<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:09:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:09:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا چین پر ٹیرف 47 فیصد تک کم کرنے کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278745/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز کہا کہ انہوں نے چین پر ٹیرف 47 فیصد تک کم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، اس کے بدلے میں بیجنگ نے امریکی سویابین کی خریداری دوبارہ شروع کرنے، نایاب معدنیات کی برآمدات کو جاری رکھنے اور فینٹانائل کی غیر قانونی تجارت کے خلاف کارروائی کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ  ملاقات کے بعد دیا گیا، جو 2019 کے بعد دونوں رہنماؤں کی پہلی ملاقات تھی۔ یہ ملاقات ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (ایپیک) سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوئی اور تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی۔ ملاقات کے اختتام پر ٹرمپ نے شی جن پنگ سے مصافحہ کیا، انہیں ان کی گاڑی تک پہنچایا، اور بعد ازاں امریکی صدر کو ایئرپورٹ پر ریڈ کارپٹ الوداعی تقریب دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی اسٹاک مارکیٹ ایک دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ یوآن کی قدر بھی ڈالر کے مقابلے میں ایک سال کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی، کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید تھی کہ تجارتی کشیدگی میں کمی سے سپلائی چین کے بحران اور عالمی کاروباری غیر یقینی صورتحال میں بہتری آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں، بشمول وال اسٹریٹ اور ٹوکیو، نے حالیہ دنوں میں ریکارڈ بلندیوں کو چھوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے بارہا اس امکان کا ذکر کیا کہ وہ شی جن پنگ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی مذاکرات کاروں نے اتوار کے روز بتایا تھا کہ چین کے ساتھ ایک فریم ورک طے پا گیا ہے جس کے تحت امریکی اشیا پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے سے گریز کیا جائے گا، جبکہ چین نایاب معدنیات کی برآمدات پر اپنی پابندیاں مؤخر کرے گا، یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس پر بیجنگ کا عالمی غلبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دونوں ممالک کی جانب سے معاشی اور جیوپولیٹیکل معاملات پر سخت مؤقف اپنانے کے رجحان کے باعث، یہ سوال برقرار ہے کہ آیا یہ تجارتی مفاہمت کتنے عرصے تک برقرار رہ پائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز کہا کہ انہوں نے چین پر ٹیرف 47 فیصد تک کم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، اس کے بدلے میں بیجنگ نے امریکی سویابین کی خریداری دوبارہ شروع کرنے، نایاب معدنیات کی برآمدات کو جاری رکھنے اور فینٹانائل کی غیر قانونی تجارت کے خلاف کارروائی کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔</strong></p>
<p>یہ بیان جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ  ملاقات کے بعد دیا گیا، جو 2019 کے بعد دونوں رہنماؤں کی پہلی ملاقات تھی۔ یہ ملاقات ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (ایپیک) سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوئی اور تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی۔ ملاقات کے اختتام پر ٹرمپ نے شی جن پنگ سے مصافحہ کیا، انہیں ان کی گاڑی تک پہنچایا، اور بعد ازاں امریکی صدر کو ایئرپورٹ پر ریڈ کارپٹ الوداعی تقریب دی گئی۔</p>
<p>چینی اسٹاک مارکیٹ ایک دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ یوآن کی قدر بھی ڈالر کے مقابلے میں ایک سال کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی، کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید تھی کہ تجارتی کشیدگی میں کمی سے سپلائی چین کے بحران اور عالمی کاروباری غیر یقینی صورتحال میں بہتری آئے گی۔</p>
<p>دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں، بشمول وال اسٹریٹ اور ٹوکیو، نے حالیہ دنوں میں ریکارڈ بلندیوں کو چھوا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے بارہا اس امکان کا ذکر کیا کہ وہ شی جن پنگ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی مذاکرات کاروں نے اتوار کے روز بتایا تھا کہ چین کے ساتھ ایک فریم ورک طے پا گیا ہے جس کے تحت امریکی اشیا پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے سے گریز کیا جائے گا، جبکہ چین نایاب معدنیات کی برآمدات پر اپنی پابندیاں مؤخر کرے گا، یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس پر بیجنگ کا عالمی غلبہ ہے۔</p>
<p>تاہم دونوں ممالک کی جانب سے معاشی اور جیوپولیٹیکل معاملات پر سخت مؤقف اپنانے کے رجحان کے باعث، یہ سوال برقرار ہے کہ آیا یہ تجارتی مفاہمت کتنے عرصے تک برقرار رہ پائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278745</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Oct 2025 10:46:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/0v6_RtzXEhc/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/0v6_RtzXEhc/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=0v6_RtzXEhc"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
