<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:10:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:10:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے کئی دہائیوں بعد پہلے آف شور تیل کی تلاش کے بلاکس الاٹ کر دیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278818/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے کہا ہے کہ تیل و گیس کی تلاش کے 23 آف شور بلاکس مقامی توانائی کمپنیوں کی قیادت میں قائم چار کنسورشیمز کو الاٹ کیے گئے ہیں جن میں بعض نے غیر ملکی کمپنیوں، بشمول ترکیہ کی قومی تیل کمپنی ٹی پی اے او، کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً دو دہائیوں بعد ہونے والے اس نوعیت کے پہلے بولی کے عمل میں پاکستان کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ 40 میں سے 23 آف شور بلاکس کی بولی کامیابی سے مکمل ہوئی، جو تقریباً 53,500 مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ توانائی کے مطابق کامیاب بولی دہندگان میں سرکاری شعبے کی کمپنیاں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ ( او جی ڈی سی ایل )، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل ) اور ماری انرجیز  شامل ہیں، جب کہ نجی شعبے کی کمپنی پرائم انرجی، جو پاکستان کی حب پاور کمپنی ( حبکو) کی معاونت یافتہ ہے، بھی کامیاب بولی دہندگان میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ کی قومی تیل کمپنی (ٹی پی اے او ) نے رواں  سال کے اوائل میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے ساتھ ایک مشترکہ بولی کا معاہدہ کرنے کے بعد الاٹ کیے گئے بلاکس میں سے ایک میں 25 فیصد حصص اور اس کے آپریٹر کے طور پر کام کرنے کا حق حاصل کیا ہے تاکہ ملک کی آف شور صلاحیتوں کی تلاش کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر شراکت داروں میں ہانگ کانگ کی کمپنی یونائیٹڈ انرجی گروپ، مقامی بڑی خودمختار تیل کمپنی اورینٹ پیٹرولیم اور فاطمہ گروپ کے زیرِ انتظام فاطمہ پیٹرولیم شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ توانائی کے مطابق پی پی ایل ،او جی ڈی سی ایل، ماری پیٹرولیم  اور پرائم انرجی کی قیادت میں قائم چار کنسورشیمز نے ابتدائی تین سالہ مدت میں 8 کروڑ ڈالر کے ایکسپلوریشن ورک کا عہد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے مزید کہا ہے کہ اگر ڈرلنگ آگے بڑھتی ہے تو کل سرمایہ کاری کی مالیت 75 کروڑ سے 1 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا تقریباً 3 لاکھ مربع کلومیٹر پر مشتمل آف شور زون، جو توانائی سے مالا مال ممالک عمان، متحدہ عرب امارات اور ایران کی سرحدوں سے متصل ہے، میں آزادی کے بعد سے اب تک صرف 18 کنویں کھودے گئے ہیں، جو اس کے ہائیڈروکاربن وسائل کی مکمل صلاحیت جانچنے کے لیے ناکافی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان، جو اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً نصف حصہ درآمد کرتا ہے، 2019 میں ککرا-1 کنویں کی ناکامی کے بعد امریکی کمپنی ایکسون موبل کے انخلا کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے کہا ہے کہ تیل و گیس کی تلاش کے 23 آف شور بلاکس مقامی توانائی کمپنیوں کی قیادت میں قائم چار کنسورشیمز کو الاٹ کیے گئے ہیں جن میں بعض نے غیر ملکی کمپنیوں، بشمول ترکیہ کی قومی تیل کمپنی ٹی پی اے او، کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔</strong></p>
<p>تقریباً دو دہائیوں بعد ہونے والے اس نوعیت کے پہلے بولی کے عمل میں پاکستان کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ 40 میں سے 23 آف شور بلاکس کی بولی کامیابی سے مکمل ہوئی، جو تقریباً 53,500 مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہیں۔</p>
<p>وزارتِ توانائی کے مطابق کامیاب بولی دہندگان میں سرکاری شعبے کی کمپنیاں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ ( او جی ڈی سی ایل )، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل ) اور ماری انرجیز  شامل ہیں، جب کہ نجی شعبے کی کمپنی پرائم انرجی، جو پاکستان کی حب پاور کمپنی ( حبکو) کی معاونت یافتہ ہے، بھی کامیاب بولی دہندگان میں شامل ہے۔</p>
<p>ترکیہ کی قومی تیل کمپنی (ٹی پی اے او ) نے رواں  سال کے اوائل میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے ساتھ ایک مشترکہ بولی کا معاہدہ کرنے کے بعد الاٹ کیے گئے بلاکس میں سے ایک میں 25 فیصد حصص اور اس کے آپریٹر کے طور پر کام کرنے کا حق حاصل کیا ہے تاکہ ملک کی آف شور صلاحیتوں کی تلاش کی جا سکے۔</p>
<p>دیگر شراکت داروں میں ہانگ کانگ کی کمپنی یونائیٹڈ انرجی گروپ، مقامی بڑی خودمختار تیل کمپنی اورینٹ پیٹرولیم اور فاطمہ گروپ کے زیرِ انتظام فاطمہ پیٹرولیم شامل ہیں۔</p>
<p>وزارتِ توانائی کے مطابق پی پی ایل ،او جی ڈی سی ایل، ماری پیٹرولیم  اور پرائم انرجی کی قیادت میں قائم چار کنسورشیمز نے ابتدائی تین سالہ مدت میں 8 کروڑ ڈالر کے ایکسپلوریشن ورک کا عہد کیا ہے۔</p>
<p>وزارت نے مزید کہا ہے کہ اگر ڈرلنگ آگے بڑھتی ہے تو کل سرمایہ کاری کی مالیت 75 کروڑ سے 1 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کا تقریباً 3 لاکھ مربع کلومیٹر پر مشتمل آف شور زون، جو توانائی سے مالا مال ممالک عمان، متحدہ عرب امارات اور ایران کی سرحدوں سے متصل ہے، میں آزادی کے بعد سے اب تک صرف 18 کنویں کھودے گئے ہیں، جو اس کے ہائیڈروکاربن وسائل کی مکمل صلاحیت جانچنے کے لیے ناکافی ہیں۔</p>
<p>پاکستان، جو اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً نصف حصہ درآمد کرتا ہے، 2019 میں ککرا-1 کنویں کی ناکامی کے بعد امریکی کمپنی ایکسون موبل کے انخلا کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278818</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Nov 2025 14:14:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/011414024367653.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/011414024367653.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
