<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:40:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 13:40:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کا پرال نظام کے بین الاقوامی فرانزک آڈٹ کا حکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278782/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کے روز پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) کے نظام کا بین الاقوامی فرانزک آڈٹ کرانے کا حکم دیا ہے، جس کے بعد ایک بڑی سیلز ٹیکس فراڈ اسکیم کا انکشاف ہوا ہے جس کے ذریعے مبینہ طور پر قومی خزانے سے اربوں روپے نکالے گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اصلاحات سے متعلق ایک اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس کے دوران وزیراعظم کو فراڈ کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ یہ اسکیم پرال کے فرسودہ نظام اور کمزور نگرانی کے باعث ممکن ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فراڈ کئی سالوں پر محیط تھا، جس میں جعلی انوائسنگ، بڑھا چڑھا کر ظاہر کیے گئے ٹیکس ریٹرنز، اور ریکارڈ میں ہیرا پھیری جیسے اقدامات شامل تھے، جو ریئل ٹائم مانیٹرنگ اور مؤثر ڈیٹا سیکیورٹی کے فقدان کے باعث طویل عرصے تک بے نقاب نہ ہوسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے اس واقعے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے ہدایت دی کہ اس میں ملوث تمام افراد، اداروں اور کمپنیوں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ تین ہفتوں میں مکمل ہونے والی یہ تحقیقات قانونی کارروائی کے لیے بنیاد فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ایف بی آر حکام کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ فراڈ کے اثرات کا سراغ مختلف شعبوں میں لگائیں، جن میں ٹیکسٹائل، تعمیرات اور درآمد و برآمد کا کاروبار شامل ہے، جو اس اسکیم سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے وزیراعظم کو بتایا کہ پرال کا پرانا اور غیر مؤثر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، جس میں ریئل ٹائم ٹریکنگ اور مضبوط سیکیورٹی فیچرز موجود نہیں تھے، اس فراڈ کے تسلسل کا بنیادی سبب بنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے تصدیق کی کہ نظام کی ناکامیاں اس اسکینڈل کی جڑ ہیں، تاہم یہ بھی واضح کیا گیا کہ حکومت پہلے ہی جاری اصلاحاتی عمل کے ذریعے ان خامیوں کو دور کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرال کے نئے نظام میں اب آڈٹ والٹ، ڈیٹا بیس پروٹیکشن وال اور سیکیورٹی آپریشنز سینٹر جیسے جدید فیچرز شامل کیے گئے ہیں، تاکہ پاکستان کے ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جدید نظام کے تحت اب جب بھی ڈیٹا میں کوئی تبدیلی کی جاتی ہے تو صارف کا آئی پی ایڈریس خودکار طور پر ریکارڈ ہو جاتا ہے، جس سے فراڈ کو پوشیدہ رکھنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے ایف بی آر کی اصلاحاتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس بات کا ذکر کیا کہ عالمی بینک کی سالانہ کانفرنس واشنگٹن میں بورڈ کی اصلاحات کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، محمد اورنگزیب، مصدق ملک اور عطااللہ تارڑ سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان کے ٹیکس نظام کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے جاری اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کے روز پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) کے نظام کا بین الاقوامی فرانزک آڈٹ کرانے کا حکم دیا ہے، جس کے بعد ایک بڑی سیلز ٹیکس فراڈ اسکیم کا انکشاف ہوا ہے جس کے ذریعے مبینہ طور پر قومی خزانے سے اربوں روپے نکالے گئے۔</strong></p>
<p>وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اصلاحات سے متعلق ایک اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس کے دوران وزیراعظم کو فراڈ کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ یہ اسکیم پرال کے فرسودہ نظام اور کمزور نگرانی کے باعث ممکن ہوئی۔</p>
<p>یہ فراڈ کئی سالوں پر محیط تھا، جس میں جعلی انوائسنگ، بڑھا چڑھا کر ظاہر کیے گئے ٹیکس ریٹرنز، اور ریکارڈ میں ہیرا پھیری جیسے اقدامات شامل تھے، جو ریئل ٹائم مانیٹرنگ اور مؤثر ڈیٹا سیکیورٹی کے فقدان کے باعث طویل عرصے تک بے نقاب نہ ہوسکے۔</p>
<p>شہباز شریف نے اس واقعے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے ہدایت دی کہ اس میں ملوث تمام افراد، اداروں اور کمپنیوں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ تین ہفتوں میں مکمل ہونے والی یہ تحقیقات قانونی کارروائی کے لیے بنیاد فراہم کرے گی۔</p>
<p>وزیراعظم نے ایف بی آر حکام کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ فراڈ کے اثرات کا سراغ مختلف شعبوں میں لگائیں، جن میں ٹیکسٹائل، تعمیرات اور درآمد و برآمد کا کاروبار شامل ہے، جو اس اسکیم سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔</p>
<p>حکام نے وزیراعظم کو بتایا کہ پرال کا پرانا اور غیر مؤثر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، جس میں ریئل ٹائم ٹریکنگ اور مضبوط سیکیورٹی فیچرز موجود نہیں تھے، اس فراڈ کے تسلسل کا بنیادی سبب بنا۔</p>
<p>ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے تصدیق کی کہ نظام کی ناکامیاں اس اسکینڈل کی جڑ ہیں، تاہم یہ بھی واضح کیا گیا کہ حکومت پہلے ہی جاری اصلاحاتی عمل کے ذریعے ان خامیوں کو دور کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔</p>
<p>پرال کے نئے نظام میں اب آڈٹ والٹ، ڈیٹا بیس پروٹیکشن وال اور سیکیورٹی آپریشنز سینٹر جیسے جدید فیچرز شامل کیے گئے ہیں، تاکہ پاکستان کے ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔</p>
<p>جدید نظام کے تحت اب جب بھی ڈیٹا میں کوئی تبدیلی کی جاتی ہے تو صارف کا آئی پی ایڈریس خودکار طور پر ریکارڈ ہو جاتا ہے، جس سے فراڈ کو پوشیدہ رکھنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔</p>
<p>شہباز شریف نے ایف بی آر کی اصلاحاتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس بات کا ذکر کیا کہ عالمی بینک کی سالانہ کانفرنس واشنگٹن میں بورڈ کی اصلاحات کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔</p>
<p>اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، محمد اورنگزیب، مصدق ملک اور عطااللہ تارڑ سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان کے ٹیکس نظام کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے جاری اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278782</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Oct 2025 08:54:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/310853200291847.webp" type="image/webp" medium="image" height="445" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/310853200291847.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
