<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 10:22:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 10:22:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے ٹی آئی آر کا تاریخی فیصلہ، کمشنر کا آڈٹ کیلئے انتخاب غیر قانونی قرار دیدیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278869/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو (اے ٹی آئی آر) نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں کمشنر کی جانب سے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 25 کے تحت کیے گئے آڈٹ کے انتخاب کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس ماہرین کے مطابق یہ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ اپیلٹ ٹریبونل میں صرف اس وقت اپیل کی جا سکتی ہے جب کسی ٹیکس کا تعین کیا گیا ہو، تاہم بعض مخصوص صورتوں میں کمشنر ان لینڈ ریونیو (سی آئی آر) کے کسی بھی حکم کے خلاف براہِ راست اپیل کا حق بھی حاصل ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ حکم ایکٹ کی کسی دفعہ کے تحت دیا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کیس میں کمشنر ان لینڈ ریونیو نے دفعہ 25 کے تحت ٹیکس دہندہ کا کیس آڈٹ کے لیے منتخب کیا اور اس کے لیے چند وجوہات بیان کیں، جو بظاہر اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں اور بورڈ کی ہدایات کے مطابق تھیں۔ کمشنر نے ٹیکس دہندہ کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ آفیسر کے سامنے سیلز ٹیکس کا ریکارڈ پیش کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس دہندہ نے آڈٹ کے لیے انتخاب کی وجوہات کو چیلنج کرتے ہوئے سب سے پہلے کمشنر کو نمائندگی جمع کرائی، تاہم کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ اس کے بعد ٹیکس دہندہ نے دفعہ 46 کے تحت براہِ راست اپیل دائر کی، جو کمشنر اپیلز کے فیصلے کے خلاف دوسری اپیل کے علاوہ کمشنر کے کسی بھی حکم کے خلاف براہِ راست اپیل کا اختیار دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ٹی آئی آر کے دو رکنی بینچ، جس میں سید محمود الحسن اور محمد طاہر شامل تھے، نے اپنے فیصلے کے حتمی حصے میں مشاہدہ کیا کہ پیش کردہ سیلز ٹیکس ریٹرنز کے مطابق ٹیکس دہندہ کا مؤقف درست ہے۔ متعلقہ مہینوں کے اعداد و شمار واضح طور پر استثنائی سپلائیز کی کریڈٹ نوٹ ایڈجسٹمنٹ سے مطابقت رکھتے ہیں، نہ کہ قابلِ ٹیکس سپلائیز سے۔ لہٰذا ان لین دین پر کوئی ویلیو ایڈڈ ٹیکس قانونی طور پر عائد نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ نے قرار دیا کہ کمشنر کی جانب سے آڈٹ کے انتخاب کی وجوہات حقائق کے غلط فہم اور ریٹرن کے ڈھانچے کی غلط تشریح پر مبنی تھیں۔ چنانچہ ٹریبونل نے اپیل منظور کرتے ہوئے دفعہ 25 کے تحت جاری کردہ خط اور اس کے نتیجے میں کیے گئے آڈٹ کے انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس ماہر شاہد جامی نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے متاثرہ ٹیکس دہندگان نے اے ٹی آئی آر میں قابل اور پیشہ ورانہ انداز میں کام کرنے والے نئے اراکین کی تقرریوں سے اطمینان کا اظہار کیا ہے، جو مالیاتی دباؤ یا ٹیکس کی رقم سے متاثر ہوئے بغیر انصاف فراہم کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں کے اوقاتِ کار میں بہتری آئی ہے اور فیصلے بروقت جاری کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو (اے ٹی آئی آر) نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں کمشنر کی جانب سے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 25 کے تحت کیے گئے آڈٹ کے انتخاب کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>ٹیکس ماہرین کے مطابق یہ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ اپیلٹ ٹریبونل میں صرف اس وقت اپیل کی جا سکتی ہے جب کسی ٹیکس کا تعین کیا گیا ہو، تاہم بعض مخصوص صورتوں میں کمشنر ان لینڈ ریونیو (سی آئی آر) کے کسی بھی حکم کے خلاف براہِ راست اپیل کا حق بھی حاصل ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ حکم ایکٹ کی کسی دفعہ کے تحت دیا گیا ہو۔</p>
<p>اس کیس میں کمشنر ان لینڈ ریونیو نے دفعہ 25 کے تحت ٹیکس دہندہ کا کیس آڈٹ کے لیے منتخب کیا اور اس کے لیے چند وجوہات بیان کیں، جو بظاہر اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں اور بورڈ کی ہدایات کے مطابق تھیں۔ کمشنر نے ٹیکس دہندہ کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ آفیسر کے سامنے سیلز ٹیکس کا ریکارڈ پیش کرے۔</p>
<p>ٹیکس دہندہ نے آڈٹ کے لیے انتخاب کی وجوہات کو چیلنج کرتے ہوئے سب سے پہلے کمشنر کو نمائندگی جمع کرائی، تاہم کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ اس کے بعد ٹیکس دہندہ نے دفعہ 46 کے تحت براہِ راست اپیل دائر کی، جو کمشنر اپیلز کے فیصلے کے خلاف دوسری اپیل کے علاوہ کمشنر کے کسی بھی حکم کے خلاف براہِ راست اپیل کا اختیار دیتی ہے۔</p>
<p>اے ٹی آئی آر کے دو رکنی بینچ، جس میں سید محمود الحسن اور محمد طاہر شامل تھے، نے اپنے فیصلے کے حتمی حصے میں مشاہدہ کیا کہ پیش کردہ سیلز ٹیکس ریٹرنز کے مطابق ٹیکس دہندہ کا مؤقف درست ہے۔ متعلقہ مہینوں کے اعداد و شمار واضح طور پر استثنائی سپلائیز کی کریڈٹ نوٹ ایڈجسٹمنٹ سے مطابقت رکھتے ہیں، نہ کہ قابلِ ٹیکس سپلائیز سے۔ لہٰذا ان لین دین پر کوئی ویلیو ایڈڈ ٹیکس قانونی طور پر عائد نہیں ہوتا۔</p>
<p>بینچ نے قرار دیا کہ کمشنر کی جانب سے آڈٹ کے انتخاب کی وجوہات حقائق کے غلط فہم اور ریٹرن کے ڈھانچے کی غلط تشریح پر مبنی تھیں۔ چنانچہ ٹریبونل نے اپیل منظور کرتے ہوئے دفعہ 25 کے تحت جاری کردہ خط اور اس کے نتیجے میں کیے گئے آڈٹ کے انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا۔</p>
<p>ٹیکس ماہر شاہد جامی نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے متاثرہ ٹیکس دہندگان نے اے ٹی آئی آر میں قابل اور پیشہ ورانہ انداز میں کام کرنے والے نئے اراکین کی تقرریوں سے اطمینان کا اظہار کیا ہے، جو مالیاتی دباؤ یا ٹیکس کی رقم سے متاثر ہوئے بغیر انصاف فراہم کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں کے اوقاتِ کار میں بہتری آئی ہے اور فیصلے بروقت جاری کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278869</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Nov 2025 09:24:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/03092227106c5d8.webp" type="image/webp" medium="image" height="853" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/03092227106c5d8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
