<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی وزیر خزانہ کی امریکی وفد سے ملاقات ، معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری پرتبادلہ خیال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278815/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے امریکی حکومت کے مالی تعاون سے چلنے والے یو ایس کرٹیکل مائنرلز فورم کو ملک کے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون کے لیے جامع فریم ورک پیش کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہ اقدام امریکی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے لیے اہم موقع فراہم کرتا ہے، کیونکہ اسلام آباد اپنے اہم معدنی وسائل کے امکانات کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی فورم کے صدر رابرٹ لوئس اسٹریئر II کے درمیان اعلیٰ سطح  ملاقات کے دوران سامنے آئی جس میں امریکی سفارتخانے کی چارج ڈی افیئرز  نٹالی بیکر اور وزارت خزانہ کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں دونوں جانب معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون کے مواقع، سپلائی چین کی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور پاکستان میں ذمہ دار سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے پاکستان کی مستحکم اقتصادی صورتحال، قانونی اور ریگولیٹری اصلاحات اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کہا کہ مضبوط معدنیاتی پالیسی ملک کو کھپت پر مبنی چکروں سے برآمدی نمو کی طرف لے جانے اور بیلنس آف پے منٹس کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے گی۔ انہوں نے پاکستان کے عالمی تعلقات بالخصوص امریکہ، چین اور سعودی عرب کے ساتھ شراکت داری کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹریئر نے بتایا کہ فورم امریکی صنعت کے لیے محفوظ اور شفاف معدنی سپلائی چین کے قیام، نایاب دھاتوں میں سرمایہ کاری کے خطرات کم کرنے، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور آئی پی تحفظ میں کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وفد نے پاکستان کی سائنس، انجینئرنگ اور ریاضی کی صلاحیتوں کو عالمی معیار کا مقابلتی عنصر قرار دیا اور ملک کو مستقبل میں کرٹیکل معدنیات کے شعبے کا مرکز بنانے کی صلاحیت تسلیم کی۔ ملاقات کا اختتام دونوں فریقین کے معدنیات کے شعبے میں مسلسل تعاون اور پائیدار ترقی کے مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے امریکی حکومت کے مالی تعاون سے چلنے والے یو ایس کرٹیکل مائنرلز فورم کو ملک کے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون کے لیے جامع فریم ورک پیش کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہ اقدام امریکی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے لیے اہم موقع فراہم کرتا ہے، کیونکہ اسلام آباد اپنے اہم معدنی وسائل کے امکانات کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی فورم کے صدر رابرٹ لوئس اسٹریئر II کے درمیان اعلیٰ سطح  ملاقات کے دوران سامنے آئی جس میں امریکی سفارتخانے کی چارج ڈی افیئرز  نٹالی بیکر اور وزارت خزانہ کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔</p>
<p>ملاقات میں دونوں جانب معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون کے مواقع، سپلائی چین کی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور پاکستان میں ذمہ دار سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے پاکستان کی مستحکم اقتصادی صورتحال، قانونی اور ریگولیٹری اصلاحات اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پر زور دیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کہا کہ مضبوط معدنیاتی پالیسی ملک کو کھپت پر مبنی چکروں سے برآمدی نمو کی طرف لے جانے اور بیلنس آف پے منٹس کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے گی۔ انہوں نے پاکستان کے عالمی تعلقات بالخصوص امریکہ، چین اور سعودی عرب کے ساتھ شراکت داری کو اجاگر کیا۔</p>
<p>اسٹریئر نے بتایا کہ فورم امریکی صنعت کے لیے محفوظ اور شفاف معدنی سپلائی چین کے قیام، نایاب دھاتوں میں سرمایہ کاری کے خطرات کم کرنے، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور آئی پی تحفظ میں کام کرتا ہے۔</p>
<p>امریکی وفد نے پاکستان کی سائنس، انجینئرنگ اور ریاضی کی صلاحیتوں کو عالمی معیار کا مقابلتی عنصر قرار دیا اور ملک کو مستقبل میں کرٹیکل معدنیات کے شعبے کا مرکز بنانے کی صلاحیت تسلیم کی۔ ملاقات کا اختتام دونوں فریقین کے معدنیات کے شعبے میں مسلسل تعاون اور پائیدار ترقی کے مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278815</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Nov 2025 14:22:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/3116074445e535a.webp" type="image/webp" medium="image" height="1351" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/3116074445e535a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
