<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان کے معدنی ذخائر کی تلاش، پی پی ایل کا نیا ایکسپلوریشن لائسنس منظور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278790/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل)، جو ملک میں قدرتی گیس کی ایک بڑی فراہمی کنندہ کمپنی ہے، کو حکومتِ بلوچستان کی جانب سے ضلع چاغی میں قیمتی اور بنیادی دھاتوں کی تلاش کے لیے ایکسپوریشن لائسنس کی مشروط منظوری حاصل ہوگئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای اینڈ پی کمپنی نے اس پیش رفت سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو جمعے کے روز آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس میں کہا گیا کہ ہمیں یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ حکومت بلوچستان نے پی پی ایل کی جانب سے جمع کرائی گئی لائسنس (ای ایل-331) کی درخواست کو مشروط طور پر منظور کر لیا ہے، جو ضلع چاغی میں قیمتی اور بنیادی دھاتوں اور متعلقہ معدنیات کی تلاش سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی ایل کے مطابق یہ پیش رفت کمپنی کی اس حکمتِ عملی کے مطابق ہے جس کا مقصد ہائیڈروکاربنز سے آگے متنوع شعبوں میں قدم بڑھانا اور طویل المدتی کاروباری استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ کمپنی نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں اپنی موجودگی کو مزید وسعت دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق منظوری کا عمل تمام قانونی، ریگولیٹری اور طریقہ کار سے متعلق شرائط کی تکمیل کے بعد حتمی شکل اختیار کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال پی پی ایل نے ڈِیگن ایکسپوریشن ورکس (ڈی ای ڈبلیو) کے ساتھ ضلع چاغی میں معدنیات کی تلاش کے لیے ایک مشترکہ منصوبہ (جوائنٹ وینچر) کا معاہدہ کیا تھا۔ یہ لائسنس ایریا چاغی میٹالوجینک بیلٹ میں واقع ہے، جو ریکو ڈِک اور سیندک جیسے اعلیٰ معیار کے تانبے اور سونے کے ذخائر کے لیے مشہور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی ایل، جو ایک سرکاری کمپنی ہے، سوئی گیس فیلڈ سمیت کئی بڑے آئل اینڈ گیس فیلڈز چلاتی ہے، دیگر فیلڈز میں نان آپریٹنگ شراکت دار کے طور پر شامل ہے، اور اس کے پاس ساحلی و بحری علاقوں میں ایکسپلوریشن پورٹ فولیو میں حصہ داری بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ماہ کے آغاز میں، پی پی ایل نے ترکیہ کی قومی آئل کمپنی ٹی پی اے او کی ذیلی کمپنی ترکش پیٹرولیم اوورسیز کمپنی (ٹی پی او سی) کے ساتھ ایسٹرن آف شور انڈس سی بلاک میں فارم آؤٹ عمل کے تحت ایک اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شراکت داری کا مقصد آف شور ایکسپلوریشن کو فروغ دینا اور پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل)، جو ملک میں قدرتی گیس کی ایک بڑی فراہمی کنندہ کمپنی ہے، کو حکومتِ بلوچستان کی جانب سے ضلع چاغی میں قیمتی اور بنیادی دھاتوں کی تلاش کے لیے ایکسپوریشن لائسنس کی مشروط منظوری حاصل ہوگئی ہے۔</strong></p>
<p>ای اینڈ پی کمپنی نے اس پیش رفت سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو جمعے کے روز آگاہ کیا۔</p>
<p>نوٹس میں کہا گیا کہ ہمیں یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ حکومت بلوچستان نے پی پی ایل کی جانب سے جمع کرائی گئی لائسنس (ای ایل-331) کی درخواست کو مشروط طور پر منظور کر لیا ہے، جو ضلع چاغی میں قیمتی اور بنیادی دھاتوں اور متعلقہ معدنیات کی تلاش سے متعلق ہے۔</p>
<p>پی پی ایل کے مطابق یہ پیش رفت کمپنی کی اس حکمتِ عملی کے مطابق ہے جس کا مقصد ہائیڈروکاربنز سے آگے متنوع شعبوں میں قدم بڑھانا اور طویل المدتی کاروباری استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ کمپنی نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں اپنی موجودگی کو مزید وسعت دے گی۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق منظوری کا عمل تمام قانونی، ریگولیٹری اور طریقہ کار سے متعلق شرائط کی تکمیل کے بعد حتمی شکل اختیار کرے گا۔</p>
<p>گزشتہ سال پی پی ایل نے ڈِیگن ایکسپوریشن ورکس (ڈی ای ڈبلیو) کے ساتھ ضلع چاغی میں معدنیات کی تلاش کے لیے ایک مشترکہ منصوبہ (جوائنٹ وینچر) کا معاہدہ کیا تھا۔ یہ لائسنس ایریا چاغی میٹالوجینک بیلٹ میں واقع ہے، جو ریکو ڈِک اور سیندک جیسے اعلیٰ معیار کے تانبے اور سونے کے ذخائر کے لیے مشہور ہے۔</p>
<p>پی پی ایل، جو ایک سرکاری کمپنی ہے، سوئی گیس فیلڈ سمیت کئی بڑے آئل اینڈ گیس فیلڈز چلاتی ہے، دیگر فیلڈز میں نان آپریٹنگ شراکت دار کے طور پر شامل ہے، اور اس کے پاس ساحلی و بحری علاقوں میں ایکسپلوریشن پورٹ فولیو میں حصہ داری بھی موجود ہے۔</p>
<p>اس ماہ کے آغاز میں، پی پی ایل نے ترکیہ کی قومی آئل کمپنی ٹی پی اے او کی ذیلی کمپنی ترکش پیٹرولیم اوورسیز کمپنی (ٹی پی او سی) کے ساتھ ایسٹرن آف شور انڈس سی بلاک میں فارم آؤٹ عمل کے تحت ایک اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>اس شراکت داری کا مقصد آف شور ایکسپلوریشن کو فروغ دینا اور پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278790</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Oct 2025 10:54:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/311052208af680c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/311052208af680c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
