<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:53:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:53:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امن مذاکرات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال،100 انڈیکس میں 3 فیصد سے زائد اضافہ، 7 روزہ مندی کا سلسلہ ٹوٹ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278791/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو مثبت رجحان دیکھا گیا کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے معاہدے کی خبر پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 4,900 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 4,898.86 پوائنٹس یا 3.13 فیصد اضافے کے ساتھ 161,631.73 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’مارکیٹ میں یہ مثبت رجحان اس خبر کے نتیجے میں سامنے آیا کہ پاکستان اور افغان طالبان حکومت نے استنبول میں ہونے والے تازہ مذاکرات کے بعد جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جس کی تصدیق ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے بھی کی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق انڈیکس میں سب سے زیادہ مثبت کردار یو بی ایل، میزان بینک، ایف ایف سی، ایچ بی ایل، بینک الحبیب، سسٹمز لمیٹڈ، لکی سیمنٹ اور بینک الفلاح کے حصص نے ادا کیا، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 2,390 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ایس گلوبل کے ریسرچ ہیڈ وقاص غنی نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’مارکیٹ میں خریداری کا رجحان اس وقت واپس آیا جب استنبول میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران پاکستان اور افغان حکومت کے درمیان جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کی خبر سامنے آئی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس پیش رفت سے خطے میں جغرافیائی سیاسی خدشات میں کمی آئی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور مارکیٹ میں دوبارہ خریداری کی لہر دیکھی گئی۔ تاہم حالیہ کارپوریٹ نتائج توقعات پر پورا نہیں اترے، جس سے سرمایہ کاروں کے جوش و خروش میں کچھ کمی ضرور دیکھی گئی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کی شب اعلان کیا تھا کہ افغانستان اور پاکستان نے 6 نومبر کو استنبول میں امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور اس وقت تک جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے بیان کے مطابق تمام فریقوں نے جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ اس کے نفاذ کے طریقہ کار کا جائزہ اور حتمی فیصلہ 6 نومبر 2025 کو استنبول میں ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پڑوسی ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد ترکیہ اور قطر  مشترکہ طور پر ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جمعرات کو کے ایس ای 100 انڈیکس 1,732.19 پوائنٹس یا 1.09 فیصد کی کمی سے 156,732.87 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر جمعہ کو ایشیائی حصص ساتویں مسلسل ماہانہ اضافے کی جانب گامزن ہیں کیونکہ ایمازون اور ایپل کے مثبت مالی نتائج نے وال اسٹریٹ فیوچرز کو تقویت دی جبکہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرحِ سود میں کمی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث امریکی ڈالر تین ماہ کی بلند سطح کے قریب مستحکم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نسڈیک فیوچرز میں 1.2 فیصد اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.6 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جب کہ ایمازون کے شاندار مالی نتائج کے بعد اس کے حصص میں تجارتی اوقات کے بعد 13 فیصد تک اضافہ ہوا، جس سے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں 300 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا۔ ایپل کے حصص میں بھی 2.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا کیونکہ آئی فون کی فروخت سے متعلق کمپنی کا اندازہ ماہرین کی توقعات سے بہتر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مثبت رجحان میٹا اور مائیکروسافٹ کے حصص میں رات کے دوران دیکھی جانے والی گراوٹ کے اثرات کو زائل کرنے میں مددگار ثابت ہوا، جن میں مصنوعی ذہانت پر بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث تشویش پائی جا رہی تھی۔ امریکا کی سات بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، جنہیں “میگنیفیسنٹ سیون” کہا جاتا ہے، میں سے چھ اپنی مالی رپورٹس جاری کر چکی ہیں، اور نتائج اب تک مخلوط نوعیت کے رہے ہیں۔ دنیا کی پہلی 5 ٹریلین ڈالر مالیت رکھنے والی کمپنی این ویڈیا اپنی رپورٹ تین ہفتوں بعد جاری کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا جامع انڈیکس جمعہ کو 0.2 فیصد بڑھا تاہم دیگر منڈیوں میں اضافے کے اثرات چین کے اسٹاکس میں کمی سے کسی حد تک محدود رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر 1.8 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 4.7 فیصد اضافے کی سمت میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء جمعہ کے روز انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری کے ساتھ بند ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر روپے کی قدر ایک پیسے اضافے سے 280.91 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم بڑھ کر 952.86 ملین شیئرز تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سیشن کے 848.30 ملین شیئرز سے زیادہ تھا۔ حصص کی مالیت بھی بڑھ کر 42.27 ارب روپے ہوگئی، جو گزشتہ کاروباری روز 37.61 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کال ٹیلی کام 98.94 ملین شیئرز کے ساتھ کاروباری حجم میں سرفہرست رہی، جب کہ کے۔الیکٹرک لمیٹڈ 85.82 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور بینک آف پنجاب 78.46 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کے روز مجموعی طور پر 486 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 372 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 77 میں کمی، جبکہ 37 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/311738178f9a948.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/311738178f9a948.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو مثبت رجحان دیکھا گیا کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے معاہدے کی خبر پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 4,900 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 4,898.86 پوائنٹس یا 3.13 فیصد اضافے کے ساتھ 161,631.73 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’مارکیٹ میں یہ مثبت رجحان اس خبر کے نتیجے میں سامنے آیا کہ پاکستان اور افغان طالبان حکومت نے استنبول میں ہونے والے تازہ مذاکرات کے بعد جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جس کی تصدیق ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے بھی کی ہے۔‘‘</p>
<p>رپورٹ کے مطابق انڈیکس میں سب سے زیادہ مثبت کردار یو بی ایل، میزان بینک، ایف ایف سی، ایچ بی ایل، بینک الحبیب، سسٹمز لمیٹڈ، لکی سیمنٹ اور بینک الفلاح کے حصص نے ادا کیا، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 2,390 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔</p>
<p>جے ایس گلوبل کے ریسرچ ہیڈ وقاص غنی نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’مارکیٹ میں خریداری کا رجحان اس وقت واپس آیا جب استنبول میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران پاکستان اور افغان حکومت کے درمیان جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کی خبر سامنے آئی۔‘‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس پیش رفت سے خطے میں جغرافیائی سیاسی خدشات میں کمی آئی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور مارکیٹ میں دوبارہ خریداری کی لہر دیکھی گئی۔ تاہم حالیہ کارپوریٹ نتائج توقعات پر پورا نہیں اترے، جس سے سرمایہ کاروں کے جوش و خروش میں کچھ کمی ضرور دیکھی گئی۔‘‘</p>
<p>قبل ازیں ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کی شب اعلان کیا تھا کہ افغانستان اور پاکستان نے 6 نومبر کو استنبول میں امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور اس وقت تک جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کرلیا ہے۔</p>
<p>وزارت کے بیان کے مطابق تمام فریقوں نے جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ اس کے نفاذ کے طریقہ کار کا جائزہ اور حتمی فیصلہ 6 نومبر 2025 کو استنبول میں ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا جائے گا۔</p>
<p>پڑوسی ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد ترکیہ اور قطر  مشترکہ طور پر ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ جمعرات کو کے ایس ای 100 انڈیکس 1,732.19 پوائنٹس یا 1.09 فیصد کی کمی سے 156,732.87 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر جمعہ کو ایشیائی حصص ساتویں مسلسل ماہانہ اضافے کی جانب گامزن ہیں کیونکہ ایمازون اور ایپل کے مثبت مالی نتائج نے وال اسٹریٹ فیوچرز کو تقویت دی جبکہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرحِ سود میں کمی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث امریکی ڈالر تین ماہ کی بلند سطح کے قریب مستحکم رہا۔</p>
<p>نسڈیک فیوچرز میں 1.2 فیصد اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.6 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جب کہ ایمازون کے شاندار مالی نتائج کے بعد اس کے حصص میں تجارتی اوقات کے بعد 13 فیصد تک اضافہ ہوا، جس سے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں 300 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا۔ ایپل کے حصص میں بھی 2.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا کیونکہ آئی فون کی فروخت سے متعلق کمپنی کا اندازہ ماہرین کی توقعات سے بہتر رہا۔</p>
<p>یہ مثبت رجحان میٹا اور مائیکروسافٹ کے حصص میں رات کے دوران دیکھی جانے والی گراوٹ کے اثرات کو زائل کرنے میں مددگار ثابت ہوا، جن میں مصنوعی ذہانت پر بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث تشویش پائی جا رہی تھی۔ امریکا کی سات بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، جنہیں “میگنیفیسنٹ سیون” کہا جاتا ہے، میں سے چھ اپنی مالی رپورٹس جاری کر چکی ہیں، اور نتائج اب تک مخلوط نوعیت کے رہے ہیں۔ دنیا کی پہلی 5 ٹریلین ڈالر مالیت رکھنے والی کمپنی این ویڈیا اپنی رپورٹ تین ہفتوں بعد جاری کرے گی۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا جامع انڈیکس جمعہ کو 0.2 فیصد بڑھا تاہم دیگر منڈیوں میں اضافے کے اثرات چین کے اسٹاکس میں کمی سے کسی حد تک محدود رہے۔</p>
<p>یہ انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر 1.8 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 4.7 فیصد اضافے کی سمت میں ہے۔</p>
<p>دریں اثناء جمعہ کے روز انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری کے ساتھ بند ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر روپے کی قدر ایک پیسے اضافے سے 280.91 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم بڑھ کر 952.86 ملین شیئرز تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سیشن کے 848.30 ملین شیئرز سے زیادہ تھا۔ حصص کی مالیت بھی بڑھ کر 42.27 ارب روپے ہوگئی، جو گزشتہ کاروباری روز 37.61 ارب روپے تھی۔</p>
<p>ورلڈ کال ٹیلی کام 98.94 ملین شیئرز کے ساتھ کاروباری حجم میں سرفہرست رہی، جب کہ کے۔الیکٹرک لمیٹڈ 85.82 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور بینک آف پنجاب 78.46 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔</p>
<p>جمعہ کے روز مجموعی طور پر 486 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 372 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 77 میں کمی، جبکہ 37 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/311738178f9a948.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/311738178f9a948.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278791</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Oct 2025 18:02:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/311045348959802.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/311045348959802.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
