<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:19:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:19:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>”قیمتوں میں بے ضابطگی“: رپورٹ کے مطابق جولائی تا ستمبر تیل کی درآمد پر پیٹرولیم صنعت کو فی لیٹر 3 روپے کا نقصان ہوا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278821/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی پیٹرولیم صنعت کو جولائی سے ستمبر 2025 کے دوران خام تیل اور تیار شدہ مصنوعات کی درآمد پر فی لیٹر 3 روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ سینرجیکو پاکستان کی حالیہ رپورٹ کے مطابق یہ نقصان روپے اور امریکی ڈالر کے تبادلے کی شرح میں ’’نمایاں فرق‘‘ کے باعث ہوا، جو ایک جانب مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں استعمال ہوئی اور دوسری جانب ادائیگی کے وقت لاگو کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے کہا ہے کہ پیٹرولیم صنعت نے یہ مسئلہ حکومت کے سامنے اٹھایا ہے اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں کے تعین کے فارمولے میں ضروری تبدیلیاں کی جائیں تاکہ اس غیر ضروری نقصان سے بچا جا سکے جو مجموعی طور پر بھاری مالی بوجھ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینرجیکو پاکستان نے اپنی تفصیلی مالیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ تیل کے شعبے کو اس وقت ’’مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے فارمولے میں استعمال ہونے والی شرح مبادلہ اور درآمد شدہ خام تیل و مصنوعات کی ادائیگی کے وقت لاگو حقیقی شرح مبادلہ کے درمیان نمایاں فرق‘‘ کے باعث شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔ یہ رپورٹ 30 ستمبر 2025 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے حوالے سے جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج ( پی ایس ایکس) کو جمع کرائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’موجودہ سہ ماہی کے دوران یہ فرق اوسطاً فی لیٹر 3 روپے رہا، جس کے نتیجے میں خام تیل یا پیٹرولیم مصنوعات کے ہر درآمد کنندہ کو نمایاں ناقابلِ وصول زرِ مبادلہ خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر نے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’تیل کی صنعت نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ قیمتوں کے تعین کے فارمولے میں ضروری تبدیلیاں کی جائیں تاکہ کاروباری اداروں کو اس غیر معمولی تضاد کی وجہ سے بھاری نقصان نہ اٹھانا پڑے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے خام تیل کی خریداری پر ادا کیے گئے ان پٹ ٹیکس کو ریفائن شدہ مصنوعات، بشمول پیٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، لائٹ ڈیزل آئل اور مٹی کے تیل، پر سیلز ٹیکس سے منہا کرنے کی اجازت نہ دینے کے بعد صنعت کو اضافی لاگت برداشت کرنی پڑ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ’’حکومت نے جولائی 2024 سے پیٹرولیم مصنوعات کو سیلز ٹیکس کے مقاصد کے لیے قابلِ ٹیکس اشیا سے خارج کر کے مستثنیٰ اشیا میں شامل کر دیا، جس کے نتیجے میں ان پٹ ٹیکس کی مناہی ہو گئی۔ اس کے جواب میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی ( ای سی سی) نے مالی سال 2025 کے دوران غیر منہا شدہ سیلز ٹیکس کی وصولی اندرونِ ملک فریٹ ایکو لائزیشن مارجن ( آئی ایف ای ایم ) کے ذریعے منظور کی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے کہا ہے کہ ’’ہمیں امید ہے کہ حکومت فوری اور فیصلہ کن اقدامات اٹھا کر اس بڑے مسئلے کو حل کرے گی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینرجیکو کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں فرنس آئل ( ایف او ) کی طلب متبادل توانائی ذرائع کی جانب منتقلی کے باعث نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’اس کے ساتھ ہی حکومت نے مقامی سطح پر فروخت ہونے والے فرنس آئل پر پیٹرولیم لیوی (پی ایل ) اور کاربن سپورٹ لیوی ( سی ایس ایل ) عائد کر دی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’’ان لیویز نے صارفین کے لیے لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی طلب تقریباً ختم ہو گئی ہے اور ریفائنریوں کو زیادہ نقصان کے ساتھ فرنس آئل ( ایف او ) برآمد کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ نتیجتاً، مالی سال 2022 تک جہاں فرنس آئل کی برآمدات صفر تھیں، اب پیداوار کا 80 فیصد سے زائد حصہ برآمد کیا جا رہا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’ہمیں امید ہے کہ حکومت ان لیویز کے منفی اثرات پر غور کرے گی اور اس مسئلے کو فوری طور پر حل کرے گی۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی پیٹرولیم صنعت کو جولائی سے ستمبر 2025 کے دوران خام تیل اور تیار شدہ مصنوعات کی درآمد پر فی لیٹر 3 روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ سینرجیکو پاکستان کی حالیہ رپورٹ کے مطابق یہ نقصان روپے اور امریکی ڈالر کے تبادلے کی شرح میں ’’نمایاں فرق‘‘ کے باعث ہوا، جو ایک جانب مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں استعمال ہوئی اور دوسری جانب ادائیگی کے وقت لاگو کی گئی۔</strong></p>
<p>کمپنی نے کہا ہے کہ پیٹرولیم صنعت نے یہ مسئلہ حکومت کے سامنے اٹھایا ہے اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں کے تعین کے فارمولے میں ضروری تبدیلیاں کی جائیں تاکہ اس غیر ضروری نقصان سے بچا جا سکے جو مجموعی طور پر بھاری مالی بوجھ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>سینرجیکو پاکستان نے اپنی تفصیلی مالیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ تیل کے شعبے کو اس وقت ’’مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے فارمولے میں استعمال ہونے والی شرح مبادلہ اور درآمد شدہ خام تیل و مصنوعات کی ادائیگی کے وقت لاگو حقیقی شرح مبادلہ کے درمیان نمایاں فرق‘‘ کے باعث شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔ یہ رپورٹ 30 ستمبر 2025 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے حوالے سے جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج ( پی ایس ایکس) کو جمع کرائی گئی۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’موجودہ سہ ماہی کے دوران یہ فرق اوسطاً فی لیٹر 3 روپے رہا، جس کے نتیجے میں خام تیل یا پیٹرولیم مصنوعات کے ہر درآمد کنندہ کو نمایاں ناقابلِ وصول زرِ مبادلہ خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘</p>
<p>کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر نے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’تیل کی صنعت نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ قیمتوں کے تعین کے فارمولے میں ضروری تبدیلیاں کی جائیں تاکہ کاروباری اداروں کو اس غیر معمولی تضاد کی وجہ سے بھاری نقصان نہ اٹھانا پڑے۔‘‘</p>
<p>رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے خام تیل کی خریداری پر ادا کیے گئے ان پٹ ٹیکس کو ریفائن شدہ مصنوعات، بشمول پیٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، لائٹ ڈیزل آئل اور مٹی کے تیل، پر سیلز ٹیکس سے منہا کرنے کی اجازت نہ دینے کے بعد صنعت کو اضافی لاگت برداشت کرنی پڑ رہی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ’’حکومت نے جولائی 2024 سے پیٹرولیم مصنوعات کو سیلز ٹیکس کے مقاصد کے لیے قابلِ ٹیکس اشیا سے خارج کر کے مستثنیٰ اشیا میں شامل کر دیا، جس کے نتیجے میں ان پٹ ٹیکس کی مناہی ہو گئی۔ اس کے جواب میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی ( ای سی سی) نے مالی سال 2025 کے دوران غیر منہا شدہ سیلز ٹیکس کی وصولی اندرونِ ملک فریٹ ایکو لائزیشن مارجن ( آئی ایف ای ایم ) کے ذریعے منظور کی۔‘‘</p>
<p>کمپنی نے کہا ہے کہ ’’ہمیں امید ہے کہ حکومت فوری اور فیصلہ کن اقدامات اٹھا کر اس بڑے مسئلے کو حل کرے گی۔‘‘</p>
<p>سینرجیکو کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں فرنس آئل ( ایف او ) کی طلب متبادل توانائی ذرائع کی جانب منتقلی کے باعث نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔</p>
<p>’’اس کے ساتھ ہی حکومت نے مقامی سطح پر فروخت ہونے والے فرنس آئل پر پیٹرولیم لیوی (پی ایل ) اور کاربن سپورٹ لیوی ( سی ایس ایل ) عائد کر دی ہے۔‘‘</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’’ان لیویز نے صارفین کے لیے لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی طلب تقریباً ختم ہو گئی ہے اور ریفائنریوں کو زیادہ نقصان کے ساتھ فرنس آئل ( ایف او ) برآمد کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ نتیجتاً، مالی سال 2022 تک جہاں فرنس آئل کی برآمدات صفر تھیں، اب پیداوار کا 80 فیصد سے زائد حصہ برآمد کیا جا رہا ہے۔‘‘</p>
<p>کمپنی نے رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’ہمیں امید ہے کہ حکومت ان لیویز کے منفی اثرات پر غور کرے گی اور اس مسئلے کو فوری طور پر حل کرے گی۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278821</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Oct 2025 22:14:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/31215530b62e5fa.webp" type="image/webp" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/31215530b62e5fa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
