<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:18:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:18:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیویار ک میئر کے الیکشن کے قابل اوباما کا ظہران ممدانی کو فون، انتخابی مہم کی تعریف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278854/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیویارک کے میئر کے امیدوار ظہران ممدانی کو سابق امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے فون موصول ہوا، جس میں اوباما نے ان کی انتخابی مہم کو سراہتے ہوئے پیشکش کی کہ اگر وہ انتخابات جیت جاتے ہیں تو وہ اُن کے لیے ایک ساؤنڈنگ بورڈ کے طور پر موجود رہیں گے۔ اوباما کی یہ کال، جس کی سب سے پہلے اطلاع نیویارک ٹائمز نے دی، ظہران ممدانی کے ترجمان نے بھی کا کی تصدیق کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظہران ممدانی کی ترجمان ڈورا پیکیک نے بتایا کہ ظہران ممدانی نے صدر اوباما کے حوصلہ افزا الفاظ اور شہر میں نئی طرز کی سیاست لانے کے حوالے سے ہونے والی گفتگو کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوگنڈا میں پیدا ہونے والے ریاستی اسمبلی کے رکن ظہران ممدانی چار نومبر کے عام انتخابات سے قبل اپنے مرکزی حریف سابق گورنر اینڈریو کومو پر واضح برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔ اینڈریو  کومو نے ڈیموکریٹک پرائمری میں مدنی سے شکست کھانے کے بعد آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ ریپبلکن پارٹی کی جانب سے گارجین اینجلس کے بانی کرٹس سلیوا امیدوار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظہران ممدانی نے 24 جون کو ہونے والی ڈیموکریٹک پرائمری میں غیر متوقع طور پر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر کے سیاسی مبصرین کو حیران کر دیا تھا۔ اس کے بعد انہیں پارٹی کے کئی اہم رہنماؤں کی حمایت حاصل ہوئی، جن میں سابق نائب صدر کملا ہیرس اور نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل شامل ہیں۔ انہیں چھوٹے عطیہ دہندگان سے مالی امداد کا تسلسل بھی حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظہران ممدانی کے انتخابی وعدوں میں نیویارک شہر کے امیر ترین طبقے پر ٹیکس میں اضافہ، کارپوریشن ٹیکس بڑھانا، کرایہ منجمد کرنا اور عوامی سبسڈی سے مزید رہائشی مکانات کی فراہمی شامل ہے، جس سے مالیاتی حلقوں میں شہر کی مسابقت پر خدشات پیدا ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظہران ممدانی کا ابھرنا ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ ایک طرف وہ نوجوان ووٹرز کو متوجہ کر سکتے ہیں، تو دوسری جانب اسرائیل پر ان کی تنقید اور جمہوری سوشلسٹ نظریات کے باعث ریپبلکن تنقید کا نشانہ بھی بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے روز اوباما نے نیو جرسی میں ڈیموکریٹک امیدوار میکی شیرل اور ورجینیا میں امیدوار ایبیگیل اسپینبرگر کی انتخابی ریلیوں میں بھی شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیویارک کے میئر کے امیدوار ظہران ممدانی کو سابق امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے فون موصول ہوا، جس میں اوباما نے ان کی انتخابی مہم کو سراہتے ہوئے پیشکش کی کہ اگر وہ انتخابات جیت جاتے ہیں تو وہ اُن کے لیے ایک ساؤنڈنگ بورڈ کے طور پر موجود رہیں گے۔ اوباما کی یہ کال، جس کی سب سے پہلے اطلاع نیویارک ٹائمز نے دی، ظہران ممدانی کے ترجمان نے بھی کا کی تصدیق کی ہے۔</strong></p>
<p>ظہران ممدانی کی ترجمان ڈورا پیکیک نے بتایا کہ ظہران ممدانی نے صدر اوباما کے حوصلہ افزا الفاظ اور شہر میں نئی طرز کی سیاست لانے کے حوالے سے ہونے والی گفتگو کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔</p>
<p>یوگنڈا میں پیدا ہونے والے ریاستی اسمبلی کے رکن ظہران ممدانی چار نومبر کے عام انتخابات سے قبل اپنے مرکزی حریف سابق گورنر اینڈریو کومو پر واضح برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔ اینڈریو  کومو نے ڈیموکریٹک پرائمری میں مدنی سے شکست کھانے کے بعد آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ ریپبلکن پارٹی کی جانب سے گارجین اینجلس کے بانی کرٹس سلیوا امیدوار ہیں۔</p>
<p>ظہران ممدانی نے 24 جون کو ہونے والی ڈیموکریٹک پرائمری میں غیر متوقع طور پر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر کے سیاسی مبصرین کو حیران کر دیا تھا۔ اس کے بعد انہیں پارٹی کے کئی اہم رہنماؤں کی حمایت حاصل ہوئی، جن میں سابق نائب صدر کملا ہیرس اور نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل شامل ہیں۔ انہیں چھوٹے عطیہ دہندگان سے مالی امداد کا تسلسل بھی حاصل ہے۔</p>
<p>ظہران ممدانی کے انتخابی وعدوں میں نیویارک شہر کے امیر ترین طبقے پر ٹیکس میں اضافہ، کارپوریشن ٹیکس بڑھانا، کرایہ منجمد کرنا اور عوامی سبسڈی سے مزید رہائشی مکانات کی فراہمی شامل ہے، جس سے مالیاتی حلقوں میں شہر کی مسابقت پر خدشات پیدا ہوئے ہیں۔</p>
<p>ظہران ممدانی کا ابھرنا ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ ایک طرف وہ نوجوان ووٹرز کو متوجہ کر سکتے ہیں، تو دوسری جانب اسرائیل پر ان کی تنقید اور جمہوری سوشلسٹ نظریات کے باعث ریپبلکن تنقید کا نشانہ بھی بن سکتے ہیں۔</p>
<p>ہفتے کے روز اوباما نے نیو جرسی میں ڈیموکریٹک امیدوار میکی شیرل اور ورجینیا میں امیدوار ایبیگیل اسپینبرگر کی انتخابی ریلیوں میں بھی شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278854</guid>
      <pubDate>Sun, 02 Nov 2025 11:32:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/02113118fd8f7ff.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/02113118fd8f7ff.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
