<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 10:01:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 10:01:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اوورسیز پاکستانیوں کی گاڑیوں کی درآمدی اسکیم کے غلط استعمال کی روک تھام کیلئے اصلاحاتی مسودہ تیار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278752/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ حکومت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی اسکیموں میں ترمیم پر کام کر رہی ہے تاکہ ان اسکیموں کے تجارتی غلط استعمال کو مؤثر طور پر روکا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ صرف حقیقی اوورسیز پاکستانی ہی ان سہولتوں سے مستفید ہوں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت وزارتِ تجارت میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران ہوئی جس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کی۔ اجلاس میں آٹوموٹو سیکٹر کے لیے پالیسی اقدامات، استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے ضوابط، مقامی مینوفیکچررز اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سہولت کاری کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) اور پاکستان آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاپام) کے وفود کے علاوہ وزارتِ تجارت، وزارتِ صنعت و پیداوار اور ایف بی آر کے سینئر حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال خان نے بتایا کہ وزارت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق مختلف اسکیموں میں اصلاحات تجویز کر رہی ہے تاکہ ان کے تجارتی غلط استعمال کے امکانات کم کیے جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ اقدامات سے شفافیت بڑھے گی اور اسکیموں کے غیر مجاز استعمال کی روک تھام ممکن ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ تجارتی بنیادوں پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جو ہر سال بتدریج کم کی جائے گی تاکہ مقامی آٹوموٹیو انڈسٹری کے لیے متوازن ترغیبی ڈھانچہ فراہم ہو اور منڈی میں منصفانہ مسابقت برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں بیگیج، گفٹ اور ٹرانسفر آف ریذیڈنس اسکیموں کو ہم آہنگ کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ بیگیج اسکیم کے لیے کم از کم چھ ماہ بیرونِ ملک قیام کی شرط موجود ہے جبکہ صنعتی نمائندوں نے تجویز دی کہ تینوں اسکیموں کے لیے اہلیت کی مدت کو یکساں اور زیادہ سے زیادہ مقرر کر کے ضوابطی عمل کو سادہ اور شفاف بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ اجلاس کا بنیادی مقصد استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد کے آغاز کے بعد آٹوموبائل اور آٹو پارٹس انڈسٹری کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینا اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے گاڑیوں کی درآمدی اسکیموں کو شفاف انداز میں مزید مؤثر بنانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال خان نے مزید کہا کہ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے تحت پری شپمنٹ اور پوسٹ شپمنٹ انسپیکشن نظام متعارف کرانے اور سخت کوالٹی کنٹرول اقدامات کے نفاذ سے تجارتی درآمد کے غلط استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ معیار پر مبنی جانچ کے نظام کے نفاذ اور درآمد کے واضح اصول طے کر کے ہمارا مقصد شفافیت کو فروغ دینا ہے، ساتھ ہی پاکستان کی صنعتی ترقی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزارت کی اولین ترجیح مقامی صنعت اور مینوفیکچررز کو سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ ملکی شعبہ زیادہ مسابقتی اور خود کفیل بن سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت  ہارون اختر خان نے صنعت کے تعمیری کردار کو سراہا اور وزارتِ تجارت اور وزارتِ صنعت کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے مشاورتی عمل ایک پائیدار اور مسابقتی آٹوموٹیو ایکو سسٹم تشکیل دینے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دونوں تجارتی تنظیموں کو ہدایت کی کہ وہ آنے والی آٹوموبائل پالیسی سے متعلق اپنی تجاویز فوری طور پر پیش کریں کیونکہ وقت بہت کم ہے اور وزارتِ صنعت نومبر تک اس پالیسی کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفت و شنید کے دوران پاپام اور پاما کے نمائندوں نے مقامی سطح پر پیداوار ، وینڈر ڈیولپمنٹ، ٹیرف کے توازن، اور تحقیق و ترقی کے لیے مراعات سے متعلق تفصیلی تجاویز پیش کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے صنعت کو ہدایت دی کہ وہ ایک طویل المدتی آٹوموٹیو پالیسی کے لیے جامع تجاویز جمع کرائیں جو قومی صنعتی مقاصد سے ہم آہنگ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے اختتام پر جام کمال خان نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ صنعت کے ساتھ سہولت کاری، شفافیت اور شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد صرف درآمدات کے غلط استعمال کو روکنا نہیں بلکہ مقامی مینوفیکچرنگ کو مضبوط کرنا اور پاکستان کی عالمی سطح پر مسابقتی صلاحیت کو بڑھانا بھی ہے۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ حکومت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی اسکیموں میں ترمیم پر کام کر رہی ہے تاکہ ان اسکیموں کے تجارتی غلط استعمال کو مؤثر طور پر روکا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ صرف حقیقی اوورسیز پاکستانی ہی ان سہولتوں سے مستفید ہوں۔</strong></p>
<p>یہ پیشرفت وزارتِ تجارت میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران ہوئی جس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کی۔ اجلاس میں آٹوموٹو سیکٹر کے لیے پالیسی اقدامات، استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے ضوابط، مقامی مینوفیکچررز اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سہولت کاری کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔</p>
<p>اجلاس میں پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) اور پاکستان آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاپام) کے وفود کے علاوہ وزارتِ تجارت، وزارتِ صنعت و پیداوار اور ایف بی آر کے سینئر حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>جام کمال خان نے بتایا کہ وزارت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق مختلف اسکیموں میں اصلاحات تجویز کر رہی ہے تاکہ ان کے تجارتی غلط استعمال کے امکانات کم کیے جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ اقدامات سے شفافیت بڑھے گی اور اسکیموں کے غیر مجاز استعمال کی روک تھام ممکن ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ تجارتی بنیادوں پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جو ہر سال بتدریج کم کی جائے گی تاکہ مقامی آٹوموٹیو انڈسٹری کے لیے متوازن ترغیبی ڈھانچہ فراہم ہو اور منڈی میں منصفانہ مسابقت برقرار رہے۔</p>
<p>اجلاس میں بیگیج، گفٹ اور ٹرانسفر آف ریذیڈنس اسکیموں کو ہم آہنگ کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ بیگیج اسکیم کے لیے کم از کم چھ ماہ بیرونِ ملک قیام کی شرط موجود ہے جبکہ صنعتی نمائندوں نے تجویز دی کہ تینوں اسکیموں کے لیے اہلیت کی مدت کو یکساں اور زیادہ سے زیادہ مقرر کر کے ضوابطی عمل کو سادہ اور شفاف بنایا جائے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ اجلاس کا بنیادی مقصد استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد کے آغاز کے بعد آٹوموبائل اور آٹو پارٹس انڈسٹری کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینا اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے گاڑیوں کی درآمدی اسکیموں کو شفاف انداز میں مزید مؤثر بنانا تھا۔</p>
<p>جام کمال خان نے مزید کہا کہ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے تحت پری شپمنٹ اور پوسٹ شپمنٹ انسپیکشن نظام متعارف کرانے اور سخت کوالٹی کنٹرول اقدامات کے نفاذ سے تجارتی درآمد کے غلط استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ معیار پر مبنی جانچ کے نظام کے نفاذ اور درآمد کے واضح اصول طے کر کے ہمارا مقصد شفافیت کو فروغ دینا ہے، ساتھ ہی پاکستان کی صنعتی ترقی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزارت کی اولین ترجیح مقامی صنعت اور مینوفیکچررز کو سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ ملکی شعبہ زیادہ مسابقتی اور خود کفیل بن سکے۔</p>
<p>وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت  ہارون اختر خان نے صنعت کے تعمیری کردار کو سراہا اور وزارتِ تجارت اور وزارتِ صنعت کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے مشاورتی عمل ایک پائیدار اور مسابقتی آٹوموٹیو ایکو سسٹم تشکیل دینے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔</p>
<p>انہوں نے دونوں تجارتی تنظیموں کو ہدایت کی کہ وہ آنے والی آٹوموبائل پالیسی سے متعلق اپنی تجاویز فوری طور پر پیش کریں کیونکہ وقت بہت کم ہے اور وزارتِ صنعت نومبر تک اس پالیسی کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہی ہے۔</p>
<p>گفت و شنید کے دوران پاپام اور پاما کے نمائندوں نے مقامی سطح پر پیداوار ، وینڈر ڈیولپمنٹ، ٹیرف کے توازن، اور تحقیق و ترقی کے لیے مراعات سے متعلق تفصیلی تجاویز پیش کیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے صنعت کو ہدایت دی کہ وہ ایک طویل المدتی آٹوموٹیو پالیسی کے لیے جامع تجاویز جمع کرائیں جو قومی صنعتی مقاصد سے ہم آہنگ ہوں۔</p>
<p>اجلاس کے اختتام پر جام کمال خان نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ صنعت کے ساتھ سہولت کاری، شفافیت اور شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد صرف درآمدات کے غلط استعمال کو روکنا نہیں بلکہ مقامی مینوفیکچرنگ کو مضبوط کرنا اور پاکستان کی عالمی سطح پر مسابقتی صلاحیت کو بڑھانا بھی ہے۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278752</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Oct 2025 11:42:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/301130409a9919a.webp" type="image/webp" medium="image" height="666" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/301130409a9919a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
