<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا 33 سال بعد ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278756/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو 33 سال کے وقفے کے بعد امریکہ میں ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ اعلان انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے چند منٹ قبل کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے یہ اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر اُس وقت کیا جب وہ جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں تجارتی مذاکرات کے لیے جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزارت دفاع کو ہدایت دے رہے ہیں کہ امریکہ کے ایٹمی ہتھیاروں کا تجربہ دیگر ایٹمی طاقتوں کے برابر کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ دوسرے ممالک کے تجربات کے پیشِ نظر، میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہمارے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات فوری طور پر شروع کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ واپسی کے دوران ایئر فورس ون میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ تجربات ضروری ہیں تاکہ امریکہ اپنے حریف ایٹمی ممالک کے ساتھ قدم ملا کر چل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ تجرباتی مقامات کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ میں ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کا حامی ہوں، لیکن جب روس اور چین تجربات کر رہے ہیں تو ہمیں بھی ایسا کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی میڈیا کے مطابق، یہ واضح نہیں ہے کہ صدر کا اشارہ زیر زمین ایٹمی دھماکوں کی جانب تھا یا ایٹمی صلاحیت والے میزائلوں کے ٹیسٹ کی طرف۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے فیصلے سے قبل روس نے ایک ایٹمی طاقت سے چلنے والے ٹارپیڈو اور کروز میزائل کے کامیاب تجربے کا اعلان کیا تھا، جب کہ چین نے گزشتہ پانچ سالوں میں اپنا ایٹمی ذخیرہ دوگنا کر دیا ہے، جو اب تقریباً 600 وار ہیڈز تک پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ میں آخری ایٹمی تجربہ 1992 میں ہوا تھا۔ ٹرمپ کے اعلان پر عالمی ردِعمل فوری سامنے آیا۔ امریکی ریاست نیواڈا کی ڈیموکریٹ رکن ڈیانا ٹائٹس نے کہا کہ وہ اس اقدام کو روکنے کے لیے قانون سازی کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلحہ کنٹرول ایسوسی ایشن کے سربراہ ڈیرل کمبل نے ٹرمپ کے فیصلے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور دیگر ممالک کو بھی ایٹمی تجربات پر اکسا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو 33 سال کے وقفے کے بعد امریکہ میں ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ اعلان انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے چند منٹ قبل کیا۔</strong></p>
<p>ٹرمپ نے یہ اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر اُس وقت کیا جب وہ جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں تجارتی مذاکرات کے لیے جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزارت دفاع کو ہدایت دے رہے ہیں کہ امریکہ کے ایٹمی ہتھیاروں کا تجربہ دیگر ایٹمی طاقتوں کے برابر کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے لکھا کہ دوسرے ممالک کے تجربات کے پیشِ نظر، میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہمارے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات فوری طور پر شروع کرے۔</p>
<p>امریکہ واپسی کے دوران ایئر فورس ون میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ تجربات ضروری ہیں تاکہ امریکہ اپنے حریف ایٹمی ممالک کے ساتھ قدم ملا کر چل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ تجرباتی مقامات کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ میں ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کا حامی ہوں، لیکن جب روس اور چین تجربات کر رہے ہیں تو ہمیں بھی ایسا کرنا ہوگا۔</p>
<p>امریکی میڈیا کے مطابق، یہ واضح نہیں ہے کہ صدر کا اشارہ زیر زمین ایٹمی دھماکوں کی جانب تھا یا ایٹمی صلاحیت والے میزائلوں کے ٹیسٹ کی طرف۔</p>
<p>ٹرمپ کے فیصلے سے قبل روس نے ایک ایٹمی طاقت سے چلنے والے ٹارپیڈو اور کروز میزائل کے کامیاب تجربے کا اعلان کیا تھا، جب کہ چین نے گزشتہ پانچ سالوں میں اپنا ایٹمی ذخیرہ دوگنا کر دیا ہے، جو اب تقریباً 600 وار ہیڈز تک پہنچ چکا ہے۔</p>
<p>امریکہ میں آخری ایٹمی تجربہ 1992 میں ہوا تھا۔ ٹرمپ کے اعلان پر عالمی ردِعمل فوری سامنے آیا۔ امریکی ریاست نیواڈا کی ڈیموکریٹ رکن ڈیانا ٹائٹس نے کہا کہ وہ اس اقدام کو روکنے کے لیے قانون سازی کریں گی۔</p>
<p>اسلحہ کنٹرول ایسوسی ایشن کے سربراہ ڈیرل کمبل نے ٹرمپ کے فیصلے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور دیگر ممالک کو بھی ایٹمی تجربات پر اکسا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278756</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Oct 2025 12:05:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/3012042310d1f10.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/3012042310d1f10.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
