<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 19:42:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 19:42:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نشاندہی کے باوجود آئی آر آئی ایس پورٹل میں خرابی برقرار ، کے ٹی بی اے کا فوری بہتری کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278763/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن (کے ٹی بی اے) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئی آر آئی ایس  پورٹل میں موجود  سنگین تکنیکی خامی کو فوری طور پر درست کرے، جو ایسوسی ایشن آف پرسنز (اے او پی) کے ارکان پر غیر قانونی طور پر سرچارج عائد کر رہی ہے، حالانکہ قانون کے مطابق انہیں اس سے استثنیٰ حاصل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ٹی بی اے نے ایف بی آر کو لکھے گئے  خط میں نشاندہی کی کہ یہ مسئلہ پہلی بار اگست اور ستمبر 2025 میں اٹھایا گیا تھا، لیکن ابھی تک حل نہیں ہوا، جس کی وجہ سے ملک بھر کے ٹیکس دہندگان اور ٹیکس ماہرین کو مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 92 کے مطابق اے او پی کے ارکان کو ان کی حصہ دار آمدنی پر ٹیکس سے واضح استثنیٰ حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی رکن کی حصہ دار آمدنی 1 کروڑ روپے (10 ملین روپے) سے بھی زیادہ ہو، تب بھی اس پر سیکشن 4اے بی  کے تحت سرچارج عائد نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کے ٹی بی اے کے مطابق آئی آر آئی ایس پورٹل کا ٹیکس کمپیوٹیشن سسٹم اب بھی غلطی سے ان ارکان کی حصہ دار آمدنی پر سرچارج لگا رہا ہے جن کی آمدنی 1 کروڑ روپے سے زائد ہے، جو کہ قانون میں دی گئی واضح چھوٹ کے بالکل خلاف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے اپنے خط میں لکھا کہ  یہ طرزِ عمل دفعہ 92 کے تحت دیے گئے استثنیٰ سے مطابقت نہیں رکھتا اور غیر قانونی ٹیکس ڈیمانڈز پیدا کر رہا ہے اور اس صورتحال کو  ٹیکس دہندگان اور ماہرین کے لیے غیر ضروری پریشانی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ کے ٹی بی اے کی جانب سے تیسری بار ایف بی آر کے نوٹس میں لایا گیا ہے، اس سے پہلے 28 اگست اور 23 ستمبر 2025 کو بھی اس حوالے سے خطوط لکھے جا چکے ہیں۔ بار نے تشویش ظاہر کی ہے کہ بار بار آگاہ کرنے کے باوجود خامی دور نہ ہونے سے ایف بی آر کے پورٹل کی درستگی اور تکنیکی ٹیم کی کارکردگی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ٹی بی اے نے اس خامی کو  ٹیکس حسابی منطق اور نظام کے ڈیزائن میں نمایاں تضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹیکس دہندگان کا اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی آئی آر آئی ایس تکنیکی ٹیم کو ہدایت دے کہ نظام کی پروگرامنگ کو درست کرے ، تاکہ اے او پی ارکان کی حصہ دار آمدنی سے متعلق قانونی دفعات کے مطابق سرچارج کا اطلاق ہو۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن (کے ٹی بی اے) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئی آر آئی ایس  پورٹل میں موجود  سنگین تکنیکی خامی کو فوری طور پر درست کرے، جو ایسوسی ایشن آف پرسنز (اے او پی) کے ارکان پر غیر قانونی طور پر سرچارج عائد کر رہی ہے، حالانکہ قانون کے مطابق انہیں اس سے استثنیٰ حاصل ہے۔</strong></p>
<p>کے ٹی بی اے نے ایف بی آر کو لکھے گئے  خط میں نشاندہی کی کہ یہ مسئلہ پہلی بار اگست اور ستمبر 2025 میں اٹھایا گیا تھا، لیکن ابھی تک حل نہیں ہوا، جس کی وجہ سے ملک بھر کے ٹیکس دہندگان اور ٹیکس ماہرین کو مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 92 کے مطابق اے او پی کے ارکان کو ان کی حصہ دار آمدنی پر ٹیکس سے واضح استثنیٰ حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی رکن کی حصہ دار آمدنی 1 کروڑ روپے (10 ملین روپے) سے بھی زیادہ ہو، تب بھی اس پر سیکشن 4اے بی  کے تحت سرچارج عائد نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>تاہم کے ٹی بی اے کے مطابق آئی آر آئی ایس پورٹل کا ٹیکس کمپیوٹیشن سسٹم اب بھی غلطی سے ان ارکان کی حصہ دار آمدنی پر سرچارج لگا رہا ہے جن کی آمدنی 1 کروڑ روپے سے زائد ہے، جو کہ قانون میں دی گئی واضح چھوٹ کے بالکل خلاف ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے اپنے خط میں لکھا کہ  یہ طرزِ عمل دفعہ 92 کے تحت دیے گئے استثنیٰ سے مطابقت نہیں رکھتا اور غیر قانونی ٹیکس ڈیمانڈز پیدا کر رہا ہے اور اس صورتحال کو  ٹیکس دہندگان اور ماہرین کے لیے غیر ضروری پریشانی قرار دیا۔</p>
<p>یہ مسئلہ کے ٹی بی اے کی جانب سے تیسری بار ایف بی آر کے نوٹس میں لایا گیا ہے، اس سے پہلے 28 اگست اور 23 ستمبر 2025 کو بھی اس حوالے سے خطوط لکھے جا چکے ہیں۔ بار نے تشویش ظاہر کی ہے کہ بار بار آگاہ کرنے کے باوجود خامی دور نہ ہونے سے ایف بی آر کے پورٹل کی درستگی اور تکنیکی ٹیم کی کارکردگی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔</p>
<p>کے ٹی بی اے نے اس خامی کو  ٹیکس حسابی منطق اور نظام کے ڈیزائن میں نمایاں تضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹیکس دہندگان کا اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی آئی آر آئی ایس تکنیکی ٹیم کو ہدایت دے کہ نظام کی پروگرامنگ کو درست کرے ، تاکہ اے او پی ارکان کی حصہ دار آمدنی سے متعلق قانونی دفعات کے مطابق سرچارج کا اطلاق ہو۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278763</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Oct 2025 12:59:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/30124602e711b1a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/30124602e711b1a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
