<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:26:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:26:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیلی کام سیکٹر میں غیر مسابقتی عمل کی تحقیقات سی سی پی کا اختیار ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278848/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کو ٹیلی کام سیکٹر میں گمراہ کن تشہیر اور غیر منصفانہ کاروباری عمل کی تحقیقات کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے پاکستان کی بڑی ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے دائر تمام درخواستیں مسترد کر دیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس انعام امین منہاس نے 19 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا کہ سی سی پی نے مسابقتی ایکٹ 2010 کے تحت اپنے قانونی اختیارات کے مطابق کارروائی کی، جب اس نے ٹیلی کام کمپنیوں کو گمراہ کن اشتہارات اور پری پیڈ صارفین پر اضافی سروس چارجز عائد کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے قرار دیا کہ سی سی پی کا دائرہ اختیار معیشت کے تمام شعبوں تک پھیلا ہوا ہے، جس میں ٹیلی کمیونیکیشن بھی شامل ہے، اور اس کے اختیارات پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ساتھ بیک وقت نافذ العمل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار کمپنیوں نے 2013 اور 2014 میں سی سی پی کے ان شوکاز نوٹسز کو چیلنج کیا تھا جن میں انہیں پری پیڈ کارڈز پر چھپے ہوئے سروس مینٹیننس یا ری چارج فیس کے نفاذ پر گمراہ کن تشہیر کے زمرے میں شامل کیا گیا تھا۔ اسی طرح پی ٹی سی ایل اور وائی ٹرائب نے بھی ان لیمیٹڈ انٹرنیٹ پیکیجز کی تشہیر سے متعلق نوٹسز کے خلاف درخواستیں دائر کی تھیں، حالانکہ یہ پیکیجز فئیر یوز پالیسی کے تحت محدود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے کے پیرا نمبر 22 میں واضح کیا کہ سی سی پی کے اختیارات تمام شعبوں تک وسیع ہیں اور اس کا کام محض ریگولیشن تک محدود نہیں بلکہ غیر مسابقتی رویوں، اجارہ داری کے غلط استعمال، ملی بھگت اور گمراہ کن مارکیٹنگ کی روک تھام تک پھیلا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1996 اور مسابقتی ایکٹ 2010 دونوں علیحدہ مگر تکمیلی قوانین ہیں، پی ٹی اے تکنیکی اور آپریشنل امور کو ریگولیٹ کرتی ہے، جبکہ سی سی پی کو مسابقت اور گمراہ کن تشہیر سے متعلق معاملات کا بنیادی اختیار حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پی ٹی اے جیسا ریگولیٹری ادارہ بھی سی سی پی کے دائرہ کار میں شامل ہے، کیونکہ ایکٹ کی دفعہ 2(1)(q) کے مطابق انڈرٹیکنگ میں حکومتی یا ریگولیٹری ادارے بھی آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے یہ قرار دیتے ہوئے تمام ساتوں درخواستیں ناقابل سماعت قرار دیں کہ سی سی پی کے شوکاز نوٹس محض ابتدائی نوعیت کے ہیں اور ابھی حتمی احکامات نہیں، اس لیے اس مرحلے پر مداخلت قانون ساز ادارے کے مقاصد کے منافی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کو ٹیلی کام سیکٹر میں گمراہ کن تشہیر اور غیر منصفانہ کاروباری عمل کی تحقیقات کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے پاکستان کی بڑی ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے دائر تمام درخواستیں مسترد کر دیں۔</strong></p>
<p>جسٹس انعام امین منہاس نے 19 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا کہ سی سی پی نے مسابقتی ایکٹ 2010 کے تحت اپنے قانونی اختیارات کے مطابق کارروائی کی، جب اس نے ٹیلی کام کمپنیوں کو گمراہ کن اشتہارات اور پری پیڈ صارفین پر اضافی سروس چارجز عائد کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیے۔</p>
<p>عدالت نے قرار دیا کہ سی سی پی کا دائرہ اختیار معیشت کے تمام شعبوں تک پھیلا ہوا ہے، جس میں ٹیلی کمیونیکیشن بھی شامل ہے، اور اس کے اختیارات پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ساتھ بیک وقت نافذ العمل ہیں۔</p>
<p>درخواست گزار کمپنیوں نے 2013 اور 2014 میں سی سی پی کے ان شوکاز نوٹسز کو چیلنج کیا تھا جن میں انہیں پری پیڈ کارڈز پر چھپے ہوئے سروس مینٹیننس یا ری چارج فیس کے نفاذ پر گمراہ کن تشہیر کے زمرے میں شامل کیا گیا تھا۔ اسی طرح پی ٹی سی ایل اور وائی ٹرائب نے بھی ان لیمیٹڈ انٹرنیٹ پیکیجز کی تشہیر سے متعلق نوٹسز کے خلاف درخواستیں دائر کی تھیں، حالانکہ یہ پیکیجز فئیر یوز پالیسی کے تحت محدود تھے۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے کے پیرا نمبر 22 میں واضح کیا کہ سی سی پی کے اختیارات تمام شعبوں تک وسیع ہیں اور اس کا کام محض ریگولیشن تک محدود نہیں بلکہ غیر مسابقتی رویوں، اجارہ داری کے غلط استعمال، ملی بھگت اور گمراہ کن مارکیٹنگ کی روک تھام تک پھیلا ہوا ہے۔</p>
<p>عدالت نے کہا کہ ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1996 اور مسابقتی ایکٹ 2010 دونوں علیحدہ مگر تکمیلی قوانین ہیں، پی ٹی اے تکنیکی اور آپریشنل امور کو ریگولیٹ کرتی ہے، جبکہ سی سی پی کو مسابقت اور گمراہ کن تشہیر سے متعلق معاملات کا بنیادی اختیار حاصل ہے۔</p>
<p>فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پی ٹی اے جیسا ریگولیٹری ادارہ بھی سی سی پی کے دائرہ کار میں شامل ہے، کیونکہ ایکٹ کی دفعہ 2(1)(q) کے مطابق انڈرٹیکنگ میں حکومتی یا ریگولیٹری ادارے بھی آتے ہیں۔</p>
<p>عدالت نے یہ قرار دیتے ہوئے تمام ساتوں درخواستیں ناقابل سماعت قرار دیں کہ سی سی پی کے شوکاز نوٹس محض ابتدائی نوعیت کے ہیں اور ابھی حتمی احکامات نہیں، اس لیے اس مرحلے پر مداخلت قانون ساز ادارے کے مقاصد کے منافی ہوگی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278848</guid>
      <pubDate>Sun, 02 Nov 2025 10:11:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/02101026544338b.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/02101026544338b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
