<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر ملکی سرمایہ کاری: پالیسی تضادات سے اعتماد مجروح</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278795/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی حکام غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے حصول کے لیے بے حد کوششیں کر رہے ہیں۔ ممکنہ سرمایہ کاروں کیلئے خوش آمدیدی قالین بچھائے جارہے ہیں اور بزنس ٹو بزنس ملاقاتوں کا اہتمام کیا جارہا ہے تاکہ ان رابطوں کو ٹھوس معاہدوں میں تبدیل کیا جاسکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اب تک صورتِحال محض مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کی بڑھتی فہرست تک محدود ہے، جب تک پالیسیوں کو حقیقت پسندانہ اور مستقل نہیں بنایا جاتا، کسی بھی قسم کی پیداواری سرمایہ کاری حاصل کرنا محض ایک خواب ہی رہے گا۔ حکام بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے مختلف مراعات  جیسے ٹیکس میں چھوٹ اور خودمختار ضمانتیں  پیش کر رہے ہیں، لیکن دوسری جانب وہ موجودہ سرمایہ کاروں کے ساتھ اب بھی غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسر (آئی پی پی ) پالیسیوں چاہے وہ 1994، 2002 یا 2015 کی ہوں میں اُس وقت کی حکومتیں بجلی گھروں کے قیام کیلئے بے حد بے تاب رہیں اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن ضمانت اور ترغیب فراہم کی۔ 1994 کی پالیسی کے تحت مغربی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی، لیکن بعد کی پالیسیوں میں ان میں سے کوئی دوبارہ واپس نہیں آیا۔ بالآخر 2015 کی پالیسی کے دوران پاکستان کو مکمل طور پر چینی سرمایہ کاروں پر انحصار کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تو کم از کم توانائی شعبے میں چینی سرمایہ کار بھی مزید سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں، کچھ عرصہ قبل آئی پی پیز کے ساتھ ایک اور دورِ مذاکرات ہوا، مگر توانائی شعبے میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آئی اور صارفین کو بھی معمولی فائدہ ہی حاصل ہوا۔ تاہم تمام سرمایہ کاروں کے ساتھ یکساں برتاؤ نہیں کیا گیا، ایک غیر ملکی سرمایہ کار نے از سرِ نو مذاکرات سے بچ نکلنے میں کامیابی حاصل کی اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا پلانٹ ایک مقامی گروپ کو فروخت کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت پاور ڈویژن اور ریگولیٹر نیپرا نے بجلی کی تقسیم کے شعبے میں کام کرنے والی واحد نجی کمپنی کے الیکٹرک (کے ای) کو نشانے پر لے رکھا ہے جو ایک مکمل انٹیگریٹڈ ادارہ ہے۔ نیپرا نے غیر حقیقی مفروضوں کی بنیاد پر کے۔الیکٹرک کا ملٹی ایئر ٹیرف کم کردیا ہے جس سے کمپنی عملاً وزارتِ توانائی کے لیے نیا نشانہ بن گئی ہے۔ کمپنی کے سعودی شیئر ہولڈرز اب بین الاقوامی ثالثی سے رجوع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔یہ صورتحال مجموعی طور پر غیر ملکی سرمایہ کاروں اور خاص طور پر سعودی سرمایہ کاروںکو کیا پیغام دیتی ہے؟ صرف چند ہفتے قبل کےالیکٹرک کے ایک شیئر ہولڈر نے ایک سعودی شہزادے کے ساتھ ممکنہ شیئر ٹرانسفر کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ اب بھی ممکن ہو پائے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت ڈسکوز کی نجکاری اور ڈی ریگولیشن کے امکانات بھی تلاش کر رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب موجودہ سرمایہ کاروں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جا رہا ہے تو کون خریداری کرے گا؟ جب سرمایہ کار یہ دیکھتے ہیں کہ حکام صرف اس وجہ سے پالیسی کا رخ بدل لیتے ہیں کہ کوئی سرمایہ کار یا کمپنی اُن کی من مانی شرائط کے مطابق دستخط شدہ معاہدوں میں ترمیم کرنے پر آمادہ نہیں، تو پھر کون سرمایہ کاری کرے گا؟ یہ مشکل مگر ضروری سوالات ہیں، جن کا جواب دیے بغیر حکومت نجکاری کے حوالے سے اپنی سنجیدگی کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی شعبہ اب بھی ایک مشکل چیلنج بنا ہوا ہے۔ اس سے وابستہ کئی اخراجات سماجی نوعیت کے ہیں جنہیں درست ثابت کرنے اور نجی شعبے کو ان اخراجات کی ذمہ داری لینے کے لیے مالی مراعات فراہم کرنے کے مؤثر طریقۂ کار موجود ہونا چاہیے، جن میں یکساں ٹیرف اور عوامی خدمات کی فراہمی کی ذمہ داری شامل ہے، چاہے ریکوری میں مشکلات کیوں نہ ہوں۔ ریگولیٹر کو انتہائی مؤثر، باریک بین اور مستقبل پر نظر رکھنے والا ہونا چاہیے، مگر بدقسمتی سے نیپرا کی کارکردگی اس معیار پر پوری نہیں اترتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے۔الیکٹرک کا ملٹی ایئر ٹیرف حتمی شکل دینے میں 18 ماہ تک غور و خوض کے بعد، نیپرا نے صرف دو ماہ کے اندر ازخود کارروائی (سوموٹو) کے ذریعے اس میں بڑی تبدیلی کر دی۔ دوسری جانب  پاور ڈویژن کے حکام مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر کے۔الیکٹرک کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ شاید انہیں یہ احساس نہیں کہ ممکنہ غیر ملکی سرمایہ کار ان تمام معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اپنے فیصلے اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ حکومت اور ریگولیٹرز موجودہ سرمایہ کاروں خصوصاً اُن شعبوں میں جہاں عوامی نگرانی زیادہ ہو  کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر حکومت اسی طرزِ عمل پر قائم رہنا چاہتی ہے تو اسے اُن شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مدعو کرنے سے گریز کرنا چاہیے جہاں سوشل کوسٹ زیادہ ہوں کیونکہ کوئی نجی سرمایہ کار اس لالچ میں نہیں آئے گا۔ مثال کے طور پر بھارت ہر شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دیتا پاکستان کو بھی اسی طرز کا نقطۂ نظر اختیار کرنا چاہیے، تاہم اگر ملکی سرمایہ کار بھی یہ محسوس کریں کہ مستقبل میں اُن پر دباؤ یا مداخلت کا خطرہ ہے تو وہ بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہوں گے۔ حکومت اور ریگولیٹرز کو وسیع تر تناظر میں سوچنے کی ضرورت ہے اور قلیل مدتی فوائد کے لیے طویل مدتی خطرات پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے، ورنہ اس کا نقصان بالآخر معیشتِ پاکستان کو برداشت کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی حکام غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے حصول کے لیے بے حد کوششیں کر رہے ہیں۔ ممکنہ سرمایہ کاروں کیلئے خوش آمدیدی قالین بچھائے جارہے ہیں اور بزنس ٹو بزنس ملاقاتوں کا اہتمام کیا جارہا ہے تاکہ ان رابطوں کو ٹھوس معاہدوں میں تبدیل کیا جاسکے۔</strong></p>
<p>تاہم اب تک صورتِحال محض مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کی بڑھتی فہرست تک محدود ہے، جب تک پالیسیوں کو حقیقت پسندانہ اور مستقل نہیں بنایا جاتا، کسی بھی قسم کی پیداواری سرمایہ کاری حاصل کرنا محض ایک خواب ہی رہے گا۔ حکام بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے مختلف مراعات  جیسے ٹیکس میں چھوٹ اور خودمختار ضمانتیں  پیش کر رہے ہیں، لیکن دوسری جانب وہ موجودہ سرمایہ کاروں کے ساتھ اب بھی غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔</p>
<p>تمام انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسر (آئی پی پی ) پالیسیوں چاہے وہ 1994، 2002 یا 2015 کی ہوں میں اُس وقت کی حکومتیں بجلی گھروں کے قیام کیلئے بے حد بے تاب رہیں اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن ضمانت اور ترغیب فراہم کی۔ 1994 کی پالیسی کے تحت مغربی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی، لیکن بعد کی پالیسیوں میں ان میں سے کوئی دوبارہ واپس نہیں آیا۔ بالآخر 2015 کی پالیسی کے دوران پاکستان کو مکمل طور پر چینی سرمایہ کاروں پر انحصار کرنا پڑا۔</p>
<p>اب تو کم از کم توانائی شعبے میں چینی سرمایہ کار بھی مزید سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں، کچھ عرصہ قبل آئی پی پیز کے ساتھ ایک اور دورِ مذاکرات ہوا، مگر توانائی شعبے میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آئی اور صارفین کو بھی معمولی فائدہ ہی حاصل ہوا۔ تاہم تمام سرمایہ کاروں کے ساتھ یکساں برتاؤ نہیں کیا گیا، ایک غیر ملکی سرمایہ کار نے از سرِ نو مذاکرات سے بچ نکلنے میں کامیابی حاصل کی اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا پلانٹ ایک مقامی گروپ کو فروخت کردیا۔</p>
<p>اس وقت پاور ڈویژن اور ریگولیٹر نیپرا نے بجلی کی تقسیم کے شعبے میں کام کرنے والی واحد نجی کمپنی کے الیکٹرک (کے ای) کو نشانے پر لے رکھا ہے جو ایک مکمل انٹیگریٹڈ ادارہ ہے۔ نیپرا نے غیر حقیقی مفروضوں کی بنیاد پر کے۔الیکٹرک کا ملٹی ایئر ٹیرف کم کردیا ہے جس سے کمپنی عملاً وزارتِ توانائی کے لیے نیا نشانہ بن گئی ہے۔ کمپنی کے سعودی شیئر ہولڈرز اب بین الاقوامی ثالثی سے رجوع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔یہ صورتحال مجموعی طور پر غیر ملکی سرمایہ کاروں اور خاص طور پر سعودی سرمایہ کاروںکو کیا پیغام دیتی ہے؟ صرف چند ہفتے قبل کےالیکٹرک کے ایک شیئر ہولڈر نے ایک سعودی شہزادے کے ساتھ ممکنہ شیئر ٹرانسفر کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ اب بھی ممکن ہو پائے گا؟</p>
<p>حکومت ڈسکوز کی نجکاری اور ڈی ریگولیشن کے امکانات بھی تلاش کر رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب موجودہ سرمایہ کاروں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جا رہا ہے تو کون خریداری کرے گا؟ جب سرمایہ کار یہ دیکھتے ہیں کہ حکام صرف اس وجہ سے پالیسی کا رخ بدل لیتے ہیں کہ کوئی سرمایہ کار یا کمپنی اُن کی من مانی شرائط کے مطابق دستخط شدہ معاہدوں میں ترمیم کرنے پر آمادہ نہیں، تو پھر کون سرمایہ کاری کرے گا؟ یہ مشکل مگر ضروری سوالات ہیں، جن کا جواب دیے بغیر حکومت نجکاری کے حوالے سے اپنی سنجیدگی کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔</p>
<p>توانائی شعبہ اب بھی ایک مشکل چیلنج بنا ہوا ہے۔ اس سے وابستہ کئی اخراجات سماجی نوعیت کے ہیں جنہیں درست ثابت کرنے اور نجی شعبے کو ان اخراجات کی ذمہ داری لینے کے لیے مالی مراعات فراہم کرنے کے مؤثر طریقۂ کار موجود ہونا چاہیے، جن میں یکساں ٹیرف اور عوامی خدمات کی فراہمی کی ذمہ داری شامل ہے، چاہے ریکوری میں مشکلات کیوں نہ ہوں۔ ریگولیٹر کو انتہائی مؤثر، باریک بین اور مستقبل پر نظر رکھنے والا ہونا چاہیے، مگر بدقسمتی سے نیپرا کی کارکردگی اس معیار پر پوری نہیں اترتی۔</p>
<p>کے۔الیکٹرک کا ملٹی ایئر ٹیرف حتمی شکل دینے میں 18 ماہ تک غور و خوض کے بعد، نیپرا نے صرف دو ماہ کے اندر ازخود کارروائی (سوموٹو) کے ذریعے اس میں بڑی تبدیلی کر دی۔ دوسری جانب  پاور ڈویژن کے حکام مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر کے۔الیکٹرک کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ شاید انہیں یہ احساس نہیں کہ ممکنہ غیر ملکی سرمایہ کار ان تمام معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اپنے فیصلے اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ حکومت اور ریگولیٹرز موجودہ سرمایہ کاروں خصوصاً اُن شعبوں میں جہاں عوامی نگرانی زیادہ ہو  کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔</p>
<p>اگر حکومت اسی طرزِ عمل پر قائم رہنا چاہتی ہے تو اسے اُن شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مدعو کرنے سے گریز کرنا چاہیے جہاں سوشل کوسٹ زیادہ ہوں کیونکہ کوئی نجی سرمایہ کار اس لالچ میں نہیں آئے گا۔ مثال کے طور پر بھارت ہر شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دیتا پاکستان کو بھی اسی طرز کا نقطۂ نظر اختیار کرنا چاہیے، تاہم اگر ملکی سرمایہ کار بھی یہ محسوس کریں کہ مستقبل میں اُن پر دباؤ یا مداخلت کا خطرہ ہے تو وہ بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہوں گے۔ حکومت اور ریگولیٹرز کو وسیع تر تناظر میں سوچنے کی ضرورت ہے اور قلیل مدتی فوائد کے لیے طویل مدتی خطرات پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے، ورنہ اس کا نقصان بالآخر معیشتِ پاکستان کو برداشت کرنا پڑے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278795</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Oct 2025 11:32:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/31112709d8484bd.webp" type="image/webp" medium="image" height="1067" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/31112709d8484bd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
