<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیٹ میٹرنگ میں اصلاحات ناگزیر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278794/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں شمسی توانائی (سولر) سے متعلق بحث ایک بار پھر وزیرِاعظم کی میز پر واپس آ گئی ہے اور ایک بار پھر امکان یہی ہے کہ سیاست، پالیسی پر غالب آ جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ نیٹ میٹرنگ فریم ورک مالی طور پر غیر پائیدار بنتا جا رہا ہے۔ اس نے تجویز دی ہے کہ بجلی کی خریداری (بائے بیک) ریٹ روپے 22 فی یونٹ سے کم کر کے تقریباً روپے 11.3 فی یونٹ کر دیا جائے (پہلے روپے 10 کی تجویز دی گئی تھی)۔ اس کی منطق سادہ ہے: ہر وہ گھریلو یا کمرشل سولر سسٹم جو اپنی اضافی بجلی گرڈ میں واپس بیچتا ہے، وہ گرڈ کے ادائیگی کرنے والے صارفین کی بنیاد کو کم کرتا ہے، جبکہ نظام کے فکسڈ اخراجات وہی کے وہی رہتے ہیں۔ تاہم، حکومت دو مرتبہ پہلے بھی اس طرح کی اصلاحات کے منصوبے سیاسی دباؤ کے باعث ملتوی کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بار وزیرِاعظم نے ہدایت دی ہے کہ تفصیلی جائزہ لیا جائے، نہ صرف بائے بیک ریٹ کا بلکہ نیٹ میٹرنگ رولز 2015 کے تحت ہونے والے معاہدوں کی قانونی حیثیت کا بھی، اس سے پہلے کہ کوئی فیصلہ حتمی طور پر نافذ کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے ہدایت کی ہے کہ نئے صارفین کے لیے نیٹ بلنگ فریم ورک تیار کیا جائے اور عوامی آگاہی و ابلاغ کی ایک جامع حکمت عملی بھی وضع کی جائے تاکہ پالیسی میں تبدیلی کو بہتر انداز میں پیش کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہچکچاہٹ سمجھ میں آتی ہے، مگر اس کی قیمت بھاری ہے۔ مالی سال 2024 میں نیٹ میٹرنگ کے تحت پیدا ہونے والی بجلی نے گرڈ کی فروخت میں اندازاً 3.2 ارب یونٹ (کے ڈبلیو ایچ) کی کمی کی، جس کے نتیجے میں گرڈ سے منسلک صارفین پر تقریباً  101 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا ، یعنی بالواسطہ سبسڈی۔ تخمینے بتاتے ہیں کہ یہ بوجھ 2034 تک بڑھ کر 18.8 ارب یونٹ تک پہنچ جائے گا، جس سے بجلی کے نرخوں میں 3.6 روپے فی یونٹ اضافہ اور مجموعی بوجھ 545 ارب روپے تک جا پہنچے گا۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں یہ وہ اعدادوشمار ہیں جو آئی جی سی ای پی 2025  میں شامل کیے جا چکے ہیں، جو اب روشنائی شمسی توانائی (روٹ ٹاپ سولر) کو ایک زبردستی کی شمولیت کے طور پر ظاہر کرتا ہے، جو ملک کے کم لاگت توانائی منصوبہ بندی کو مشکل بناتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بحث شمسی توانائی کے خلاف نہیں ، پاکستان کو اس کی ضرورت ہے  لیکن ملک کو انصاف پسندی  بھی درکار ہے۔ تقریباً 3 لاکھ نیٹ میٹرنگ صارفین  جو زیادہ تر امیر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں نیشنل ایوریج پاور پرچیز پرائس سے منسلک خریداری نرخوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ 3 کروڑ 20 لاکھ عام گرڈ صارفین بڑھتے ہوئے کیپیسٹی اور فکسڈ چارجز کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ یہ عدم توازن اب کسی طور قابلِ دفاع نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ پالیسی ڈھانچے کے تحت صارفین اپنی سولر سرمایہ کاری صرف دو سال میں وصول کر لیتے ہیں، جو دنیا میں سب سے تیز تر واپسی کے عرصے میں شمار ہوتا ہے۔ مجوزہ 11.3 فی یونٹ روپے ریٹ کے بعد یہ واپسی کا دورانیہ چار سے پانچ سال تک بڑھ جائے گا، جو اب بھی بین الاقوامی معیار کے اندر ہے اور مالی لحاظ سے پرکشش بھی۔ یہ کہنا کہ ایسا اقدام روٹ ٹاپ سولر کو تباہ کر دے گا محض ایک غلط فہم یا مبالغہ آرائی ہے۔ حتیٰ کہ کم نرخوں کے باوجود منافع بخش واپسی ممکن ہے ، خاص طور پر ان صارفین کے لیے جو اپنی خود استعمال شدہ بجلی  کو بہتر بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں جیسے جیسے گھریلو شمسی نظام کا پھیلاؤ بڑھا ہے، سولر مراعات  میں بتدریج کمی کی گئی ہے۔ ویتنام نے جب اپنی سولر مارکیٹ میں تیزی دیکھی تو اس نے اپنا فیڈ اِن ٹیرف آدھا کر دیا۔ آسٹریلیا اور یورپ میں وقت کے لحاظ سے متغیر  نظام متعارف کرایا گیا جو گرڈ کی حقیقی وقت میں قیمت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان ابھی بھی گولڈ رش فیز میں ہے، جہاں سولر توانائی کو رومانوی زاویے سے دیکھا جا رہا ہے، مگر اس کے مالی اور تکنیکی اثرات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ امر یہ ہے کہ سب سے زیادہ شور سولر کہانی کے چھوٹے حصے پر ہے۔ اصل انقلاب تو میٹر کے پیچھے برپا ہو رہا ہے ، یعنی وہ گھرانے، چھوٹے کاروبار، اور کسان جو گرڈ کو بجلی بیچے بغیر خود نظام نصب کر رہے ہیں۔ وہ ٹیوب ویل، دکانیں، اور گھر خود چلا رہے ہیں، اپنے بل کم کر رہے ہیں اور غیر یقینی سپلائی پر انحصار بھی گھٹا رہے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کا حقیقی شمسی انقلاب جاری ہے۔ ایسے صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ غیر متعلقہ ہے ، ان کے لیے بچت کا ذریعہ خود پیدا کردہ بجلی ہے، نہ کہ گرڈ کو فروخت کی گئی توانائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے مجوزہ ریٹ میں کمی صرف سرمایہ واپس حاصل کرنے کے دورانیے کو معمولی طور پر بڑھائے گی۔ درحقیقت، جیسے جیسے بیٹری اسٹوریج کی لاگت تیزی سے کم ہو رہی ہے، ویسے ویسے اپنی بجلی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی معاشی حیثیت بھی بہتر ہوتی جا رہی ہے۔ جب اسٹوریج مزید سستا ہو جائے گا تو صارفین اپنی اضافی پیدا کردہ بجلی رات کے وقت کے استعمال کے لیے محفوظ کر سکیں گے، بجائے اس کے کہ اسے گرڈ کو بیچیں۔ ایسے مستقبل میں، گرڈ سے بجلی خریدنے کے نرخ کو مناسب سطح پر رکھنا  نہ کہ ضرورت سے زیادہ پرکشش بنانا،  بالکل منطقی امر ہوگا۔ موجودہ  22 روپے فی یونٹ کی قیمت اس سروس کے لیے ضرورت سے کہیں زیادہ دلکش ہے، جو دراصل صرف گرڈ کو بیک اپ کے طور پر استعمال کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کو اُن کے منظور شدہ لوڈ سے 1.5 گنا زیادہ صلاحیت کے سولر سسٹم نصب کرنے کی اجازت نے بعض علاقوں میں مقامی طور پر بجلی کی زیادہ پیداوار  پیدا کر دی ہے۔ تقسیم کار کمپنیوں نے اطلاع دی ہے کہ کئی فیڈرز پر بجلی کا بہاؤ الٹا  ہو رہا ہے، جس کے باعث نظام کے آپریٹرز کو وولٹیج کے استحکام کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں۔ سیکریٹری پاور نے ایک پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ بعض مواقع پر سسٹم آپریٹر کو نظام کو محفوظ رکھنے کے لیے زیادہ نقصانات والے فیڈرز کی بجلی بحال کرنا پڑتی ہے۔ یہ کوئی معمولی تکنیکی مسئلہ نہیں ، بلکہ نظامی عدم توازن کی ایک واضح وارننگ ہے۔
بجلی کا گرڈ دراصل ایک متوقع طلب کے لیے بنایا گیا تھا، نہ کہ غیر متوقع طور پر بکھری ہوئی پیداوار کی شمولیت کے لیے۔ اگر ٹیرف میں اصلاحات اور استعداد  کے منصوبہ بندی میں بروقت تبدیلیاں نہ کی گئیں تو تکنیکی عدم استحکام اور لاگت میں بگاڑ مزید بڑھ جائے گا۔ نیپرا نے گزشتہ سال اس خطرے کی نشاندہی کی تھی، اور پاور ڈویژن کے تخمینے بھی اسی خدشے کی تصدیق کرتے ہیں۔ لیکن جو چیز تاحال کمی کا شکار ہے وہ ہے سیاسی عزم۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصلاحات کا مطلب پسپائی نہیں ہوتا۔ ایک درجابندی  پر مبنی نظام انصاف اور تسلسل کے درمیان توازن قائم کر سکتا ہے۔ چھوٹے گھریلو سولر نظام  مثال کے طور پر 5 کلو واٹ تک — کے لیے نسبتاً زیادہ خریداری نرخ برقرار رکھے جا سکتے ہیں تاکہ متوسط طبقے کی سہولت برقرار رہے۔ بڑے گھریلو اور تجارتی سولر سسٹمز کو مجموعی میٹرنگ  اور وقت کے لحاظ سے متغیر نرخوں کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے، جو گرڈ کی حقیقی قدر کو ظاہر کرتے ہیں۔
موجودہ معاہدوں کو قانونی تحفظ دینا لازمی ہے، کیونکہ پچھلی تاریخ سے تبدیلیاں  سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ تاہم، نئے معاہدوں کے لیے نظامی لاگت کے مطابق مراعات کی ہم آہنگی انصاف پر مبنی اور پائیدار دونوں ہے۔ پاور ڈویژن کی جانب سے نیٹ بلنگ اور نئے معیاری معاہدوں  کی تجویز بالکل یہی توازن فراہم کر سکتی ہے، بشرطیکہ اسے شفاف انداز میں پیش کیا جائے ، یہ سولر مخالف اقدام نہیں بلکہ سبسڈی کے بوجھ کو درست کرنے کی کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصلاحات میں تاخیر کا ہر مہینہ مزید روف ٹاپ سولر تنصیبات کو جنم دیتا ہے، جن کی قیمتیں بعد میں سیاسی اور قانونی طور پر تبدیل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ اس دوران، گرڈ کے ادائیگی کرنے والے صارفین کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے، جس سے ان لوگوں پر نرخوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے جو نظام سے الگ نہیں ہو سکتے۔ اصلاحات میں تاخیر صارفین کا تحفظ نہیں کرتی، بلکہ عدم مساوات کو مزید گہرا کرتی ہے۔
ایک منصفانہ طور پر تیار کی گئی، قانونی طور پر مضبوط اور شفاف انداز میں پیش کی گئی نرخوں میں نظرثانی پاکستان کے سولر انقلاب کو پٹری سے نہیں اتارے گی ، بلکہ اسے محفوظ بنائے گی۔ کیونکہ اگر گرڈ اپنی ہی اندرونی خرابیوں کے بوجھ تلے بیٹھ گیا تو اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا ، حتیٰ کہ ان صارفین کو بھی نہیں جو اپنے چمکتے ہوئے سولر پینلز کے نیچے دھوپ میں لطف اندوز ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں شمسی توانائی (سولر) سے متعلق بحث ایک بار پھر وزیرِاعظم کی میز پر واپس آ گئی ہے اور ایک بار پھر امکان یہی ہے کہ سیاست، پالیسی پر غالب آ جائے گی۔</strong></p>
<p>پاور ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ نیٹ میٹرنگ فریم ورک مالی طور پر غیر پائیدار بنتا جا رہا ہے۔ اس نے تجویز دی ہے کہ بجلی کی خریداری (بائے بیک) ریٹ روپے 22 فی یونٹ سے کم کر کے تقریباً روپے 11.3 فی یونٹ کر دیا جائے (پہلے روپے 10 کی تجویز دی گئی تھی)۔ اس کی منطق سادہ ہے: ہر وہ گھریلو یا کمرشل سولر سسٹم جو اپنی اضافی بجلی گرڈ میں واپس بیچتا ہے، وہ گرڈ کے ادائیگی کرنے والے صارفین کی بنیاد کو کم کرتا ہے، جبکہ نظام کے فکسڈ اخراجات وہی کے وہی رہتے ہیں۔ تاہم، حکومت دو مرتبہ پہلے بھی اس طرح کی اصلاحات کے منصوبے سیاسی دباؤ کے باعث ملتوی کر چکی ہے۔</p>
<p>اس بار وزیرِاعظم نے ہدایت دی ہے کہ تفصیلی جائزہ لیا جائے، نہ صرف بائے بیک ریٹ کا بلکہ نیٹ میٹرنگ رولز 2015 کے تحت ہونے والے معاہدوں کی قانونی حیثیت کا بھی، اس سے پہلے کہ کوئی فیصلہ حتمی طور پر نافذ کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے ہدایت کی ہے کہ نئے صارفین کے لیے نیٹ بلنگ فریم ورک تیار کیا جائے اور عوامی آگاہی و ابلاغ کی ایک جامع حکمت عملی بھی وضع کی جائے تاکہ پالیسی میں تبدیلی کو بہتر انداز میں پیش کیا جا سکے۔</p>
<p>یہ ہچکچاہٹ سمجھ میں آتی ہے، مگر اس کی قیمت بھاری ہے۔ مالی سال 2024 میں نیٹ میٹرنگ کے تحت پیدا ہونے والی بجلی نے گرڈ کی فروخت میں اندازاً 3.2 ارب یونٹ (کے ڈبلیو ایچ) کی کمی کی، جس کے نتیجے میں گرڈ سے منسلک صارفین پر تقریباً  101 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا ، یعنی بالواسطہ سبسڈی۔ تخمینے بتاتے ہیں کہ یہ بوجھ 2034 تک بڑھ کر 18.8 ارب یونٹ تک پہنچ جائے گا، جس سے بجلی کے نرخوں میں 3.6 روپے فی یونٹ اضافہ اور مجموعی بوجھ 545 ارب روپے تک جا پہنچے گا۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں یہ وہ اعدادوشمار ہیں جو آئی جی سی ای پی 2025  میں شامل کیے جا چکے ہیں، جو اب روشنائی شمسی توانائی (روٹ ٹاپ سولر) کو ایک زبردستی کی شمولیت کے طور پر ظاہر کرتا ہے، جو ملک کے کم لاگت توانائی منصوبہ بندی کو مشکل بناتی ہے۔</p>
<p>یہ بحث شمسی توانائی کے خلاف نہیں ، پاکستان کو اس کی ضرورت ہے  لیکن ملک کو انصاف پسندی  بھی درکار ہے۔ تقریباً 3 لاکھ نیٹ میٹرنگ صارفین  جو زیادہ تر امیر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں نیشنل ایوریج پاور پرچیز پرائس سے منسلک خریداری نرخوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ 3 کروڑ 20 لاکھ عام گرڈ صارفین بڑھتے ہوئے کیپیسٹی اور فکسڈ چارجز کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ یہ عدم توازن اب کسی طور قابلِ دفاع نہیں رہا۔</p>
<p>موجودہ پالیسی ڈھانچے کے تحت صارفین اپنی سولر سرمایہ کاری صرف دو سال میں وصول کر لیتے ہیں، جو دنیا میں سب سے تیز تر واپسی کے عرصے میں شمار ہوتا ہے۔ مجوزہ 11.3 فی یونٹ روپے ریٹ کے بعد یہ واپسی کا دورانیہ چار سے پانچ سال تک بڑھ جائے گا، جو اب بھی بین الاقوامی معیار کے اندر ہے اور مالی لحاظ سے پرکشش بھی۔ یہ کہنا کہ ایسا اقدام روٹ ٹاپ سولر کو تباہ کر دے گا محض ایک غلط فہم یا مبالغہ آرائی ہے۔ حتیٰ کہ کم نرخوں کے باوجود منافع بخش واپسی ممکن ہے ، خاص طور پر ان صارفین کے لیے جو اپنی خود استعمال شدہ بجلی  کو بہتر بناتے ہیں۔</p>
<p>دنیا بھر میں جیسے جیسے گھریلو شمسی نظام کا پھیلاؤ بڑھا ہے، سولر مراعات  میں بتدریج کمی کی گئی ہے۔ ویتنام نے جب اپنی سولر مارکیٹ میں تیزی دیکھی تو اس نے اپنا فیڈ اِن ٹیرف آدھا کر دیا۔ آسٹریلیا اور یورپ میں وقت کے لحاظ سے متغیر  نظام متعارف کرایا گیا جو گرڈ کی حقیقی وقت میں قیمت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان ابھی بھی گولڈ رش فیز میں ہے، جہاں سولر توانائی کو رومانوی زاویے سے دیکھا جا رہا ہے، مگر اس کے مالی اور تکنیکی اثرات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>دلچسپ امر یہ ہے کہ سب سے زیادہ شور سولر کہانی کے چھوٹے حصے پر ہے۔ اصل انقلاب تو میٹر کے پیچھے برپا ہو رہا ہے ، یعنی وہ گھرانے، چھوٹے کاروبار، اور کسان جو گرڈ کو بجلی بیچے بغیر خود نظام نصب کر رہے ہیں۔ وہ ٹیوب ویل، دکانیں، اور گھر خود چلا رہے ہیں، اپنے بل کم کر رہے ہیں اور غیر یقینی سپلائی پر انحصار بھی گھٹا رہے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کا حقیقی شمسی انقلاب جاری ہے۔ ایسے صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ غیر متعلقہ ہے ، ان کے لیے بچت کا ذریعہ خود پیدا کردہ بجلی ہے، نہ کہ گرڈ کو فروخت کی گئی توانائی۔</p>
<p>نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے مجوزہ ریٹ میں کمی صرف سرمایہ واپس حاصل کرنے کے دورانیے کو معمولی طور پر بڑھائے گی۔ درحقیقت، جیسے جیسے بیٹری اسٹوریج کی لاگت تیزی سے کم ہو رہی ہے، ویسے ویسے اپنی بجلی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی معاشی حیثیت بھی بہتر ہوتی جا رہی ہے۔ جب اسٹوریج مزید سستا ہو جائے گا تو صارفین اپنی اضافی پیدا کردہ بجلی رات کے وقت کے استعمال کے لیے محفوظ کر سکیں گے، بجائے اس کے کہ اسے گرڈ کو بیچیں۔ ایسے مستقبل میں، گرڈ سے بجلی خریدنے کے نرخ کو مناسب سطح پر رکھنا  نہ کہ ضرورت سے زیادہ پرکشش بنانا،  بالکل منطقی امر ہوگا۔ موجودہ  22 روپے فی یونٹ کی قیمت اس سروس کے لیے ضرورت سے کہیں زیادہ دلکش ہے، جو دراصل صرف گرڈ کو بیک اپ کے طور پر استعمال کرتی ہے۔</p>
<p>صارفین کو اُن کے منظور شدہ لوڈ سے 1.5 گنا زیادہ صلاحیت کے سولر سسٹم نصب کرنے کی اجازت نے بعض علاقوں میں مقامی طور پر بجلی کی زیادہ پیداوار  پیدا کر دی ہے۔ تقسیم کار کمپنیوں نے اطلاع دی ہے کہ کئی فیڈرز پر بجلی کا بہاؤ الٹا  ہو رہا ہے، جس کے باعث نظام کے آپریٹرز کو وولٹیج کے استحکام کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں۔ سیکریٹری پاور نے ایک پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ بعض مواقع پر سسٹم آپریٹر کو نظام کو محفوظ رکھنے کے لیے زیادہ نقصانات والے فیڈرز کی بجلی بحال کرنا پڑتی ہے۔ یہ کوئی معمولی تکنیکی مسئلہ نہیں ، بلکہ نظامی عدم توازن کی ایک واضح وارننگ ہے۔
بجلی کا گرڈ دراصل ایک متوقع طلب کے لیے بنایا گیا تھا، نہ کہ غیر متوقع طور پر بکھری ہوئی پیداوار کی شمولیت کے لیے۔ اگر ٹیرف میں اصلاحات اور استعداد  کے منصوبہ بندی میں بروقت تبدیلیاں نہ کی گئیں تو تکنیکی عدم استحکام اور لاگت میں بگاڑ مزید بڑھ جائے گا۔ نیپرا نے گزشتہ سال اس خطرے کی نشاندہی کی تھی، اور پاور ڈویژن کے تخمینے بھی اسی خدشے کی تصدیق کرتے ہیں۔ لیکن جو چیز تاحال کمی کا شکار ہے وہ ہے سیاسی عزم۔</p>
<p>اصلاحات کا مطلب پسپائی نہیں ہوتا۔ ایک درجابندی  پر مبنی نظام انصاف اور تسلسل کے درمیان توازن قائم کر سکتا ہے۔ چھوٹے گھریلو سولر نظام  مثال کے طور پر 5 کلو واٹ تک — کے لیے نسبتاً زیادہ خریداری نرخ برقرار رکھے جا سکتے ہیں تاکہ متوسط طبقے کی سہولت برقرار رہے۔ بڑے گھریلو اور تجارتی سولر سسٹمز کو مجموعی میٹرنگ  اور وقت کے لحاظ سے متغیر نرخوں کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے، جو گرڈ کی حقیقی قدر کو ظاہر کرتے ہیں۔
موجودہ معاہدوں کو قانونی تحفظ دینا لازمی ہے، کیونکہ پچھلی تاریخ سے تبدیلیاں  سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ تاہم، نئے معاہدوں کے لیے نظامی لاگت کے مطابق مراعات کی ہم آہنگی انصاف پر مبنی اور پائیدار دونوں ہے۔ پاور ڈویژن کی جانب سے نیٹ بلنگ اور نئے معیاری معاہدوں  کی تجویز بالکل یہی توازن فراہم کر سکتی ہے، بشرطیکہ اسے شفاف انداز میں پیش کیا جائے ، یہ سولر مخالف اقدام نہیں بلکہ سبسڈی کے بوجھ کو درست کرنے کی کوشش ہے۔</p>
<p>اصلاحات میں تاخیر کا ہر مہینہ مزید روف ٹاپ سولر تنصیبات کو جنم دیتا ہے، جن کی قیمتیں بعد میں سیاسی اور قانونی طور پر تبدیل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ اس دوران، گرڈ کے ادائیگی کرنے والے صارفین کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے، جس سے ان لوگوں پر نرخوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے جو نظام سے الگ نہیں ہو سکتے۔ اصلاحات میں تاخیر صارفین کا تحفظ نہیں کرتی، بلکہ عدم مساوات کو مزید گہرا کرتی ہے۔
ایک منصفانہ طور پر تیار کی گئی، قانونی طور پر مضبوط اور شفاف انداز میں پیش کی گئی نرخوں میں نظرثانی پاکستان کے سولر انقلاب کو پٹری سے نہیں اتارے گی ، بلکہ اسے محفوظ بنائے گی۔ کیونکہ اگر گرڈ اپنی ہی اندرونی خرابیوں کے بوجھ تلے بیٹھ گیا تو اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا ، حتیٰ کہ ان صارفین کو بھی نہیں جو اپنے چمکتے ہوئے سولر پینلز کے نیچے دھوپ میں لطف اندوز ہو رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278794</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Oct 2025 11:35:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/31113416cbbb77b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/31113416cbbb77b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
