<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:45:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:45:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گیس کمپنیوں کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافے کی درخواست</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278788/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گیس کی دو بڑی تقسیم کار کمپنیوں، سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی)، نے مالی سال 2026 کے لیے اپنے نظرِثانی شدہ تخمینی ریونیو تقاضوں  میں گیس کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافے کی درخواست دی ہے، جو گزشتہ مقررہ قیمتوں کے مقابلے میں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گیس کمپنیوں نے روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں متوقع گراوٹ کے باعث گھریلو صارفین کے لیے گیس کی لاگت میں معمولی اضافہ مانگا ہے۔ ان کے مطابق آر ایل این جی کی متوقع ڈائیورشن  81,303 بی بی ٹی یو تک پہنچ جائے گی، جو مالی سال 2026 کے تخمینے کے مقابلے میں 2 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایل این جی ڈائیورشن میں سالانہ 65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی وجہ بجلی کے شعبے کی کم طلب اور متعدد کیپٹو پاور پلانٹس کا قومی گرڈ پر منتقل ہونا بتائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترسیل و تقسیم (ٹی اینڈ ڈی) کے اخراجات میں اضافہ بھی تجویز کیا گیا ہے، جو بنیادی طور پر سیلاب سے متاثرہ گیس پائپ لائنوں کی مرمت و بحالی اور آر ایل این جی کنکشنز کے لیے انفراسٹرکچر بجٹ سے منسلک ہے۔ اس کے علاوہ ایس ایس جی سی نے مالی سال 2024 کے لیے 34 ارب روپے کے سابقہ سال کے ایڈجسٹمنٹ کی بھی درخواست کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس این جی پی ایل کے مطابق، بجلی کے شعبے کی گیس طلب 550 ایم ایم سی ایف ڈی کے مقابلے میں 150 تا 200 ایم ایم سی ایف ڈی کم ہو گئی ہے۔ اسی طرح، کیپٹو پاور کے لیے گیس استعمال 190 ایم ایم سی ایف ڈی سے کم ہو کر 60 ایم ایم سی ایف ڈی تک گر گیا ہے۔ کمپنی کا تخمینہ ہے کہ مالی سال 2026 میں 269 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی معطلی متوقع ہے، جس میں سے زیادہ تر دوسرے نصف سال میں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق، اصل گیس قیمتوں میں اضافہ بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہوگا کیونکہ اوگرا عام طور پر کئی اخراجات جیسے فنانس کاسٹس، نقصانات (یو ایف جی)، سابقہ ایڈجسٹمنٹ (پی وائے اے) اور بلوچستان میں آمدنی کی کمی کو تسلیم نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں گیس کمپنیوں نے مالی سال 2026 کے لیے اوگرا کو علیحدہ علیحدہ ریونیو تقاضے  کی درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ ان درخواستوں میں بتایا گیا ہے کہ اوسط گیس حجم 495,545 بی بی ٹی یو سے کم ہو کر 471,976 بی بی ٹی یو رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی دباؤ سے نمٹنے کے لیے درج ذیل اہم اضافے کی سفارش کی گئی ہے:
گیس کی لاگت 1,533 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھا کر 1,547 روپے کرنے کی درخواست۔
شرحِ تبادلہ 280 روپے فی امریکی ڈالر سے بڑھا کر 284 روپے کرنے کی تجویز۔
تیل کی عالمی قیمت کا تخمینہ 75 ڈالر فی بیرل سے کم کر کے 73 ڈالر فی بیرل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواستوں میں مقررہ قیمت میں نمایاں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
بغیر  پی وائے آئی  کے قیمت 1,793 روپے سے بڑھا کر 1,886 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی سفارش۔
بغیر پی وائے آئی سمیت قیمت 1,958 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کرنے کی درخواست۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 کے لیے پہلے سے منظور شدہ تخمینی ریونیو تقاضہ 1,793 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گیس کی دو بڑی تقسیم کار کمپنیوں، سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی)، نے مالی سال 2026 کے لیے اپنے نظرِثانی شدہ تخمینی ریونیو تقاضوں  میں گیس کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافے کی درخواست دی ہے، جو گزشتہ مقررہ قیمتوں کے مقابلے میں ہے۔</strong></p>
<p>گیس کمپنیوں نے روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں متوقع گراوٹ کے باعث گھریلو صارفین کے لیے گیس کی لاگت میں معمولی اضافہ مانگا ہے۔ ان کے مطابق آر ایل این جی کی متوقع ڈائیورشن  81,303 بی بی ٹی یو تک پہنچ جائے گی، جو مالی سال 2026 کے تخمینے کے مقابلے میں 2 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>آر ایل این جی ڈائیورشن میں سالانہ 65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی وجہ بجلی کے شعبے کی کم طلب اور متعدد کیپٹو پاور پلانٹس کا قومی گرڈ پر منتقل ہونا بتائی گئی ہے۔</p>
<p>ترسیل و تقسیم (ٹی اینڈ ڈی) کے اخراجات میں اضافہ بھی تجویز کیا گیا ہے، جو بنیادی طور پر سیلاب سے متاثرہ گیس پائپ لائنوں کی مرمت و بحالی اور آر ایل این جی کنکشنز کے لیے انفراسٹرکچر بجٹ سے منسلک ہے۔ اس کے علاوہ ایس ایس جی سی نے مالی سال 2024 کے لیے 34 ارب روپے کے سابقہ سال کے ایڈجسٹمنٹ کی بھی درخواست کی ہے۔</p>
<p>ایس این جی پی ایل کے مطابق، بجلی کے شعبے کی گیس طلب 550 ایم ایم سی ایف ڈی کے مقابلے میں 150 تا 200 ایم ایم سی ایف ڈی کم ہو گئی ہے۔ اسی طرح، کیپٹو پاور کے لیے گیس استعمال 190 ایم ایم سی ایف ڈی سے کم ہو کر 60 ایم ایم سی ایف ڈی تک گر گیا ہے۔ کمپنی کا تخمینہ ہے کہ مالی سال 2026 میں 269 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی معطلی متوقع ہے، جس میں سے زیادہ تر دوسرے نصف سال میں ہوگی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق، اصل گیس قیمتوں میں اضافہ بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہوگا کیونکہ اوگرا عام طور پر کئی اخراجات جیسے فنانس کاسٹس، نقصانات (یو ایف جی)، سابقہ ایڈجسٹمنٹ (پی وائے اے) اور بلوچستان میں آمدنی کی کمی کو تسلیم نہیں کرتی۔</p>
<p>دونوں گیس کمپنیوں نے مالی سال 2026 کے لیے اوگرا کو علیحدہ علیحدہ ریونیو تقاضے  کی درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ ان درخواستوں میں بتایا گیا ہے کہ اوسط گیس حجم 495,545 بی بی ٹی یو سے کم ہو کر 471,976 بی بی ٹی یو رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>مالی دباؤ سے نمٹنے کے لیے درج ذیل اہم اضافے کی سفارش کی گئی ہے:
گیس کی لاگت 1,533 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھا کر 1,547 روپے کرنے کی درخواست۔
شرحِ تبادلہ 280 روپے فی امریکی ڈالر سے بڑھا کر 284 روپے کرنے کی تجویز۔
تیل کی عالمی قیمت کا تخمینہ 75 ڈالر فی بیرل سے کم کر کے 73 ڈالر فی بیرل کیا گیا ہے۔</p>
<p>درخواستوں میں مقررہ قیمت میں نمایاں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
بغیر  پی وائے آئی  کے قیمت 1,793 روپے سے بڑھا کر 1,886 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی سفارش۔
بغیر پی وائے آئی سمیت قیمت 1,958 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کرنے کی درخواست۔</p>
<p>مالی سال 2026 کے لیے پہلے سے منظور شدہ تخمینی ریونیو تقاضہ 1,793 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تھا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278788</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Oct 2025 10:24:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/31102313de2008a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/31102313de2008a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
