<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 11:49:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 11:49:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور ایران آزاد تجاری معاہدے کو باضابطہ شکل دینے کے قریب پہنچ گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278831/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور ایران اپنے آزاد ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کو باضابطہ شکل دینے کے قریب پہنچ گئے کیونکہ اس معاہدے کا حتمی متن اب پاکستانی حکام کے زیرِ جائزہ ہے اور جلد اسے باضابطہ منظوری کیلئے پیش کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ایران کے سفیر برائے پاکستان رضا امیری-مغددم کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی جس میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع پر بات چیت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں جاری اقدامات، تجارتی معاہدوں اور مستقبل کے مواقع پر روشنی ڈالی گئی تاکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران جام کمال خان نے بتایا کہ پاکستان-ایران فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کا متن جو اسلام آباد میں دستخط کیا گیا تھا، اس وقت داخلی جائزے کے مراحل میں ہے اور جلد باضابطہ منظوری کے لیے پیش کرنے کا منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سفیر نے اس پیشرفت کا خیر مقدم کیا اور بتایا کہ کوئٹہ اور زاہدان کے درمیان پروازیں بحال ہو چکی ہیں جس سے عوامی روابط اور تجارت کو فروغ ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دوطرفہ تجارت میں پیش رفت کو اجاگر کیا اور یاد دہانی کرائی کہ پہلے کے معاہدوں کے تحت 4 لاکھ ٹن چاول، 3 لاکھ ٹن گوشت، 2 لاکھ ٹن مکئی، اور 50 ہزار ٹن جانوروں کے چارے کی درآمدات طے پائی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر نے بتایا کہ ایران نے چاول کی درآمد مکمل کر لی ہے اور اب وہ جانوروں کے چارے اور مکئی خریدنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال خان نے ایرانی کمپنیوں اور سرکاری اداروں کو کراچی ایکسپو سینٹر میں 25 تا 27 نومبر 2025 کو منعقد ہونے والی آنے والی فوڈاگ نمائش میں شرکت کی دعوت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ تجارت نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے پلیٹ فارمز ایرانی اور پاکستانی کاروباری حضرات کو زرعی و خوراک کے شعبے میں تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے مواقع فراہم کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ تجارت نے کراس بارڈر تجارت کو فروغ دینے اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے عوام کی روزی روٹی بہتر بنانے کے لیے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اور زاہدان کے گورنر کی سطح پر دوروں کا انتظام کرنے کی تجویز دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ پاکستانی وزراء برائے بحریہ، ریلوے اور مواصلات کو ایران مدعو کیا جائے تاکہ اپنے متعلقہ شعبوں میں تعاون کے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان مثبت رابطے نتیجہ خیز رہے جس نے اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مضبوط بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سفیر کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ایس آر او کے تحت بارٹر ٹریڈ میکانزم میں پاکستان کی ترامیم کو تسلیم کیا جن سے دونوں ممالک کے درمیان کاروباری امور کو آسان بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے 2028 تک سالانہ 10 ارب امریکی ڈالر کے دو طرفہ تجارتی ہدف کے حصول کے لیے قیادت کے مشترکہ وژن کو اجاگر کیا اور 15 تا 16 ستمبر 2025 کو تہران میں منعقدہ پاکستان-ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن کے 22 ویں اجلاس کی کامیاب تنظیم پر اطمینان کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے اس بات پر زور دیا کہ وزارتِ تجارت، متعلقہ داخلی اسٹیک ہولڈرز بشمول ایف بی آر اور وزارتِ مواصلات کے ساتھ مشاورت میں، ایران سے آنے والے ٹرکوں کو درپیش مسائل کا فعال طور پر حل کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بی ٹو بی رابطوں کو بڑھانے کے لیے پاکستان-ایران مشترکہ بزنس کونسل کی دوبارہ فعال سازی کا بھی مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور ایران اپنے آزاد ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کو باضابطہ شکل دینے کے قریب پہنچ گئے کیونکہ اس معاہدے کا حتمی متن اب پاکستانی حکام کے زیرِ جائزہ ہے اور جلد اسے باضابطہ منظوری کیلئے پیش کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔</strong></p>
<p>یہ بات وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ایران کے سفیر برائے پاکستان رضا امیری-مغددم کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی جس میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع پر بات چیت کی گئی۔</p>
<p>ملاقات میں جاری اقدامات، تجارتی معاہدوں اور مستقبل کے مواقع پر روشنی ڈالی گئی تاکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>ملاقات کے دوران جام کمال خان نے بتایا کہ پاکستان-ایران فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کا متن جو اسلام آباد میں دستخط کیا گیا تھا، اس وقت داخلی جائزے کے مراحل میں ہے اور جلد باضابطہ منظوری کے لیے پیش کرنے کا منصوبہ ہے۔</p>
<p>ایرانی سفیر نے اس پیشرفت کا خیر مقدم کیا اور بتایا کہ کوئٹہ اور زاہدان کے درمیان پروازیں بحال ہو چکی ہیں جس سے عوامی روابط اور تجارت کو فروغ ملے گا۔</p>
<p>انہوں نے دوطرفہ تجارت میں پیش رفت کو اجاگر کیا اور یاد دہانی کرائی کہ پہلے کے معاہدوں کے تحت 4 لاکھ ٹن چاول، 3 لاکھ ٹن گوشت، 2 لاکھ ٹن مکئی، اور 50 ہزار ٹن جانوروں کے چارے کی درآمدات طے پائی تھیں۔</p>
<p>سفیر نے بتایا کہ ایران نے چاول کی درآمد مکمل کر لی ہے اور اب وہ جانوروں کے چارے اور مکئی خریدنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>جام کمال خان نے ایرانی کمپنیوں اور سرکاری اداروں کو کراچی ایکسپو سینٹر میں 25 تا 27 نومبر 2025 کو منعقد ہونے والی آنے والی فوڈاگ نمائش میں شرکت کی دعوت دی۔</p>
<p>وزیرِ تجارت نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے پلیٹ فارمز ایرانی اور پاکستانی کاروباری حضرات کو زرعی و خوراک کے شعبے میں تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے مواقع فراہم کریں گے۔</p>
<p>وزیرِ تجارت نے کراس بارڈر تجارت کو فروغ دینے اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے عوام کی روزی روٹی بہتر بنانے کے لیے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اور زاہدان کے گورنر کی سطح پر دوروں کا انتظام کرنے کی تجویز دی۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ پاکستانی وزراء برائے بحریہ، ریلوے اور مواصلات کو ایران مدعو کیا جائے تاکہ اپنے متعلقہ شعبوں میں تعاون کے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان مثبت رابطے نتیجہ خیز رہے جس نے اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مضبوط بنایا ہے۔</p>
<p>انہوں نے سفیر کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ایس آر او کے تحت بارٹر ٹریڈ میکانزم میں پاکستان کی ترامیم کو تسلیم کیا جن سے دونوں ممالک کے درمیان کاروباری امور کو آسان بنایا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے 2028 تک سالانہ 10 ارب امریکی ڈالر کے دو طرفہ تجارتی ہدف کے حصول کے لیے قیادت کے مشترکہ وژن کو اجاگر کیا اور 15 تا 16 ستمبر 2025 کو تہران میں منعقدہ پاکستان-ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن کے 22 ویں اجلاس کی کامیاب تنظیم پر اطمینان کا اظہار کیا۔</p>
<p>جام کمال نے اس بات پر زور دیا کہ وزارتِ تجارت، متعلقہ داخلی اسٹیک ہولڈرز بشمول ایف بی آر اور وزارتِ مواصلات کے ساتھ مشاورت میں، ایران سے آنے والے ٹرکوں کو درپیش مسائل کا فعال طور پر حل کر رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بی ٹو بی رابطوں کو بڑھانے کے لیے پاکستان-ایران مشترکہ بزنس کونسل کی دوبارہ فعال سازی کا بھی مطالبہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278831</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Nov 2025 14:08:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/011408077455ff5.webp" type="image/webp" medium="image" height="729" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/011408077455ff5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
