<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 04:50:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 04:50:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معاشی نمو کا سراب، جب سرمایہ کاری حقیقت سے ٹکراتی ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278880/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی معیشت ایک کم شرحِ نمو کے جمود میں پھنس چکی ہے۔ حکومت اس جمود کو توڑ کر توسیع کا عمل شروع کرنا چاہتی ہے، اور دارالحکومت کے جڑواں شہروں میں ترقی کے عمل کو تیز کرنے کی سرگرمیاں بھی دکھائی دے رہی ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی کوشش بامعنی نتائج نہیں دے رہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی دباؤ اور کمزور ادائیگیوں کے توازن کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر پالیسی سازوں کو سخت مالی اور مانیٹری پالیسی برقرار رکھنی پڑ رہی ہے ، یعنی بنیادی مالیاتی سرپلس اور حقیقی مثبت سود کی شرحیں قائم رکھنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب حکومت کی امیدیں سرمایہ کاری پر لگی ہوئی ہیں، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کے دوست ممالک سے، تاکہ مالی اور بیرونی کھاتوں کے دباؤ میں کچھ گنجائش پیدا کی جا سکے۔ سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدے کے بعد اسلام آباد کے ایوانوں میں ممکنہ سرمایہ کاری اور قرضوں کی آمد کے حوالے سے ایک نئی امید نے جنم لیا۔ کچھ حلقے تو یہاں تک کہنے لگے کہ پاکستان اپنے مشرقِ وسطیٰ کے تعلقات کو بروئے کار لا کر آئی ایم ایف پروگرام سے نکلنے کا راستہ تلاش کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ایک سعودی کاروباری وفد نے اسلام آباد، لاہور اور کراچی کا دورہ کیا، جہاں اس نے حکومتی اہلکاروں اور نجی شعبے کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ چند دنوں کے لیے جوش و خروش بڑھ گیا اور مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کی باتیں ہونے لگیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر چند ہی ہفتوں بعد فضا بدل گئی۔ دونوں جانب کے کاروباری حلقوں نے یہ حقیقت تسلیم کر لی کہ پاکستان میں صنعتی پیداوار تجارتی لحاظ سے منافع بخش نہیں رہی۔ زیادہ تر مشترکہ منصوبے سعودی عرب میں زیادہ موزوں دکھائی دیتے ہیں، جہاں توانائی کی لاگت صرف 6 سے 7 سینٹ فی یونٹ ہے اور ٹیکس کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک تجویز کردہ منصوبے کی مثال لیجیے  ایک پیٹروکیمیکل پارٹنرشپ جو پاکستان میں اسپورٹس وئیر کے پیداواری عمل کا حصہ بننی تھی۔ مگر حساب کتاب کے بعد سرمایہ کاروں نے نتیجہ نکالا کہ پلانٹ سعودی عرب میں لگانا زیادہ بہتر ہے، اور اگر پاکستان کو شامل بھی کرنا ہو تو صرف سلائی یا فائنشنگ کا مرحلہ یہاں رکھا جائے  یا پھر مصر میں، جو جغرافیائی طور پر خلیجی منڈیوں کے زیادہ قریب ہے۔ نتیجہ واضح ہے: روزگار اور صنعتی قدر میں اضافہ پاکستان کی پہنچ سے دور جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی سرمایہ کار زراعت اور کان کنی کے شعبوں میں دلچسپی ضرور دکھا رہے ہیں، خاص طور پر اپنی فوڈ سیکیورٹی کے لیے بیک ورڈ لنکیجز کے طور پر، مگر مینوفیکچرنگ میں دلچسپی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ پاکستان کے بڑے صنعت کار بھی نجی طور پر تسلیم کر رہے ہیں کہ برآمدی شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کرنا نامناسب ہے کیونکہ توانائی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں اور ٹیکس کا بوجھ ناقابلِ برداشت۔ کچھ سرمایہ کار تو اب بیرونِ ملک سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک معروف ٹیکسٹائل برآمدکنندہ جو چند ہفتے قبل سعودی سرمایہ کاری کے حوالے سے پرامید تھا، اب مایوس لہجے میں کہتا ہے: مجھے خدشہ ہے کہ پاکستان میں صنعتیں باقی نہیں رہیں گی۔ یہ جملہ اس بدلتے ہوئے مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسٹائل کے شعبے میں سرمایہ کاری کے ماحول کے بارے میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ وہ صنعت کار جو ابتدا میں اس حکومت کے حامی تھے، اب اسے سب سے زیادہ برآمد مخالف حکومت قرار دے رہے ہیں۔ وہ اب صرف موجودہ کاروبار کو برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، توسیع کا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی مارکیٹ کے لیے کام کرنے والی کمپنیوں کو بھی کمزور طلب کا سامنا ہے۔ چند ایسے شعبے ہیں جہاں ٹیرف کے تحفظ نے سرمایہ کاری کو سہارا دیا ہے، لیکن مجموعی طور پر نئے منصوبے ناپید ہیں۔ عوامی قوت خرید کی کمزوری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مگر طلب بڑھانے کے لیے معیشت کا بڑھنا ضروری ہے  اور یہی وہ تضاد ہے جو پاکستان کی پالیسی کی بنیادی الجھن بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معیشت ایک ہی دائرے میں گھوم رہی ہے، اور صرف ٹیکس اور توانائی کے شعبوں میں ٹھوس ملکی اصلاحات ہی اسے اس چکر سے باہر نکال سکتی ہیں۔ روایتی معاشی ماڈل اب ناکام ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;ادھر حکومت خود بھی سمت کھو چکی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ایف بی آر کی کمزور وصولیوں کے باعث جنوری سے نئے ٹیکس لگانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ وزیراعظم بیک وقت سرمایہ اور ہنر کے انخلا کو روکنے کے لیے ٹیکس ریٹس پر نظرِ ثانی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تضاد کھل کر سامنے آ رہا ہے  حکومت ایک ہی وقت میں ٹیکس بڑھا بھی رہی ہے اور کم بھی کرنا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;ایک جانب غیر ملکی سرمایہ کاروں، خصوصاً سعودیوں کے لیے سرخ قالین بچھائے جا رہے ہیں، تو دوسری جانب حکومت نے کے-الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف میں سخت نظرثانی کر کے توانائی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ متضاد اشارے غیر یقینی فضا کو مزید بڑھا رہے ہیں اور سرمایہ کو ملک سے باہر دھکیل رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کے شعبے میں اصلاحات تاحال غائب ہیں۔ آئی ایم ایف کے منظور شدہ فل کاسٹ ریکوری ماڈل نے صنعتی بجلی کے ڈھانچے کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ ایسی صورت حال میں کوئی نجی سرمایہ کار  چاہے جغرافیائی دوستی کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو  اس وقت تک سرمایہ نہیں لگائے گا جب تک تجارتی طور پر اسے نفع نظر نہ آئے۔ سعودی سرمایہ کاری کی بڑی امید ایک بار پھر محض خواہشات کی معیشت میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں، یوں لگتا ہے جیسے پاکستان سرمایہ کاری کو اسی طرح تلاش کر رہا ہے جیسے وہ کرکٹ میں معجزے ڈھونڈتا ہے جب اسکور بورڈ خود ہی ساری کہانی بیان کر رہا ہوتا ہے، تب بھی کسی غیبی مدد کا انتظار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی معیشت ایک کم شرحِ نمو کے جمود میں پھنس چکی ہے۔ حکومت اس جمود کو توڑ کر توسیع کا عمل شروع کرنا چاہتی ہے، اور دارالحکومت کے جڑواں شہروں میں ترقی کے عمل کو تیز کرنے کی سرگرمیاں بھی دکھائی دے رہی ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی کوشش بامعنی نتائج نہیں دے رہی۔</strong></p>
<p>مالیاتی دباؤ اور کمزور ادائیگیوں کے توازن کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر پالیسی سازوں کو سخت مالی اور مانیٹری پالیسی برقرار رکھنی پڑ رہی ہے ، یعنی بنیادی مالیاتی سرپلس اور حقیقی مثبت سود کی شرحیں قائم رکھنا۔</p>
<p>اب حکومت کی امیدیں سرمایہ کاری پر لگی ہوئی ہیں، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کے دوست ممالک سے، تاکہ مالی اور بیرونی کھاتوں کے دباؤ میں کچھ گنجائش پیدا کی جا سکے۔ سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدے کے بعد اسلام آباد کے ایوانوں میں ممکنہ سرمایہ کاری اور قرضوں کی آمد کے حوالے سے ایک نئی امید نے جنم لیا۔ کچھ حلقے تو یہاں تک کہنے لگے کہ پاکستان اپنے مشرقِ وسطیٰ کے تعلقات کو بروئے کار لا کر آئی ایم ایف پروگرام سے نکلنے کا راستہ تلاش کر سکتا ہے۔</p>
<p>حال ہی میں ایک سعودی کاروباری وفد نے اسلام آباد، لاہور اور کراچی کا دورہ کیا، جہاں اس نے حکومتی اہلکاروں اور نجی شعبے کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ چند دنوں کے لیے جوش و خروش بڑھ گیا اور مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کی باتیں ہونے لگیں۔</p>
<p>مگر چند ہی ہفتوں بعد فضا بدل گئی۔ دونوں جانب کے کاروباری حلقوں نے یہ حقیقت تسلیم کر لی کہ پاکستان میں صنعتی پیداوار تجارتی لحاظ سے منافع بخش نہیں رہی۔ زیادہ تر مشترکہ منصوبے سعودی عرب میں زیادہ موزوں دکھائی دیتے ہیں، جہاں توانائی کی لاگت صرف 6 سے 7 سینٹ فی یونٹ ہے اور ٹیکس کم ہیں۔</p>
<p>ایک تجویز کردہ منصوبے کی مثال لیجیے  ایک پیٹروکیمیکل پارٹنرشپ جو پاکستان میں اسپورٹس وئیر کے پیداواری عمل کا حصہ بننی تھی۔ مگر حساب کتاب کے بعد سرمایہ کاروں نے نتیجہ نکالا کہ پلانٹ سعودی عرب میں لگانا زیادہ بہتر ہے، اور اگر پاکستان کو شامل بھی کرنا ہو تو صرف سلائی یا فائنشنگ کا مرحلہ یہاں رکھا جائے  یا پھر مصر میں، جو جغرافیائی طور پر خلیجی منڈیوں کے زیادہ قریب ہے۔ نتیجہ واضح ہے: روزگار اور صنعتی قدر میں اضافہ پاکستان کی پہنچ سے دور جا رہا ہے۔</p>
<p>سعودی سرمایہ کار زراعت اور کان کنی کے شعبوں میں دلچسپی ضرور دکھا رہے ہیں، خاص طور پر اپنی فوڈ سیکیورٹی کے لیے بیک ورڈ لنکیجز کے طور پر، مگر مینوفیکچرنگ میں دلچسپی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ پاکستان کے بڑے صنعت کار بھی نجی طور پر تسلیم کر رہے ہیں کہ برآمدی شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کرنا نامناسب ہے کیونکہ توانائی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں اور ٹیکس کا بوجھ ناقابلِ برداشت۔ کچھ سرمایہ کار تو اب بیرونِ ملک سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔</p>
<p>ایک معروف ٹیکسٹائل برآمدکنندہ جو چند ہفتے قبل سعودی سرمایہ کاری کے حوالے سے پرامید تھا، اب مایوس لہجے میں کہتا ہے: مجھے خدشہ ہے کہ پاکستان میں صنعتیں باقی نہیں رہیں گی۔ یہ جملہ اس بدلتے ہوئے مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>ٹیکسٹائل کے شعبے میں سرمایہ کاری کے ماحول کے بارے میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ وہ صنعت کار جو ابتدا میں اس حکومت کے حامی تھے، اب اسے سب سے زیادہ برآمد مخالف حکومت قرار دے رہے ہیں۔ وہ اب صرف موجودہ کاروبار کو برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، توسیع کا نہیں۔</p>
<p>مقامی مارکیٹ کے لیے کام کرنے والی کمپنیوں کو بھی کمزور طلب کا سامنا ہے۔ چند ایسے شعبے ہیں جہاں ٹیرف کے تحفظ نے سرمایہ کاری کو سہارا دیا ہے، لیکن مجموعی طور پر نئے منصوبے ناپید ہیں۔ عوامی قوت خرید کی کمزوری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مگر طلب بڑھانے کے لیے معیشت کا بڑھنا ضروری ہے  اور یہی وہ تضاد ہے جو پاکستان کی پالیسی کی بنیادی الجھن بن چکا ہے۔</p>
<p>معیشت ایک ہی دائرے میں گھوم رہی ہے، اور صرف ٹیکس اور توانائی کے شعبوں میں ٹھوس ملکی اصلاحات ہی اسے اس چکر سے باہر نکال سکتی ہیں۔ روایتی معاشی ماڈل اب ناکام ہو چکا ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>ادھر حکومت خود بھی سمت کھو چکی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ایف بی آر کی کمزور وصولیوں کے باعث جنوری سے نئے ٹیکس لگانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ وزیراعظم بیک وقت سرمایہ اور ہنر کے انخلا کو روکنے کے لیے ٹیکس ریٹس پر نظرِ ثانی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تضاد کھل کر سامنے آ رہا ہے  حکومت ایک ہی وقت میں ٹیکس بڑھا بھی رہی ہے اور کم بھی کرنا چاہتی ہے۔</p>
</blockquote>
<p>ایک جانب غیر ملکی سرمایہ کاروں، خصوصاً سعودیوں کے لیے سرخ قالین بچھائے جا رہے ہیں، تو دوسری جانب حکومت نے کے-الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف میں سخت نظرثانی کر کے توانائی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ متضاد اشارے غیر یقینی فضا کو مزید بڑھا رہے ہیں اور سرمایہ کو ملک سے باہر دھکیل رہے ہیں۔</p>
<p>توانائی کے شعبے میں اصلاحات تاحال غائب ہیں۔ آئی ایم ایف کے منظور شدہ فل کاسٹ ریکوری ماڈل نے صنعتی بجلی کے ڈھانچے کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ ایسی صورت حال میں کوئی نجی سرمایہ کار  چاہے جغرافیائی دوستی کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو  اس وقت تک سرمایہ نہیں لگائے گا جب تک تجارتی طور پر اسے نفع نظر نہ آئے۔ سعودی سرمایہ کاری کی بڑی امید ایک بار پھر محض خواہشات کی معیشت میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔</p>
<p>آخر میں، یوں لگتا ہے جیسے پاکستان سرمایہ کاری کو اسی طرح تلاش کر رہا ہے جیسے وہ کرکٹ میں معجزے ڈھونڈتا ہے جب اسکور بورڈ خود ہی ساری کہانی بیان کر رہا ہوتا ہے، تب بھی کسی غیبی مدد کا انتظار کرتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278880</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Nov 2025 11:40:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/03112240f627583.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/03112240f627583.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
