<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:09:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:09:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیڈرل ریزرو کی شرحِ سود میں کمی، معاشی شٹ ڈاؤن کے دوران محدود ڈیٹا پر اظہار تشویش؛ 2 اراکینِ کمیٹی کا فیصلے سے اختلاف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278736/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;منقسم امریکی فیڈرل ریزرو نے بدھ کے روز شرحِ سود میں ایک چوتھائی فیصد کمی کرتے ہوئے اسے 3.75 سے 4.00 فیصد کی حد میں مقرر کر دیا اور اعلان کیا ہے کہ وہ ٹریژری سیکیورٹیز کی محدود خریداری دوبارہ شروع کرے گا، کیونکہ کرنسی مارکیٹس میں لیکویڈیٹی کی کمی کے آثار ظاہر ہوئے ہیں، ایک ایسی صورتحال جس سے بچنے کا عزم امریکی مرکزی بینک پہلے ہی ظاہر کر چکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرح سود میں کمی کے اس فیصلے کے ساتھ فیڈ نے اس امر کا بھی اعتراف کیا ہے کہ موجودہ وفاقی شٹ ڈاؤن کے دوران اسے معاشی اعداد و شمار تک محدود رسائی حاصل ہے۔ اس پالیسی فیصلے پر دو اراکین نے اختلاف کیا، گورنر اسٹیفن میرن نے قرضوں کی لاگت میں زیادہ کمی کا مطالبہ کیا جبکہ کنساس سٹی فیڈ کے صدر جیفری شمڈ نے جاری مہنگائی کے پیشِ نظر کسی قسم کی کٹوتی کی مخالفت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیلنس شیٹ سے متعلق فیصلے کے مطابق مرکزی بینک یکم دسمبر سے اپنی مجموعی ہولڈنگز کو ماہانہ بنیاد پر مستحکم رکھے گا، تاہم وہ میچور ہونے والی مارگیج بیکڈ سیکیورٹیز کی رقم کو ٹریژری بلز میں دوبارہ سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے پورٹ فولیو میں تبدیلی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرحِ سود میں کمی کے 10 کے مقابلے میں 2 ووٹوں سے منظور ہونے والے اس فیصلے کی سرمایہ کاروں کو توقع تھی، تاکہ فیڈ ایسے روزگار کے بازار میں مزید سست روی سے بچ سکے جس کے بارے میں پالیسی سازوں کو خدشہ ہے کہ وہ کمزور پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فیڈ کے پالیسی بیان کے اجرا کے بعد اسٹاک انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ مثبت زون میں رہے جبکہ ٹریژری بانڈز کی ییلڈز ، جو قیمتوں کے برعکس حرکت کرتی ہیں، میں اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریڈرز اور سرمایہ کاروں نے توقع ظاہر کی کہ دسمبر میں فیڈ کے سالانہ آخری پالیسی اجلاس میں شرحِ سود میں ایک اور کمی کی جائے گی، جب کہ مارچ میں مزید نرمی کا امکان بھی برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈ مین ساکس ایسٹ مینجمنٹ کی گلوبل شریک چیف انویسٹمنٹ آفیسر الیکزینڈرا ولسن ایلیزونڈو نے کہا ہے کہ افراطِ زر کی ایک معتدل رپورٹ، مستحکم توقعات اور لیبر ڈیمانڈ میں بتدریج کمی محتاط نرمی کی پالیسی کی حمایت کرتی ہیں۔ اگر یہی حالات برقرار رہے تو دسمبر کے اجلاس میں مزید 25 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈ کے پالیسی سازوں نے تسلیم کیا ہے کہ وفاقی حکومت کے شٹ ڈاؤن نے اُن کے فیصلہ سازی کے عمل کو محدود کر دیا ہے۔ انہوں نے بے روزگاری کی شرح سے متعلق اپنا تجزیہ اگست تک کے دستیاب اعداد و شمار پر مبنی رکھا، جو روزگار کے بارے میں آخری سرکاری رپورٹ کا مہینہ تھا، تاہم انہوں نے نوٹ کیا کہ دستیاب اشاریے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معیشت معتدل رفتار سے ترقی کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری طور پر جاری کردہ آخری تخمینے کے مطابق، ذاتی کھپت کے اخراجات کے قیمتوں کے اشاریے (پی سی ای ) میں افراطِ زر توقع سے کم رفتار سے بڑھا، حالانکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ نئی درآمدی محصولات کے اثرات دیکھنے میں آئے۔ اپریل میں افراطِ زر تقریباً 2.3 فیصد تھا جو اگست میں بڑھ کر 2.7 فیصد تک پہنچ گیا، یہ تخمینہ شٹ ڈاؤن سے قبل جاری کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل ریزرو اپنی 2 فیصد افراطِ زر کی ہدفی شرح کا تعین اسی پی سی ای اشاریے کی بنیاد پر کرتا ہے۔ ستمبر میں جاری کردہ تخمینوں کے مطابق پالیسی سازوں نے توقع ظاہر کی تھی کہ افراطِ زر سال کے اختتام تک 3 فیصد تک پہنچ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈ کے مطابق قیمتوں میں اضافہ وقت کے ساتھ ساتھ اعتدال پر آ جائے گا، تاہم روزگار کی منڈی کی مضبوطی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے تازہ پالیسی بیان میں فیڈ نے کہا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران روزگار کے امکانات میں کمی کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیفن میرن اور جیفری شمڈ کی مخالفت کے نتیجے میں یہ 1990 کے بعد صرف تیسرا موقع ہے جب فیڈ کے اجلاس میں پالیسی سازوں نے ایک ہی وقت میں زیادہ نرمی اور سخت مالیاتی پالیسی دونوں کے حق میں اختلاف رائے ظاہر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>منقسم امریکی فیڈرل ریزرو نے بدھ کے روز شرحِ سود میں ایک چوتھائی فیصد کمی کرتے ہوئے اسے 3.75 سے 4.00 فیصد کی حد میں مقرر کر دیا اور اعلان کیا ہے کہ وہ ٹریژری سیکیورٹیز کی محدود خریداری دوبارہ شروع کرے گا، کیونکہ کرنسی مارکیٹس میں لیکویڈیٹی کی کمی کے آثار ظاہر ہوئے ہیں، ایک ایسی صورتحال جس سے بچنے کا عزم امریکی مرکزی بینک پہلے ہی ظاہر کر چکا ہے۔</strong></p>
<p>شرح سود میں کمی کے اس فیصلے کے ساتھ فیڈ نے اس امر کا بھی اعتراف کیا ہے کہ موجودہ وفاقی شٹ ڈاؤن کے دوران اسے معاشی اعداد و شمار تک محدود رسائی حاصل ہے۔ اس پالیسی فیصلے پر دو اراکین نے اختلاف کیا، گورنر اسٹیفن میرن نے قرضوں کی لاگت میں زیادہ کمی کا مطالبہ کیا جبکہ کنساس سٹی فیڈ کے صدر جیفری شمڈ نے جاری مہنگائی کے پیشِ نظر کسی قسم کی کٹوتی کی مخالفت کی۔</p>
<p>بیلنس شیٹ سے متعلق فیصلے کے مطابق مرکزی بینک یکم دسمبر سے اپنی مجموعی ہولڈنگز کو ماہانہ بنیاد پر مستحکم رکھے گا، تاہم وہ میچور ہونے والی مارگیج بیکڈ سیکیورٹیز کی رقم کو ٹریژری بلز میں دوبارہ سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے پورٹ فولیو میں تبدیلی کرے گا۔</p>
<p>شرحِ سود میں کمی کے 10 کے مقابلے میں 2 ووٹوں سے منظور ہونے والے اس فیصلے کی سرمایہ کاروں کو توقع تھی، تاکہ فیڈ ایسے روزگار کے بازار میں مزید سست روی سے بچ سکے جس کے بارے میں پالیسی سازوں کو خدشہ ہے کہ وہ کمزور پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>امریکی فیڈ کے پالیسی بیان کے اجرا کے بعد اسٹاک انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ مثبت زون میں رہے جبکہ ٹریژری بانڈز کی ییلڈز ، جو قیمتوں کے برعکس حرکت کرتی ہیں، میں اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p>ٹریڈرز اور سرمایہ کاروں نے توقع ظاہر کی کہ دسمبر میں فیڈ کے سالانہ آخری پالیسی اجلاس میں شرحِ سود میں ایک اور کمی کی جائے گی، جب کہ مارچ میں مزید نرمی کا امکان بھی برقرار ہے۔</p>
<p>گولڈ مین ساکس ایسٹ مینجمنٹ کی گلوبل شریک چیف انویسٹمنٹ آفیسر الیکزینڈرا ولسن ایلیزونڈو نے کہا ہے کہ افراطِ زر کی ایک معتدل رپورٹ، مستحکم توقعات اور لیبر ڈیمانڈ میں بتدریج کمی محتاط نرمی کی پالیسی کی حمایت کرتی ہیں۔ اگر یہی حالات برقرار رہے تو دسمبر کے اجلاس میں مزید 25 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کا امکان ہے۔</p>
<p>فیڈ کے پالیسی سازوں نے تسلیم کیا ہے کہ وفاقی حکومت کے شٹ ڈاؤن نے اُن کے فیصلہ سازی کے عمل کو محدود کر دیا ہے۔ انہوں نے بے روزگاری کی شرح سے متعلق اپنا تجزیہ اگست تک کے دستیاب اعداد و شمار پر مبنی رکھا، جو روزگار کے بارے میں آخری سرکاری رپورٹ کا مہینہ تھا، تاہم انہوں نے نوٹ کیا کہ دستیاب اشاریے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معیشت معتدل رفتار سے ترقی کر رہی ہے۔</p>
<p>سرکاری طور پر جاری کردہ آخری تخمینے کے مطابق، ذاتی کھپت کے اخراجات کے قیمتوں کے اشاریے (پی سی ای ) میں افراطِ زر توقع سے کم رفتار سے بڑھا، حالانکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ نئی درآمدی محصولات کے اثرات دیکھنے میں آئے۔ اپریل میں افراطِ زر تقریباً 2.3 فیصد تھا جو اگست میں بڑھ کر 2.7 فیصد تک پہنچ گیا، یہ تخمینہ شٹ ڈاؤن سے قبل جاری کیا گیا تھا۔</p>
<p>فیڈرل ریزرو اپنی 2 فیصد افراطِ زر کی ہدفی شرح کا تعین اسی پی سی ای اشاریے کی بنیاد پر کرتا ہے۔ ستمبر میں جاری کردہ تخمینوں کے مطابق پالیسی سازوں نے توقع ظاہر کی تھی کہ افراطِ زر سال کے اختتام تک 3 فیصد تک پہنچ جائے گا۔</p>
<p>فیڈ کے مطابق قیمتوں میں اضافہ وقت کے ساتھ ساتھ اعتدال پر آ جائے گا، تاہم روزگار کی منڈی کی مضبوطی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>اپنے تازہ پالیسی بیان میں فیڈ نے کہا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران روزگار کے امکانات میں کمی کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>اسٹیفن میرن اور جیفری شمڈ کی مخالفت کے نتیجے میں یہ 1990 کے بعد صرف تیسرا موقع ہے جب فیڈ کے اجلاس میں پالیسی سازوں نے ایک ہی وقت میں زیادہ نرمی اور سخت مالیاتی پالیسی دونوں کے حق میں اختلاف رائے ظاہر کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278736</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Oct 2025 01:57:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/3001404306a491a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/3001404306a491a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
