<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شرحِ سود برقرار رکھنے کا فیصلہ صنعتی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278798/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے صدر زبیر طفیل نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جانب سے پالیسی شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ملکی صنعت کی ترقی میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ مرکزی بینک شرح سود کو سنگل ڈیجٹ تک کم کرے، لیکن اس مطالبے کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ زبیر طفیل نے کہا کہ شرح سود کو زمینی حقائق کے برعکس برقرار رکھا گیا ہے جس سے کاروباری حلقوں میں گہری تشویش پیدا ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ مہنگائی بڑی حد تک قابو میں آچکی ہے اور اس صورتحال میں شرح سود میں 2 سے 3 فیصد کمی کی توقع کی جا رہی تھی۔ ان حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے شرح سود برقرار رکھنا موجودہ معاشی حالات میں ناقابلِ یقین فیصلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زبیر طفیل نے مزید کہا کہ اگر مانیٹری پالیسی کمیٹی کے لیے شرح سود میں 2 یا 3 فیصد کمی کرنا مشکل تھا تو کم از کم ایک فیصد کمی کا اعلان تو کیا جانا چاہیے تھا تاکہ صنعتی ترقی کو سہارا ملے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ  ملک کی صنعتیں پہلے ہی ناقابلِ برداشت بجلی اور گیس ٹیرف کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں جس سے کاروبار کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، وہ مزید مہنگے قرضوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زبیر طفیل نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا یہ اقدام نئی سرمایہ کاری کو مایوس کرے گا اور پاکستان میں صنعتی ترقی کی رفتار کو سست کر دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے صدر زبیر طفیل نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جانب سے پالیسی شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ملکی صنعت کی ترقی میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ مرکزی بینک شرح سود کو سنگل ڈیجٹ تک کم کرے، لیکن اس مطالبے کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ زبیر طفیل نے کہا کہ شرح سود کو زمینی حقائق کے برعکس برقرار رکھا گیا ہے جس سے کاروباری حلقوں میں گہری تشویش پیدا ہوگئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ مہنگائی بڑی حد تک قابو میں آچکی ہے اور اس صورتحال میں شرح سود میں 2 سے 3 فیصد کمی کی توقع کی جا رہی تھی۔ ان حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے شرح سود برقرار رکھنا موجودہ معاشی حالات میں ناقابلِ یقین فیصلہ ہے۔</p>
<p>زبیر طفیل نے مزید کہا کہ اگر مانیٹری پالیسی کمیٹی کے لیے شرح سود میں 2 یا 3 فیصد کمی کرنا مشکل تھا تو کم از کم ایک فیصد کمی کا اعلان تو کیا جانا چاہیے تھا تاکہ صنعتی ترقی کو سہارا ملے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ  ملک کی صنعتیں پہلے ہی ناقابلِ برداشت بجلی اور گیس ٹیرف کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں جس سے کاروبار کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، وہ مزید مہنگے قرضوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں۔</p>
<p>زبیر طفیل نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا یہ اقدام نئی سرمایہ کاری کو مایوس کرے گا اور پاکستان میں صنعتی ترقی کی رفتار کو سست کر دے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278798</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Oct 2025 11:45:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/311142138349ca9.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/311142138349ca9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
