<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:11:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:11:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تین سال کے دوران سرکاری قرض میں کمی کا امکان، معاشی خطرات برقرار، رپورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278825/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فنانس ڈویژن نے کہا ہے کہ آئندہ 3 سال کے دوران پاکستان پر سرکاری قرضوں کا بوجھ بتدریج کم ہونے کی توقع ہے، تاہم ملک اب بھی بڑے معاشی و مالی خطرات سے دوچار ہے، جن میں سست معاشی ترقی، روپے کی قدر میں کمی اور بلند شرحِ سود نمایاں ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ قرض استحکام کا تجزیہ برائے مالی سال 2026 تا 2028“ کے مطابق اگر میکرو مشترکہ فِسکل شاک کا سامنا ہوا تو پبلک اینڈ پبلک گارنٹڈ (پی پی جی) قرض کا جی ڈی پی سے تناسب 70 فیصد کی حد عبور کر جائے گا جس سے قرض کی پائیداری کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منظرنامے میں قرض کا جی ڈی پی سے تناسب مالی سال 26 میں 69.6 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2028 میں 75.3 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متوقع سے کم معاشی نمو، وفاقی پرائمری بیلنس میں بگاڑ، شرحِ سود میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی جیسے عوامل درمیانی مدت میں قرض اور مجموعی مالی ضروریات (جی ایف این) میں نمایاں اضافہ کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بیک وقت میکرو فِسکل شاک سے نمٹنے کے لیے حکومت کو غیر ترجیحی اخراجات میں کمی، محصولات میں بہتری اور قرضوں کی میعاد میں توسیع جیسے اقدامات پر مبنی محتاط و مربوط پالیسی اپنانی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن نے خبردار کیا کہ سرکاری قرض غیر متوقع مالی ذمہ داریوں میں اضافے سے متاثر ہوسکتا ہے، کیونکہ پی پی جی قرض کا جی ڈی پی سے تناسب پہلے ہی مقررہ حد سے زائد ہے۔ مالی سال 2028 میں یہ تناسب بڑھ کر 72.4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر سودی اخراجات میں اضافے کے باعث پرائمری بیلنس پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں جبکہ پوشیدہ مالی خطرات  کے ظاہر ہونے سے قرض کا دباؤ اور درمیانی مدت کا مالی منظرنامہ مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون 2025 تک پاکستان کا مجموعی سرکاری قرض جی ڈی پی کے 70.8 فیصد کے برابر، یعنی 80.52 کھرب روپے رہا، جو گزشتہ سال کے 71.24 کھرب روپے سے زیادہ ہے۔ مجموعی قرض میں ملکی قرض کا حصہ 67.7 فیصد رہا، جبکہ بیرونی قرض 32.3 فیصد تھا، جو زیادہ تر رعایتی دوطرفہ اور کثیرالطرفہ ذرائع سے حاصل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق درمیانی مدت میں قرض کی اوسط میعاد چھ سال سے زائد برقرار رہنے کی توقع ہے، تاہم مختصر مدتی قرض جو مجموعی بیرونی قرض کا 24 فیصد ہے ری فنانسنگ کے خطرے کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح، فلوٹنگ ریٹ پر مبنی قرض کا 41 فیصد حصہ مجموعی مالی ضروریات کے لیے اعتدال درجے کا خطرہ پیش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن نے بتایا کہ بیرونی قرض فی الحال آئی ایم ایف کے مقررہ معیار کے اندر ہے، تاہم اگر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ گیا یا زرمبادلہ ذخائر میں کمی واقع ہوئی تو قرض کی پائیداری متاثر ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلند شرح سود کے باعث ملکی قرض کی ساخت غیر متوازن ہے، کیونکہ اس کا 80 فیصد حصہ فلوٹنگ ریٹ قرض پر مشتمل ہے، جو شرح سود میں اضافے کے لیے انتہائی حساس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، مالی استحکام کی پالیسیوں کے تحت مجموعی عوامی قرض مالی سال 2028 تک کم ہو کر جی ڈی پی کے 60.8 فیصد تک آنے کی توقع ہے، جب کہ حکومتی ضمانتیں 3.8 فیصد سے کم ہو کر 2.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن نے کہا کہ یہ بہتری محتاط مالی نظم و نسق اور پالیسی تسلسل کا نتیجہ ہوگی۔ تاہم اس نے خبردار کیا کہ معاشی نمو میں کمی، ماحولیاتی خطرات، بیرونی دباؤ، پرائمری بیلنس میں تبدیلی اور ممکنہ واجبات کے ادراک سے قرض کی پائیداری کو خطرات لاحق رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مالیاتی نظم میں معمولی لغزش بھی واقع ہوئی، تو قرض برائے جی ڈی پی تناسب 70 فیصد سے تجاوز کر سکتا ہے، جو قرض کے پائیدار رہنے کے لیے خطرہ بن جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ شرح سود میں اضافہ، روپے کی قدر میں کمی اور کم برآمدی آمدن جیسے عوامل قرض کے دباؤ کو بڑھا سکتے ہیں۔ اسٹریس تجزیے کے مطابق، روپے کی گراوٹ قرض کے جی ڈی پی تناسب کو مالی سال 2028 میں 63.3 فیصد سے بڑھا کر 64.1 فیصد تک پہنچا سکتی ہے، جو بیرونی شعبے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فنانس ڈویژن نے کہا ہے کہ آئندہ 3 سال کے دوران پاکستان پر سرکاری قرضوں کا بوجھ بتدریج کم ہونے کی توقع ہے، تاہم ملک اب بھی بڑے معاشی و مالی خطرات سے دوچار ہے، جن میں سست معاشی ترقی، روپے کی قدر میں کمی اور بلند شرحِ سود نمایاں ہیں۔</strong></p>
<p>رپورٹ قرض استحکام کا تجزیہ برائے مالی سال 2026 تا 2028“ کے مطابق اگر میکرو مشترکہ فِسکل شاک کا سامنا ہوا تو پبلک اینڈ پبلک گارنٹڈ (پی پی جی) قرض کا جی ڈی پی سے تناسب 70 فیصد کی حد عبور کر جائے گا جس سے قرض کی پائیداری کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔</p>
<p>اس منظرنامے میں قرض کا جی ڈی پی سے تناسب مالی سال 26 میں 69.6 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2028 میں 75.3 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متوقع سے کم معاشی نمو، وفاقی پرائمری بیلنس میں بگاڑ، شرحِ سود میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی جیسے عوامل درمیانی مدت میں قرض اور مجموعی مالی ضروریات (جی ایف این) میں نمایاں اضافہ کرسکتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بیک وقت میکرو فِسکل شاک سے نمٹنے کے لیے حکومت کو غیر ترجیحی اخراجات میں کمی، محصولات میں بہتری اور قرضوں کی میعاد میں توسیع جیسے اقدامات پر مبنی محتاط و مربوط پالیسی اپنانی ہوگی۔</p>
<p>فنانس ڈویژن نے خبردار کیا کہ سرکاری قرض غیر متوقع مالی ذمہ داریوں میں اضافے سے متاثر ہوسکتا ہے، کیونکہ پی پی جی قرض کا جی ڈی پی سے تناسب پہلے ہی مقررہ حد سے زائد ہے۔ مالی سال 2028 میں یہ تناسب بڑھ کر 72.4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر سودی اخراجات میں اضافے کے باعث پرائمری بیلنس پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں جبکہ پوشیدہ مالی خطرات  کے ظاہر ہونے سے قرض کا دباؤ اور درمیانی مدت کا مالی منظرنامہ مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>جون 2025 تک پاکستان کا مجموعی سرکاری قرض جی ڈی پی کے 70.8 فیصد کے برابر، یعنی 80.52 کھرب روپے رہا، جو گزشتہ سال کے 71.24 کھرب روپے سے زیادہ ہے۔ مجموعی قرض میں ملکی قرض کا حصہ 67.7 فیصد رہا، جبکہ بیرونی قرض 32.3 فیصد تھا، جو زیادہ تر رعایتی دوطرفہ اور کثیرالطرفہ ذرائع سے حاصل کیا گیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق درمیانی مدت میں قرض کی اوسط میعاد چھ سال سے زائد برقرار رہنے کی توقع ہے، تاہم مختصر مدتی قرض جو مجموعی بیرونی قرض کا 24 فیصد ہے ری فنانسنگ کے خطرے کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح، فلوٹنگ ریٹ پر مبنی قرض کا 41 فیصد حصہ مجموعی مالی ضروریات کے لیے اعتدال درجے کا خطرہ پیش کرتا ہے۔</p>
<p>فنانس ڈویژن نے بتایا کہ بیرونی قرض فی الحال آئی ایم ایف کے مقررہ معیار کے اندر ہے، تاہم اگر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ گیا یا زرمبادلہ ذخائر میں کمی واقع ہوئی تو قرض کی پائیداری متاثر ہوسکتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلند شرح سود کے باعث ملکی قرض کی ساخت غیر متوازن ہے، کیونکہ اس کا 80 فیصد حصہ فلوٹنگ ریٹ قرض پر مشتمل ہے، جو شرح سود میں اضافے کے لیے انتہائی حساس ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، مالی استحکام کی پالیسیوں کے تحت مجموعی عوامی قرض مالی سال 2028 تک کم ہو کر جی ڈی پی کے 60.8 فیصد تک آنے کی توقع ہے، جب کہ حکومتی ضمانتیں 3.8 فیصد سے کم ہو کر 2.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہیں۔</p>
<p>فنانس ڈویژن نے کہا کہ یہ بہتری محتاط مالی نظم و نسق اور پالیسی تسلسل کا نتیجہ ہوگی۔ تاہم اس نے خبردار کیا کہ معاشی نمو میں کمی، ماحولیاتی خطرات، بیرونی دباؤ، پرائمری بیلنس میں تبدیلی اور ممکنہ واجبات کے ادراک سے قرض کی پائیداری کو خطرات لاحق رہیں گے۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مالیاتی نظم میں معمولی لغزش بھی واقع ہوئی، تو قرض برائے جی ڈی پی تناسب 70 فیصد سے تجاوز کر سکتا ہے، جو قرض کے پائیدار رہنے کے لیے خطرہ بن جائے گا۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ شرح سود میں اضافہ، روپے کی قدر میں کمی اور کم برآمدی آمدن جیسے عوامل قرض کے دباؤ کو بڑھا سکتے ہیں۔ اسٹریس تجزیے کے مطابق، روپے کی گراوٹ قرض کے جی ڈی پی تناسب کو مالی سال 2028 میں 63.3 فیصد سے بڑھا کر 64.1 فیصد تک پہنچا سکتی ہے، جو بیرونی شعبے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278825</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Nov 2025 11:29:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/01111813c54e3fc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/01111813c54e3fc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
