<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین اور دیگر ممالک کو این ویڈیا کی جدید ترین اے آئی چِپس نہیں ملیں گے، ٹرمپ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278885/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی عالمی کمپنی این ویڈیا (Nvidia) کے جدید ترین چِپس صرف امریکی کمپنیوں کے لیے مخصوص ہوں گے اور چین سمیت دیگر ممالک کو فراہم نہیں کیے جائیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی بی ایس کے پروگرام 60 منٹس میں نشر ہونے والے ایک انٹرویو اور فلوریڈا سے واپسی کے دوران طیارے میں صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ این ویڈیا کے جدید ترین بلیک ویل  چپس صرف امریکہ میں دستیاب ہوں گے۔ ان کے مطابق ہم کسی اور کو یہ جدید چپس نہیں دیں گے، صرف امریکہ کے لیے رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے اس بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ امریکی حکام کے پہلے اشاروں کے مقابلے میں زیادہ سخت برآمدی پابندیاں عائد کر سکتے ہیں، جن کے تحت چین اور دیگر ممالک کو اعلیٰ درجے کے سیمی کنڈکٹرز تک رسائی نہیں ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایک نیا مصنوعی ذہانت کا خاکہ جاری کیا تھا جس کا مقصد اتحادی ممالک کو اے آئی ٹیکنالوجی کی برآمدات میں اضافہ اور چین پر امریکی برتری کو برقرار رکھنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ جمعہ کو این ویڈیا نے اعلان کیا تھا کہ وہ جنوبی کوریا کی کمپنیوں، جن میں سام سنگ الیکٹرونکس بھی شامل ہے، کو 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد بلیک ویل چپس فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ وہ چین کو جدید ترین چپس فروخت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، البتہ کم طاقتور ورژن کی فروخت ممکن ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن میں چین مخالف حلقوں نے اس امکان پر تنقید کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ چین کو یہ ٹیکنالوجی دینا اس کی فوجی اور اے آئی صلاحیتوں کو تیز رفتار سے بڑھا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ نے کہا کہ کمپنی نے چین کے لیے کوئی برآمدی اجازت نامہ نہیں مانگا کیونکہ بیجنگ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت امریکی کمپنی کے ساتھ کاروبار نہیں چاہتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی عالمی کمپنی این ویڈیا (Nvidia) کے جدید ترین چِپس صرف امریکی کمپنیوں کے لیے مخصوص ہوں گے اور چین سمیت دیگر ممالک کو فراہم نہیں کیے جائیں گے۔</strong></p>
<p>سی بی ایس کے پروگرام 60 منٹس میں نشر ہونے والے ایک انٹرویو اور فلوریڈا سے واپسی کے دوران طیارے میں صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ این ویڈیا کے جدید ترین بلیک ویل  چپس صرف امریکہ میں دستیاب ہوں گے۔ ان کے مطابق ہم کسی اور کو یہ جدید چپس نہیں دیں گے، صرف امریکہ کے لیے رکھیں گے۔</p>
<p>ٹرمپ کے اس بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ امریکی حکام کے پہلے اشاروں کے مقابلے میں زیادہ سخت برآمدی پابندیاں عائد کر سکتے ہیں، جن کے تحت چین اور دیگر ممالک کو اعلیٰ درجے کے سیمی کنڈکٹرز تک رسائی نہیں ملے گی۔</p>
<p>جولائی میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایک نیا مصنوعی ذہانت کا خاکہ جاری کیا تھا جس کا مقصد اتحادی ممالک کو اے آئی ٹیکنالوجی کی برآمدات میں اضافہ اور چین پر امریکی برتری کو برقرار رکھنا تھا۔</p>
<p>گزشتہ جمعہ کو این ویڈیا نے اعلان کیا تھا کہ وہ جنوبی کوریا کی کمپنیوں، جن میں سام سنگ الیکٹرونکس بھی شامل ہے، کو 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد بلیک ویل چپس فراہم کرے گی۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ وہ چین کو جدید ترین چپس فروخت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، البتہ کم طاقتور ورژن کی فروخت ممکن ہو سکتی ہے۔</p>
<p>واشنگٹن میں چین مخالف حلقوں نے اس امکان پر تنقید کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ چین کو یہ ٹیکنالوجی دینا اس کی فوجی اور اے آئی صلاحیتوں کو تیز رفتار سے بڑھا سکتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ نے کہا کہ کمپنی نے چین کے لیے کوئی برآمدی اجازت نامہ نہیں مانگا کیونکہ بیجنگ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت امریکی کمپنی کے ساتھ کاروبار نہیں چاہتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278885</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Nov 2025 12:01:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/031158583e61d8a.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/031158583e61d8a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
