<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 04:50:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 04:50:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہلت کی درخواست کے باوجود ایف بی آر نے ہزاروں ٹیکس دہندگان کو غیر فعال قرار دیدیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278844/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالیاتی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے یکم نومبر 2025 کو ہزاروں ٹیکس دہندگان کو بلاجواز غیر فعال قرار دے دیا، جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے 31 اکتوبر کو ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کیلئے مزید مہلت کی درخواست دی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام اس کے باوجود کیا گیا کہ مہلت کے لیے بڑی تعداد میں درخواستیں قانون کے مطابق جمع کرائی جا چکی ہیں اور اب بھی زیرِ غور ہیں۔ جب تک ان درخواستوں پر فیصلہ نہیں ہو جاتا، ایف بی آر کو یکطرفہ طور پر فعال ٹیکس دہندگان کا اسٹیٹس تبدیل کرنے کا اختیار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک ایف بی آر کی جانب سے دستی ٹیکس ریٹرن فارم اپ لوڈ نہیں کیا گیا، حالانکہ فائلنگ کی آخری تاریخ گزر چکی ہے۔ پاکستان بھر کے متاثرہ ٹیکس دہندگان نے ممبر اِن لینڈ ریونیو آپریشنز سے درخواست کی ہے کہ ان کا ایکٹیو‘‘ اسٹیٹس بحال کیا جائے، کیونکہ انہوں نے بروقت توسیع کی درخواست دی تھی لیکن متعلقہ فیلڈ دفاتر نے اب تک ان پر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس دہندگان کا مؤقف ہے کہ جنہوں نے تکنیکی مسائل کی وجہ سے مہلت کی درخواست دی تھی، ان کی درخواستیں مسترد کیے بغیر انہیں غیر فعال قرار دینا غیر قانونی ہے۔ ایسے افراد کو ان لوگوں کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا جنہوں نے کوئی درخواست ہی جمع نہیں کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وحید شہزاد بٹ نے نشاندہی کی کہ فیڈرل ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) کے دفتر کو ایف بی آر کی اس بدانتظامی پر از خود نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے پہلے بھی ایف ٹی او سے استدعا کی تھی کہ ایف بی آر حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے کیونکہ انہوں نے 2025 کے ٹیکس سال کے لیے دستی ریٹرن فارم بروقت اپ لوڈ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وحید شہزاد بٹ نے کہا کہ یہ معاملہ پاکستان کے ٹیکس نظام میں اشرافیہ کے قبضے کی ایک اور بدترین مثال ہے جو ادارے کو کمزور کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف ٹی او کی جانب سے دولت کے گوشوارے کے فارم میں تبدیلی کے معاملے پر بروقت مداخلت ایک نادر مثال تھی، تاہم ایف بی آر میں نااہلی اور بدنظمی بدستور جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ٹی او کے حکم میں کہا گیا کہ انکم ٹیکس رولز 2002 کے قاعدہ 73(2DD) کے مطابق جن ٹیکس دہندگان کی آمدنی دس لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہے ان کے لیے ای فائلنگ لازمی ہے، جبکہ اس حد سے کم آمدنی والے افراد کو دستی ریٹرن فائل کرنے کی اجازت ہے۔ لیکن ایف بی آر نے 2025 کے ٹیکس سال کے لیے اہل ٹیکس دہندگان کے لیے دستی ریٹرن فارم جاری نہیں کیا۔ ایف ٹی او نے حکم دیا کہ ایف بی آر فوری طور پر 2025 کے لیے دستی یا کاغذی ریٹرن فارم اپ لوڈ کرے تاکہ قانونی تقاضے پورے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالیاتی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے یکم نومبر 2025 کو ہزاروں ٹیکس دہندگان کو بلاجواز غیر فعال قرار دے دیا، جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے 31 اکتوبر کو ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کیلئے مزید مہلت کی درخواست دی تھی۔</strong></p>
<p>یہ اقدام اس کے باوجود کیا گیا کہ مہلت کے لیے بڑی تعداد میں درخواستیں قانون کے مطابق جمع کرائی جا چکی ہیں اور اب بھی زیرِ غور ہیں۔ جب تک ان درخواستوں پر فیصلہ نہیں ہو جاتا، ایف بی آر کو یکطرفہ طور پر فعال ٹیکس دہندگان کا اسٹیٹس تبدیل کرنے کا اختیار نہیں۔</p>
<p>اب تک ایف بی آر کی جانب سے دستی ٹیکس ریٹرن فارم اپ لوڈ نہیں کیا گیا، حالانکہ فائلنگ کی آخری تاریخ گزر چکی ہے۔ پاکستان بھر کے متاثرہ ٹیکس دہندگان نے ممبر اِن لینڈ ریونیو آپریشنز سے درخواست کی ہے کہ ان کا ایکٹیو‘‘ اسٹیٹس بحال کیا جائے، کیونکہ انہوں نے بروقت توسیع کی درخواست دی تھی لیکن متعلقہ فیلڈ دفاتر نے اب تک ان پر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔</p>
<p>ٹیکس دہندگان کا مؤقف ہے کہ جنہوں نے تکنیکی مسائل کی وجہ سے مہلت کی درخواست دی تھی، ان کی درخواستیں مسترد کیے بغیر انہیں غیر فعال قرار دینا غیر قانونی ہے۔ ایسے افراد کو ان لوگوں کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا جنہوں نے کوئی درخواست ہی جمع نہیں کرائی۔</p>
<p>وحید شہزاد بٹ نے نشاندہی کی کہ فیڈرل ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) کے دفتر کو ایف بی آر کی اس بدانتظامی پر از خود نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے پہلے بھی ایف ٹی او سے استدعا کی تھی کہ ایف بی آر حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے کیونکہ انہوں نے 2025 کے ٹیکس سال کے لیے دستی ریٹرن فارم بروقت اپ لوڈ نہیں کیا۔</p>
<p>وحید شہزاد بٹ نے کہا کہ یہ معاملہ پاکستان کے ٹیکس نظام میں اشرافیہ کے قبضے کی ایک اور بدترین مثال ہے جو ادارے کو کمزور کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف ٹی او کی جانب سے دولت کے گوشوارے کے فارم میں تبدیلی کے معاملے پر بروقت مداخلت ایک نادر مثال تھی، تاہم ایف بی آر میں نااہلی اور بدنظمی بدستور جاری ہے۔</p>
<p>ایف ٹی او کے حکم میں کہا گیا کہ انکم ٹیکس رولز 2002 کے قاعدہ 73(2DD) کے مطابق جن ٹیکس دہندگان کی آمدنی دس لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہے ان کے لیے ای فائلنگ لازمی ہے، جبکہ اس حد سے کم آمدنی والے افراد کو دستی ریٹرن فائل کرنے کی اجازت ہے۔ لیکن ایف بی آر نے 2025 کے ٹیکس سال کے لیے اہل ٹیکس دہندگان کے لیے دستی ریٹرن فارم جاری نہیں کیا۔ ایف ٹی او نے حکم دیا کہ ایف بی آر فوری طور پر 2025 کے لیے دستی یا کاغذی ریٹرن فارم اپ لوڈ کرے تاکہ قانونی تقاضے پورے ہوں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278844</guid>
      <pubDate>Sun, 02 Nov 2025 17:55:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/0209363610d8c57.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/0209363610d8c57.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
