<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا کی ایشیا میں واپسی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278835/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ایک مرتبہ پھر ایشیا کی طاقت کی بساط پر واپس آ گیا ہے، جہاں وہ چین کی ایک دہائی پر محیط برتری کو متوازن کرتے ہوئے خطے کی تجارت، ٹیکنالوجی اور تزویراتی توازن کو نئی شکل دے رہا ہے۔ کئی برسوں کی حکمتِ عملی میں جمود کے بعد، واشنگٹن دوبارہ ایشیا میں سرگرم ہے، اور اس بار خاموش نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے پی ای سی سربراہی اجلاس میں ٹرمپ کی واپسی، اس کے بعد جاپان اور اہم آسیان ممالک کے دورے، اوباما دور کے ”ایشیا کی جانب جھکاؤ“ کے بعد امریکا کی سب سے بھرپور انڈو پیسفک حکمتِ عملی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کا پیغام دوٹوک تھا: ”امریکا ایشیا میں واپس آ گیا ہے“، اپنی اقتصادی اور تزویراتی موجودگی دوبارہ حاصل کرنے کے عزم کے ساتھ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک امریکا کی غیرموجودگی نے چین کو اپنی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی)، علاقائی قرضوں اور بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کے ذریعے گہری جڑیں مضبوط کرنے کا موقع دیا، جس سے جنوب مشرقی ایشیائی معیشتیں اس کے دائرۂ اثر میں آ گئیں۔ میانمار کی بندرگاہوں سے لے کر انڈونیشیا کے صنعتی راہداریوں تک، چینی سرمایہ کاری نے پل بھی تعمیر کیے اور اثر و رسوخ بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے پی ای سی اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے گرمجوشی اور خوداعتمادی کا امتزاج پیش کیا۔ انہوں نے اپنے دورے کو ”دوستی اور نیک خواہشات کا مشن“ قرار دیتے ہوئے ایک ”آزاد، کھلے اور خوشحال انڈو پیسفک“ کے لیے امریکی عزم کا اعادہ کیا۔ ٹرمپ نے توانائی، مصنوعی ذہانت، اہم معدنیات اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئی شراکت داریوں کا اعلان کیا۔ ان کے نزدیک اہم معدنیات سے متعلق معاہدے اولین ترجیح ہیں، اور خطے کے کئی ممالک نے امریکی سپلائی چین میں تعاون کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے دورے کے دوران اعلان کردہ دو تجارتی معاہدے اور دو فریم ورک سمجھوتے، امریکا اور آسیان کے درمیان 475 ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت کے تقریباً 68 فیصد حصے کا احاطہ کرتے ہیں، جو کہ خطے کی تیزی سے ابھرتی ہوئی منڈیوں میں امریکی تجارت کو ازسرِنو مستحکم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔
تاہم ٹرمپ کا انداز روایت کے مطابق ہے: ”سفارت کاری کے ذریعے سودے“۔ ان کے بقول، “ایشیائی معیشتیں امریکی منڈیوں کو رسائی دیں، بدلے میں ٹیرف میں ریلیف پائیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے دورے نے انڈو پیسفک میں امریکا کی بحالی کے لیے اس ملک کے کلیدی کردار کو نمایاں کیا۔ جاپان بدستور واشنگٹن کا سب سے قابلِ اعتماد اتحادی ہے، جو چین کی بحری توسیع اور تکنیکی عزائم سے متعلق امریکی خدشات میں شریک ہے۔ اپنے قیام کے دوران ٹرمپ نے جاپان پر زور دیا کہ وہ معاشی اور سلامتی کے محاذ پر زیادہ جرات مندانہ کردار ادا کرے، بطور بیجنگ کے تزویراتی توازن کے اور بطور اعلیٰ درجے کی ٹیکنالوجی میں قابلِ اعتماد شراکت دار۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان، جو پہلے ہی کوآڈ اتحاد کا مرکزی رکن ہے، توقع ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ دفاعی اور سیمی کنڈکٹر تعاون کو مزید گہرا کرے گا۔ ٹوکیو ٹرمپ کی اس پیش قدمی کو ایشیا کی بدلتی طاقت کے توازن میں واشنگٹن کے مرکزی ستون کے طور پر اپنا کردار مضبوط کرنے کا موقع سمجھتا ہے۔ جاپان کا بڑھتا کردار اور بھارت کی کم ہوتی نمایاں حیثیت، ٹرمپ کے ”ایشیا محور“ کی نمایاں علامت دکھائی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، بھارت کا کردار خاصا مدھم رہا۔ اپنی جسامت اور عزائم کے باوجود، بھارت زیادہ تر ٹرمپ کے حالیہ ایشیائی رابطوں سے باہر رہا، جو یا تو امریکا کی جنوب مشرقی ایشیا کی تیزی سے ترقی کرتی معیشتوں پر توجہ مرکوز کرنے کی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے یا پھر کوآڈ کے ابتدائی جوش و خروش کے بعد دوطرفہ تعلقات میں سردمہری کا عندیہ دیتا ہے۔ نئی دہلی کی اندرونِ ملک معیشت پر توجہ اور محتاط سفارت کاری، روس سے تعلقات کے توازن اور چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے باعث، ممکنہ طور پر اسے ٹرمپ کے ابتدائی انڈو پیسفک ایجنڈے سے دور رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کا کردار خاصا غیر نمایاں رہنے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ٹرمپ کے دور میں امریکا وسیع تزویراتی شراکتوں کے بجائے معاشی حقیقت پسندی کو ترجیح دے سکتا ہے اور ایسے ممالک سے براہِ راست روابط بڑھا سکتا ہے جہاں تجارت اور سرمایہ کاری کے فوری فوائد ممکن ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی یہ نئی ایشیائی مہم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپ بتدریج واشنگٹن سے دور ہو رہا ہے۔ ٹیرف کے تنازعات اور غیر مستقل خارجہ پالیسی سے نالاں یورپی طاقتیں ”تزویراتی خودمختاری“ کے راستے پر گامزن ہیں۔ یوکرین کی جنگ اور نیٹو کے غیر یقینی کردار نے اس رجحان کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
اس کے برعکس، ایشیا ترقی اور اثر و رسوخ دونوں کی پیشکش کرتا ہے۔ واشنگٹن کے لیے ایشیا میں واپسی صرف تجارت کا معاملہ نہیں، بلکہ دنیا کے سب سے متحرک خطے میں اپنا اثر و رسوخ دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش ہے، وہ خطہ جہاں آئندہ عالمی طاقت کا توازن طے پائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ یقیناً خاموش تماشائی نہیں رہے گا۔ چین کا ممکنہ ردِعمل معاشی گہرائی اور تزویراتی احتیاط کا امتزاج ہوگا۔ اقتصادی طور پر، چین توقع ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے منصوبوں میں مزید سرمایہ لگائے گا، مشکلات کے شکار شراکت داروں کو قرضوں میں نرمی فراہم کرے گا اور ریجنل کمپری ہینسو اکنامک پارٹنرشپ ( آر سی ای پی) کے تحت تجارت میں تیزی لائے گا، جہاں امریکا کا کوئی کردار نہیں۔ بیجنگ اپنے ہمسایہ ممالک کو یاد دلا سکتا ہے کہ چینی منڈیاں جغرافیائی طور پر قریب ہیں اور اس کی مالی معاونت، اگرچہ سخت شرائط والی، سیاسی لحاظ سے کم پابند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوب مشرقی ایشیا کے لیے امریکا کی واپسی خوش آئند بھی ہے اور پیچیدہ بھی۔ آسیان ممالک چین کے توازن کے لیے امریکی سرمایہ کاری چاہتے ہیں، مگر انہیں ایک نئی تجارتی جنگ کے اندیشے بھی لاحق ہیں۔ ان کا موجودہ رویہ حقیقت پسندانہ توازن پر مبنی ہے، دونوں طاقتوں سے روابط برقرار رکھتے ہوئے کسی ایک کے ساتھ مکمل صف بندی سے گریز۔ ویتنام، انڈونیشیا اور ملائیشیا پہلے ہی امریکا چین علیحدگی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں کیونکہ صنعتیں وہاں منتقل ہو رہی ہیں، جبکہ سنگاپور خطے کا مالیاتی پل بنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان، جو خطے میں چین کا تزویراتی شراکت دار ہے اور دفاعی و اقتصادی ضروریات بڑی حد تک بیجنگ سے پوری کرتا ہے، ٹرمپ کے حلقۂ اثر میں بھی اپنی جگہ بنا چکا ہے۔ اس نے ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اثرات کو متوازن رکھنے کی کوشش کی ہے، جو معاشی فوائد اور جغرافیائی سیاست کے چیلنجوں کے پیشِ نظر ایک محتاط طرزِ عمل کا متقاضی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا چین رقابت اب محض عسکری طاقت کی نہیں رہی، بلکہ یہ ٹیکنالوجی، تجارت اور تزویراتی برتری کی کشمکش بن چکی ہے۔ دونوں فریق جانتے ہیں کہ ایشیائی منڈیاں اور سپلائی چینز آئندہ دہائیوں میں عالمی قیادت کا تعین کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے لیے اثر و رسوخ برقرار رکھنے کا مطلب ہے کہ وہ زیادہ شفاف اور پائیدار شراکت داریوں کی طرف پیش قدمی کرے۔ جبکہ امریکا کے لیے، برسوں کی غیر مستقل مزاجی کے بعد اعتماد کی بحالی صرف تجارتی دباؤ سے ممکن نہیں، بلکہ ایک مربوط، طویل المدتی موجودگی درکار ہے جو خطے کی ترجیحات کا احترام کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;امکان یہی ہے کہ مستقبل کا منظرنامہ “مسابقتی بقائے باہمی” کا ہو گا، یعنی واشنگٹن اور بیجنگ کھلے تصادم کے بغیر اثر و رسوخ کے لیے برسرِپیکار رہیں گے۔ ادھر یورپ دونوں کے درمیان کھڑا ہے: امریکا کی غیر متوقع پالیسیوں سے محتاط، مگر چین پر انحصار کے حوالے سے بھی فکرمند۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ایک مرتبہ پھر ایشیا کی طاقت کی بساط پر واپس آ گیا ہے، جہاں وہ چین کی ایک دہائی پر محیط برتری کو متوازن کرتے ہوئے خطے کی تجارت، ٹیکنالوجی اور تزویراتی توازن کو نئی شکل دے رہا ہے۔ کئی برسوں کی حکمتِ عملی میں جمود کے بعد، واشنگٹن دوبارہ ایشیا میں سرگرم ہے، اور اس بار خاموش نہیں۔</strong></p>
<p>اے پی ای سی سربراہی اجلاس میں ٹرمپ کی واپسی، اس کے بعد جاپان اور اہم آسیان ممالک کے دورے، اوباما دور کے ”ایشیا کی جانب جھکاؤ“ کے بعد امریکا کی سب سے بھرپور انڈو پیسفک حکمتِ عملی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کا پیغام دوٹوک تھا: ”امریکا ایشیا میں واپس آ گیا ہے“، اپنی اقتصادی اور تزویراتی موجودگی دوبارہ حاصل کرنے کے عزم کے ساتھ۔</p>
<p>گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک امریکا کی غیرموجودگی نے چین کو اپنی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی)، علاقائی قرضوں اور بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کے ذریعے گہری جڑیں مضبوط کرنے کا موقع دیا، جس سے جنوب مشرقی ایشیائی معیشتیں اس کے دائرۂ اثر میں آ گئیں۔ میانمار کی بندرگاہوں سے لے کر انڈونیشیا کے صنعتی راہداریوں تک، چینی سرمایہ کاری نے پل بھی تعمیر کیے اور اثر و رسوخ بھی۔</p>
<p>اے پی ای سی اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے گرمجوشی اور خوداعتمادی کا امتزاج پیش کیا۔ انہوں نے اپنے دورے کو ”دوستی اور نیک خواہشات کا مشن“ قرار دیتے ہوئے ایک ”آزاد، کھلے اور خوشحال انڈو پیسفک“ کے لیے امریکی عزم کا اعادہ کیا۔ ٹرمپ نے توانائی، مصنوعی ذہانت، اہم معدنیات اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئی شراکت داریوں کا اعلان کیا۔ ان کے نزدیک اہم معدنیات سے متعلق معاہدے اولین ترجیح ہیں، اور خطے کے کئی ممالک نے امریکی سپلائی چین میں تعاون کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔</p>
<p>اپنے دورے کے دوران اعلان کردہ دو تجارتی معاہدے اور دو فریم ورک سمجھوتے، امریکا اور آسیان کے درمیان 475 ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت کے تقریباً 68 فیصد حصے کا احاطہ کرتے ہیں، جو کہ خطے کی تیزی سے ابھرتی ہوئی منڈیوں میں امریکی تجارت کو ازسرِنو مستحکم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔
تاہم ٹرمپ کا انداز روایت کے مطابق ہے: ”سفارت کاری کے ذریعے سودے“۔ ان کے بقول، “ایشیائی معیشتیں امریکی منڈیوں کو رسائی دیں، بدلے میں ٹیرف میں ریلیف پائیں۔”</p>
<p>جاپان کے دورے نے انڈو پیسفک میں امریکا کی بحالی کے لیے اس ملک کے کلیدی کردار کو نمایاں کیا۔ جاپان بدستور واشنگٹن کا سب سے قابلِ اعتماد اتحادی ہے، جو چین کی بحری توسیع اور تکنیکی عزائم سے متعلق امریکی خدشات میں شریک ہے۔ اپنے قیام کے دوران ٹرمپ نے جاپان پر زور دیا کہ وہ معاشی اور سلامتی کے محاذ پر زیادہ جرات مندانہ کردار ادا کرے، بطور بیجنگ کے تزویراتی توازن کے اور بطور اعلیٰ درجے کی ٹیکنالوجی میں قابلِ اعتماد شراکت دار۔</p>
<p>جاپان، جو پہلے ہی کوآڈ اتحاد کا مرکزی رکن ہے، توقع ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ دفاعی اور سیمی کنڈکٹر تعاون کو مزید گہرا کرے گا۔ ٹوکیو ٹرمپ کی اس پیش قدمی کو ایشیا کی بدلتی طاقت کے توازن میں واشنگٹن کے مرکزی ستون کے طور پر اپنا کردار مضبوط کرنے کا موقع سمجھتا ہے۔ جاپان کا بڑھتا کردار اور بھارت کی کم ہوتی نمایاں حیثیت، ٹرمپ کے ”ایشیا محور“ کی نمایاں علامت دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس، بھارت کا کردار خاصا مدھم رہا۔ اپنی جسامت اور عزائم کے باوجود، بھارت زیادہ تر ٹرمپ کے حالیہ ایشیائی رابطوں سے باہر رہا، جو یا تو امریکا کی جنوب مشرقی ایشیا کی تیزی سے ترقی کرتی معیشتوں پر توجہ مرکوز کرنے کی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے یا پھر کوآڈ کے ابتدائی جوش و خروش کے بعد دوطرفہ تعلقات میں سردمہری کا عندیہ دیتا ہے۔ نئی دہلی کی اندرونِ ملک معیشت پر توجہ اور محتاط سفارت کاری، روس سے تعلقات کے توازن اور چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے باعث، ممکنہ طور پر اسے ٹرمپ کے ابتدائی انڈو پیسفک ایجنڈے سے دور رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>بھارت کا کردار خاصا غیر نمایاں رہنے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ٹرمپ کے دور میں امریکا وسیع تزویراتی شراکتوں کے بجائے معاشی حقیقت پسندی کو ترجیح دے سکتا ہے اور ایسے ممالک سے براہِ راست روابط بڑھا سکتا ہے جہاں تجارت اور سرمایہ کاری کے فوری فوائد ممکن ہوں۔</p>
<p>امریکا کی یہ نئی ایشیائی مہم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپ بتدریج واشنگٹن سے دور ہو رہا ہے۔ ٹیرف کے تنازعات اور غیر مستقل خارجہ پالیسی سے نالاں یورپی طاقتیں ”تزویراتی خودمختاری“ کے راستے پر گامزن ہیں۔ یوکرین کی جنگ اور نیٹو کے غیر یقینی کردار نے اس رجحان کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
اس کے برعکس، ایشیا ترقی اور اثر و رسوخ دونوں کی پیشکش کرتا ہے۔ واشنگٹن کے لیے ایشیا میں واپسی صرف تجارت کا معاملہ نہیں، بلکہ دنیا کے سب سے متحرک خطے میں اپنا اثر و رسوخ دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش ہے، وہ خطہ جہاں آئندہ عالمی طاقت کا توازن طے پائے گا۔</p>
<p>بیجنگ یقیناً خاموش تماشائی نہیں رہے گا۔ چین کا ممکنہ ردِعمل معاشی گہرائی اور تزویراتی احتیاط کا امتزاج ہوگا۔ اقتصادی طور پر، چین توقع ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے منصوبوں میں مزید سرمایہ لگائے گا، مشکلات کے شکار شراکت داروں کو قرضوں میں نرمی فراہم کرے گا اور ریجنل کمپری ہینسو اکنامک پارٹنرشپ ( آر سی ای پی) کے تحت تجارت میں تیزی لائے گا، جہاں امریکا کا کوئی کردار نہیں۔ بیجنگ اپنے ہمسایہ ممالک کو یاد دلا سکتا ہے کہ چینی منڈیاں جغرافیائی طور پر قریب ہیں اور اس کی مالی معاونت، اگرچہ سخت شرائط والی، سیاسی لحاظ سے کم پابند ہے۔</p>
<p>جنوب مشرقی ایشیا کے لیے امریکا کی واپسی خوش آئند بھی ہے اور پیچیدہ بھی۔ آسیان ممالک چین کے توازن کے لیے امریکی سرمایہ کاری چاہتے ہیں، مگر انہیں ایک نئی تجارتی جنگ کے اندیشے بھی لاحق ہیں۔ ان کا موجودہ رویہ حقیقت پسندانہ توازن پر مبنی ہے، دونوں طاقتوں سے روابط برقرار رکھتے ہوئے کسی ایک کے ساتھ مکمل صف بندی سے گریز۔ ویتنام، انڈونیشیا اور ملائیشیا پہلے ہی امریکا چین علیحدگی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں کیونکہ صنعتیں وہاں منتقل ہو رہی ہیں، جبکہ سنگاپور خطے کا مالیاتی پل بنا ہوا ہے۔</p>
<p>پاکستان، جو خطے میں چین کا تزویراتی شراکت دار ہے اور دفاعی و اقتصادی ضروریات بڑی حد تک بیجنگ سے پوری کرتا ہے، ٹرمپ کے حلقۂ اثر میں بھی اپنی جگہ بنا چکا ہے۔ اس نے ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اثرات کو متوازن رکھنے کی کوشش کی ہے، جو معاشی فوائد اور جغرافیائی سیاست کے چیلنجوں کے پیشِ نظر ایک محتاط طرزِ عمل کا متقاضی ہے۔</p>
<p>امریکا چین رقابت اب محض عسکری طاقت کی نہیں رہی، بلکہ یہ ٹیکنالوجی، تجارت اور تزویراتی برتری کی کشمکش بن چکی ہے۔ دونوں فریق جانتے ہیں کہ ایشیائی منڈیاں اور سپلائی چینز آئندہ دہائیوں میں عالمی قیادت کا تعین کریں گی۔</p>
<p>چین کے لیے اثر و رسوخ برقرار رکھنے کا مطلب ہے کہ وہ زیادہ شفاف اور پائیدار شراکت داریوں کی طرف پیش قدمی کرے۔ جبکہ امریکا کے لیے، برسوں کی غیر مستقل مزاجی کے بعد اعتماد کی بحالی صرف تجارتی دباؤ سے ممکن نہیں، بلکہ ایک مربوط، طویل المدتی موجودگی درکار ہے جو خطے کی ترجیحات کا احترام کرے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>امکان یہی ہے کہ مستقبل کا منظرنامہ “مسابقتی بقائے باہمی” کا ہو گا، یعنی واشنگٹن اور بیجنگ کھلے تصادم کے بغیر اثر و رسوخ کے لیے برسرِپیکار رہیں گے۔ ادھر یورپ دونوں کے درمیان کھڑا ہے: امریکا کی غیر متوقع پالیسیوں سے محتاط، مگر چین پر انحصار کے حوالے سے بھی فکرمند۔</p>
</blockquote>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278835</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Nov 2025 16:44:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/011621099a9613b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/011621099a9613b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
