<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 09 Aug 2026 00:05:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 09 Aug 2026 00:05:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تین دن میں کتنے ای چالان جاری، کتنی آمدن حاصل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278762/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی میں ای چالان مہم نے تین دنوں میں ہی سب کو چونکا دیا۔ آج نیوز کے مطابق صرف 48 گھنٹوں کے دوران سندھ پولیس نے شہریوں پر 10 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریفک پولیس  رپورٹ کے مطابق پورٹ سٹی میں اس نظام تیزی سے عمل ہورہا ہے ، سیٹ بیلٹ یا ہیلمٹ نہ پہننے، غلط طرف سے گاڑی چلانے اور ریڈ لائٹ کی خلاف ورزی جیسے جرائم پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں ای چالان نظام کے آغاز کو تین دن گزر گئے، مگر ڈرائیور حضرات کیلئے یہ 3 دن کسی امتحان سے کم نہیں ثابت ہوئے۔ شہر بھر میں اب تک 12 ہزار 942 الیکٹرانک چالان جاری کیے جا چکے ہیں۔ ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں 5 ہزار 979 چالان جاری کیے گئے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ خلاف ورزیاں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے کی ہوئیں، جس پر 3 ہزار 258 شہریوں کے چالان کیے گئے۔ اسی طرح ہیلمٹ نہ پہننے پر 1 ہزار 294 موٹر سائیکل سواروں کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑا۔ اوور اسپیڈنگ کرنے والے 655 ڈرائیور بھی ای چالان کے شکنجے میں آ گئے۔ اس کے علاوہ 357 افراد نے سرخ بتی کا اشارہ توڑا جبکہ 216 شہریوں کو ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کرنے پر چالان کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/10/30122520a200d16.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/10/30122520a200d16.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو روز میں 4400 شہریوں کو سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر چالان کیا گیا تھا جس کا جرمانہ 10 ہزار روپے فی کس تھا۔ اس کے علاوہ 1564 شہری ہیلمٹ نہ پہننے پر پکڑے گئے، جن پر بھی 10 ہزار روپے فی کس جرمانہ عائد ہوا۔ یوں صرف سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ کے چالانوں سے 6 کروڑ 48 ہزار روپے کا جرمانہ اکٹھا کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریفک پولیس نے بتایا کہ کراچی میں ای چالان مختلف خلاف ورزیوں پر کیے جا رہے ہیں جن میں ریڈ سگنل توڑنا، تیز رفتاری، موبائل فون استعمال کرنا، ون وے کی خلاف ورزی اور فینسی نمبر پلیٹس شامل ہیں۔ فی الحال 8 سے 10 مختلف خلاف ورزیوں پر چالان جاری کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے  پروگرام نیوز انسائٹ ود عامر ضیا میں کہاکہ کراچی کا انفرااسٹرکچر ٹوٹا ہوا ہے، لیکن جرمانے عالمی معیار کے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مہم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب ٹریفک سگنلز کام نہیں کر رہے اور لین مارکنگ موجود نہیں تو بھاری جرمانے عائد کرنا غیر منصفانہ ہے۔ کراچی میں لاہور کے مقابلے میں زیادہ چالان کیوں جاری کیے جا رہے ہیں؟ انہوں نے سوال اٹھایا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ جرمانوں کے ڈھانچے کا فوری جائزہ لیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اس مہم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ چاہے ہمیں اس سے ایک روپیہ بھی نہ ملے، لیکن اگر شہری قانون توڑیں گے تو ان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ سخت نفاذ عوام کی حفاظت کے لیے ہے کیونکہ سڑک حادثات جانیں لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریفک پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ ایک ماہ کے اندر یہ نظام پورے سندھ میں پھیلایا جائے گا تاکہ ٹریفک قوانین کی پابندی کو یقینی بنایا جاسکے، تاہم کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ جب تک سڑکیں، سگنلز اور لین مارکنگ بہتر نہیں کی جاتیں، یہ مہم انصاف کی مہم کے بجائے آمدنی حاصل کرنے کی مہم بن جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا کہ ای چالان سسٹم اب مکمل طور پر فعال ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھوٹی یا بڑی گاڑی میں کوئی فرق نہیں، سب کے لیے رفتار کی حد 60 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بغیر لائسنس موٹرسائیکل چلانے پر 20 ہزار روپے تک جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی میں ای چالان مہم نے تین دنوں میں ہی سب کو چونکا دیا۔ آج نیوز کے مطابق صرف 48 گھنٹوں کے دوران سندھ پولیس نے شہریوں پر 10 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کئے ہیں۔</strong></p>
<p>ٹریفک پولیس  رپورٹ کے مطابق پورٹ سٹی میں اس نظام تیزی سے عمل ہورہا ہے ، سیٹ بیلٹ یا ہیلمٹ نہ پہننے، غلط طرف سے گاڑی چلانے اور ریڈ لائٹ کی خلاف ورزی جیسے جرائم پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔</p>
<p>کراچی میں ای چالان نظام کے آغاز کو تین دن گزر گئے، مگر ڈرائیور حضرات کیلئے یہ 3 دن کسی امتحان سے کم نہیں ثابت ہوئے۔ شہر بھر میں اب تک 12 ہزار 942 الیکٹرانک چالان جاری کیے جا چکے ہیں۔ ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں 5 ہزار 979 چالان جاری کیے گئے ۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ خلاف ورزیاں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے کی ہوئیں، جس پر 3 ہزار 258 شہریوں کے چالان کیے گئے۔ اسی طرح ہیلمٹ نہ پہننے پر 1 ہزار 294 موٹر سائیکل سواروں کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑا۔ اوور اسپیڈنگ کرنے والے 655 ڈرائیور بھی ای چالان کے شکنجے میں آ گئے۔ اس کے علاوہ 357 افراد نے سرخ بتی کا اشارہ توڑا جبکہ 216 شہریوں کو ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کرنے پر چالان کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/10/30122520a200d16.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/10/30122520a200d16.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو روز میں 4400 شہریوں کو سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر چالان کیا گیا تھا جس کا جرمانہ 10 ہزار روپے فی کس تھا۔ اس کے علاوہ 1564 شہری ہیلمٹ نہ پہننے پر پکڑے گئے، جن پر بھی 10 ہزار روپے فی کس جرمانہ عائد ہوا۔ یوں صرف سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ کے چالانوں سے 6 کروڑ 48 ہزار روپے کا جرمانہ اکٹھا کیا گیا۔</p>
<p>ٹریفک پولیس نے بتایا کہ کراچی میں ای چالان مختلف خلاف ورزیوں پر کیے جا رہے ہیں جن میں ریڈ سگنل توڑنا، تیز رفتاری، موبائل فون استعمال کرنا، ون وے کی خلاف ورزی اور فینسی نمبر پلیٹس شامل ہیں۔ فی الحال 8 سے 10 مختلف خلاف ورزیوں پر چالان جاری کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے  پروگرام نیوز انسائٹ ود عامر ضیا میں کہاکہ کراچی کا انفرااسٹرکچر ٹوٹا ہوا ہے، لیکن جرمانے عالمی معیار کے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مہم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب ٹریفک سگنلز کام نہیں کر رہے اور لین مارکنگ موجود نہیں تو بھاری جرمانے عائد کرنا غیر منصفانہ ہے۔ کراچی میں لاہور کے مقابلے میں زیادہ چالان کیوں جاری کیے جا رہے ہیں؟ انہوں نے سوال اٹھایا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ جرمانوں کے ڈھانچے کا فوری جائزہ لیا جائے۔</p>
<p>تاہم، سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اس مہم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ چاہے ہمیں اس سے ایک روپیہ بھی نہ ملے، لیکن اگر شہری قانون توڑیں گے تو ان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ سخت نفاذ عوام کی حفاظت کے لیے ہے کیونکہ سڑک حادثات جانیں لیتے ہیں۔</p>
<p>ٹریفک پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ ایک ماہ کے اندر یہ نظام پورے سندھ میں پھیلایا جائے گا تاکہ ٹریفک قوانین کی پابندی کو یقینی بنایا جاسکے، تاہم کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ جب تک سڑکیں، سگنلز اور لین مارکنگ بہتر نہیں کی جاتیں، یہ مہم انصاف کی مہم کے بجائے آمدنی حاصل کرنے کی مہم بن جائے گی۔</p>
<p>ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا کہ ای چالان سسٹم اب مکمل طور پر فعال ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔</p>
<p>چھوٹی یا بڑی گاڑی میں کوئی فرق نہیں، سب کے لیے رفتار کی حد 60 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بغیر لائسنس موٹرسائیکل چلانے پر 20 ہزار روپے تک جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278762</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Oct 2025 13:53:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/30125528090ae44.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/30125528090ae44.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
