت اختیار کر رہی ہیں۔ پاکستان نیوی ان ٹیکنالوجیز پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور چین کے ساتھ تعاون کے نئے مواقع تلاش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق اسلام آباد طویل عرصے سے بیجنگ کا سب سے بڑا دفاعی خریدار رہا ہے اور 2020 سے 2024 کے درمیان پاکستان نے چین کی 60 فیصد سے زائد اسلحہ برآمدات خریدی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اربوں ڈالر کا عسکری و معاشی اشتراک&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین نے نہ صرف اربوں ڈالر کے ہتھیار پاکستان کو فروخت کیے ہیں بلکہ اس نے بحیرہ عرب تک اپنی رسائی مضبوط بنانے کے لیے 3 ہزار کلومیٹر طویل اقتصادی راہداری (چین کے سنکیانگ سے پاکستان کی گہرے پانیوں والی بندرگاہ گوادر تک) میں بھی بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انفرااسٹرکچر پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد دنیا کے سب سے بڑے توانائی درآمد کنندہ ملک، چین، کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی فراہمی کا ایک ایسا متبادل راستہ بنانا ہے جو ملائیشیا اور انڈونیشیا کے درمیان واقع آبنائے ملاکا کو بائی پاس کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ چین کے اثر و رسوخ کو افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا تک بڑھاتا ہے اور میانمار کی فوجی حکومت اور بنگلہ دیش سے خوشگوار تعلقات کے تناظر میں بھارت کے گرد ایک مؤثر جغرافیائی دائرہ قائم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اس وقت تین مقامی طور پر تیار کردہ جوہری آبدوزوں کے علاوہ تین اقسام کی ڈیزل الیکٹرک اٹیک آبدوزیں بھی چلا رہا ہے جو اس نے گزشتہ دہائیوں میں فرانس، جرمنی اور روس کے اشتراک سے حاصل یا تیار کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ چین کے ساتھ یہ تعاون محض ہارڈ ویئر تک محدود نہیں،  یہ ایک مشترکہ اسٹریٹیجک وژن، باہمی اعتماد اور دیرینہ شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ آنے والی دہائی میں ہمیں توقع ہے کہ یہ تعلق مزید مضبوط ہوگا جس میں جہاز سازی، تربیت، باہمی ہم آہنگی، تحقیق، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور صنعتی اشتراک کے نئے پہلو شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ چین کے ڈیزائن کردہ آبدوز  آئندہ سال پاک بحری بیڑے میں شامل ہو جائے گی۔</strong></p>
<p>ایڈمرل نوید اشرف نے اتوار کو  چینی اخبار گلوبل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ معاہدہ جس کے تحت اسلام آباد کو 2028 تک 8 ہنگور کلاس آبدوزیں فراہم کی جائیں گی خوش اسلوبی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آبدوزیں پاکستان کی شمالی بحیرہ عرب اور بحرِ ہند میں نگرانی اور گشت کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کریں گی۔</p>
<p>چینی آبدوزوں سے متعلق یہ تازہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پاک فضائیہ نے مئی میں چینی ساختہ جے 10 لڑاکا طیاروں کا استعمال کرتے ہوئے بھارت کے فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے کو مار گرایا تھا۔</p>
<p>جوہری ہتھیاروں سے لیس ان دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اس جھڑپ نے عسکری حلقوں کو حیران کر دیا اور مغربی ساختہ ہتھیاروں کے مقابلے میں چینی دفاعی ٹیکنالوجی کی برتری پر نئے سوالات اٹھا دیے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق تقریباً 5 ارب ڈالر مالیت کے اس آبدوز معاہدے کے تحت پہلی چار ڈیزل الیکٹرک اٹیک آبدوزیں چین میں تیار کی جائیں گی جبکہ باقی آبدوزیں پاکستان میں اسمبل کی جائیں گی تاکہ ملک کی تکنیکی اور صنعتی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا سکے۔</p>
<p>پاکستان پہلے ہی ان آبدوزوں میں سے تین کو چین کے صوبہ ہو بی کے ایک شپ یارڈ سے یانگ ژی دریا میں لانچ کر چکا ہے۔</p>
<p>ایڈمرل نوید اشرف نے  گلوبل ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ چینی ساختہ پلیٹ فارمز اور ساز و سامان قابلِ اعتماد، تکنیکی طور پر جدید اور پاکستان نیوی کی عملی ضروریات کے عین مطابق ثابت ہوئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگ کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ اب نئی ٹیکنالوجیز  جیسے بغیر عملے کے نظام، مصنوعی ذہانت  اور ایڈوانسڈ الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز  تیزی سے اہمیت اختیار کر رہی ہیں۔ پاکستان نیوی ان ٹیکنالوجیز پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور چین کے ساتھ تعاون کے نئے مواقع تلاش کر رہی ہے۔</p>
<p>اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق اسلام آباد طویل عرصے سے بیجنگ کا سب سے بڑا دفاعی خریدار رہا ہے اور 2020 سے 2024 کے درمیان پاکستان نے چین کی 60 فیصد سے زائد اسلحہ برآمدات خریدی ہیں۔</p>
<p><strong>اربوں ڈالر کا عسکری و معاشی اشتراک</strong></p>
<p>چین نے نہ صرف اربوں ڈالر کے ہتھیار پاکستان کو فروخت کیے ہیں بلکہ اس نے بحیرہ عرب تک اپنی رسائی مضبوط بنانے کے لیے 3 ہزار کلومیٹر طویل اقتصادی راہداری (چین کے سنکیانگ سے پاکستان کی گہرے پانیوں والی بندرگاہ گوادر تک) میں بھی بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔</p>
<p>یہ منصوبہ صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انفرااسٹرکچر پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد دنیا کے سب سے بڑے توانائی درآمد کنندہ ملک، چین، کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی فراہمی کا ایک ایسا متبادل راستہ بنانا ہے جو ملائیشیا اور انڈونیشیا کے درمیان واقع آبنائے ملاکا کو بائی پاس کر سکے۔</p>
<p>یہ منصوبہ چین کے اثر و رسوخ کو افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا تک بڑھاتا ہے اور میانمار کی فوجی حکومت اور بنگلہ دیش سے خوشگوار تعلقات کے تناظر میں بھارت کے گرد ایک مؤثر جغرافیائی دائرہ قائم کرتا ہے۔</p>
<p>بھارت اس وقت تین مقامی طور پر تیار کردہ جوہری آبدوزوں کے علاوہ تین اقسام کی ڈیزل الیکٹرک اٹیک آبدوزیں بھی چلا رہا ہے جو اس نے گزشتہ دہائیوں میں فرانس، جرمنی اور روس کے اشتراک سے حاصل یا تیار کی ہیں۔</p>
<p>ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ چین کے ساتھ یہ تعاون محض ہارڈ ویئر تک محدود نہیں،  یہ ایک مشترکہ اسٹریٹیجک وژن، باہمی اعتماد اور دیرینہ شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ آنے والی دہائی میں ہمیں توقع ہے کہ یہ تعلق مزید مضبوط ہوگا جس میں جہاز سازی، تربیت، باہمی ہم آہنگی، تحقیق، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور صنعتی اشتراک کے نئے پہلو شامل ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278889</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Nov 2025 19:14:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/031239032285d6e.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/031239032285d6e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
