<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:24:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:24:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو پہلی مرتبہ امریکی خام تیل کی کھیپ موصول</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278741/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کو  پہلی مرتبہ امریکی خام تیل کی کھیپ بدھ کو موصول ہوئی جو بلوچستان کے ساحل پر واقع سینرجیکو کے آف شور ٹرمینل پر پہنچنے کے ساتھ ہی پاک-امریکا تجارتی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دی جا رہی ہے۔ یہ کارگو ایم ٹی پیگاسس نامی سوئز میکس جہاز کے ذریعے آیا اور سینرجیکو کے سنگل پوائنٹ مورنگ (ایس پی ایم) پورٹ پر لنگر انداز ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست میں یہ اطلاع دی گئی تھی کہ سینرجیکو رواں ماہ ویٹول  سے 10 لاکھ بیرل خام تیل درآمد کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینرجیکو پاکستان لمیٹڈ کے نائب چیئرمین اسامہ قریشی نے ڈان ڈاٹ کام سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کی پہلی امریکی خام تیل کی کھیپ کی آمد ملک کے توانائی کے شعبے اور سینرجیکو دونوں کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ یہ پہلی شپمنٹ وسط نومبر میں آنے والی دوسری اور جنوری 2026 میں متوقع تیسری کھیپ کے بعد مزید تقویت پائے گی۔ مجموعی طور پر ان تینوں کھیپوں سے پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تجارتی توازن میں تقریباً 200 ملین ڈالر کی بہتری متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسامہ قریشی نے مزید کہا کہ ایس پی ایم سہولت ، جو ملک کی واحد آف شور خام تیل ہینڈلنگ ٹرمینل ہے ، بڑی جہازوں کو مؤثر طریقے سے وصول کرنے، لاجسٹک لاگت میں کمی اور ریفائنری آپریشنز کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ درآمدات نہ صرف پاکستان کی خام تیل کی فراہمی کو متنوع بناتی ہیں بلکہ پاک-امریکا تجارتی تعلقات کو بھی مضبوط کرتی ہیں اور طویل المدتی توانائی تحفظ میں معاون ثابت ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں سینرجیکو نے اپنی پہلی کھیپ کو تجارتی طور پر موزوں قرار دینے کے بعد امریکی خام تیل کی دوسری شپمنٹ کا آرڈر دیا تھا، جس سے آئندہ مزید درآمدات کی راہ ہموار ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 2023 میں سینرجیکو نے روس سے رعایتی نرخوں پر تیل خریدنے کے بعد ملک کے نجی شعبے کی جانب سے روسی خام تیل کی پہلی درآمد کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کو  پہلی مرتبہ امریکی خام تیل کی کھیپ بدھ کو موصول ہوئی جو بلوچستان کے ساحل پر واقع سینرجیکو کے آف شور ٹرمینل پر پہنچنے کے ساتھ ہی پاک-امریکا تجارتی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دی جا رہی ہے۔ یہ کارگو ایم ٹی پیگاسس نامی سوئز میکس جہاز کے ذریعے آیا اور سینرجیکو کے سنگل پوائنٹ مورنگ (ایس پی ایم) پورٹ پر لنگر انداز ہوا۔</strong></p>
<p>اگست میں یہ اطلاع دی گئی تھی کہ سینرجیکو رواں ماہ ویٹول  سے 10 لاکھ بیرل خام تیل درآمد کرے گا۔</p>
<p>سینرجیکو پاکستان لمیٹڈ کے نائب چیئرمین اسامہ قریشی نے ڈان ڈاٹ کام سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کی پہلی امریکی خام تیل کی کھیپ کی آمد ملک کے توانائی کے شعبے اور سینرجیکو دونوں کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ یہ پہلی شپمنٹ وسط نومبر میں آنے والی دوسری اور جنوری 2026 میں متوقع تیسری کھیپ کے بعد مزید تقویت پائے گی۔ مجموعی طور پر ان تینوں کھیپوں سے پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تجارتی توازن میں تقریباً 200 ملین ڈالر کی بہتری متوقع ہے۔</p>
<p>اسامہ قریشی نے مزید کہا کہ ایس پی ایم سہولت ، جو ملک کی واحد آف شور خام تیل ہینڈلنگ ٹرمینل ہے ، بڑی جہازوں کو مؤثر طریقے سے وصول کرنے، لاجسٹک لاگت میں کمی اور ریفائنری آپریشنز کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ درآمدات نہ صرف پاکستان کی خام تیل کی فراہمی کو متنوع بناتی ہیں بلکہ پاک-امریکا تجارتی تعلقات کو بھی مضبوط کرتی ہیں اور طویل المدتی توانائی تحفظ میں معاون ثابت ہوں گی۔</p>
<p>ستمبر میں سینرجیکو نے اپنی پہلی کھیپ کو تجارتی طور پر موزوں قرار دینے کے بعد امریکی خام تیل کی دوسری شپمنٹ کا آرڈر دیا تھا، جس سے آئندہ مزید درآمدات کی راہ ہموار ہوئی۔</p>
<p>یاد رہے کہ 2023 میں سینرجیکو نے روس سے رعایتی نرخوں پر تیل خریدنے کے بعد ملک کے نجی شعبے کی جانب سے روسی خام تیل کی پہلی درآمد کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278741</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Oct 2025 09:50:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مانیٹرنگ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/30094849f8d89c5.webp" type="image/webp" medium="image" height="786" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/30094849f8d89c5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
