<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 07:44:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 07:44:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے پیک رہنماؤں کا باہمی فائدے پر مبنی تجارت پر اتفاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278850/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنوبی کوریا میں منعقدہ ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پیک) اجلاس کے اختتام پر رکن ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا، جس میں عالمی تجارتی نظام میں بڑھتی ہوئی تقسیم کے پیش نظر لچکدار اور باہمی فائدے پر مبنی تجارت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال اے پیک اجلاس کی میزبانی جنوبی کوریا نے کی، جو بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی اور امریکا و چین کی جارحانہ معاشی پالیسیوں — جیسے امریکی ٹیرف اور چینی برآمدی پابندیوں  کے سائے میں منعقد ہوا، جنہوں نے عالمی تجارت پر دباؤ بڑھایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا اعلان کیا، تاہم وہ اجلاس کے باضابطہ آغاز سے پہلے ہی وطن واپس روانہ ہوگئے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی غیرموجودگی کے باوجود امریکی مؤقف اعلامیے میں جھلکتا رہا، جس میں اس بار ملٹی لیٹرل ازم یا عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کا ذکر شامل نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی صدر شی جن پنگ نے اجلاس کے اختتام پر ’ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کوآپریشن آرگنائزیشن‘ کے قیام کی تجویز پیش کی، جب کہ اجلاس میں آبادیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت پر دیگر اعلامیے بھی منظور کیے گئے۔ شی جن پنگ نے اعلان کیا کہ چین 2026 میں شینژن میں اے پیک کی میزبانی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی قیادت نے ٹرمپ کی غیرموجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو آزاد تجارت کے حامی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ ماہرین کے مطابق رکن ممالک اس تاثر سے گریزاں رہے کہ امریکا آزاد تجارت کو کمزور کر رہا ہے اور چین اس کا محافظ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی صدر نے اپنے تین روزہ دورہ جنوبی کوریا کا اختتام صدر لی جے میونگ کے ساتھ سربراہی ملاقات اور عشائیے کے ساتھ کیا۔ صدر لی نے امید ظاہر کی کہ سیول اور بیجنگ تعلقات میں حقیقی بہتری آئے گی اور شمالی کوریا کے ساتھ امن و تعاون میں چین مثبت کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنوبی کوریا میں منعقدہ ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پیک) اجلاس کے اختتام پر رکن ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا، جس میں عالمی تجارتی نظام میں بڑھتی ہوئی تقسیم کے پیش نظر لچکدار اور باہمی فائدے پر مبنی تجارت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔</strong></p>
<p>اس سال اے پیک اجلاس کی میزبانی جنوبی کوریا نے کی، جو بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی اور امریکا و چین کی جارحانہ معاشی پالیسیوں — جیسے امریکی ٹیرف اور چینی برآمدی پابندیوں  کے سائے میں منعقد ہوا، جنہوں نے عالمی تجارت پر دباؤ بڑھایا ہے۔</p>
<p>اجلاس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا اعلان کیا، تاہم وہ اجلاس کے باضابطہ آغاز سے پہلے ہی وطن واپس روانہ ہوگئے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی غیرموجودگی کے باوجود امریکی مؤقف اعلامیے میں جھلکتا رہا، جس میں اس بار ملٹی لیٹرل ازم یا عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کا ذکر شامل نہیں تھا۔</p>
<p>چینی صدر شی جن پنگ نے اجلاس کے اختتام پر ’ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کوآپریشن آرگنائزیشن‘ کے قیام کی تجویز پیش کی، جب کہ اجلاس میں آبادیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت پر دیگر اعلامیے بھی منظور کیے گئے۔ شی جن پنگ نے اعلان کیا کہ چین 2026 میں شینژن میں اے پیک کی میزبانی کرے گا۔</p>
<p>چینی قیادت نے ٹرمپ کی غیرموجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو آزاد تجارت کے حامی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ ماہرین کے مطابق رکن ممالک اس تاثر سے گریزاں رہے کہ امریکا آزاد تجارت کو کمزور کر رہا ہے اور چین اس کا محافظ ہے۔</p>
<p>چینی صدر نے اپنے تین روزہ دورہ جنوبی کوریا کا اختتام صدر لی جے میونگ کے ساتھ سربراہی ملاقات اور عشائیے کے ساتھ کیا۔ صدر لی نے امید ظاہر کی کہ سیول اور بیجنگ تعلقات میں حقیقی بہتری آئے گی اور شمالی کوریا کے ساتھ امن و تعاون میں چین مثبت کردار ادا کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278850</guid>
      <pubDate>Sun, 02 Nov 2025 10:48:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/02104645a974d20.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/02104645a974d20.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
