<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس وصولی 5.83 کھرب روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278726/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی انکم ٹیکس وصولی مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر تاریخ کی بلند ترین سطح 5.83 کھرب روپے تک جا پہنچی، جو گزشتہ سال کے 4.57 کھرب روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر اس غیرمعمولی اضافے نے عوامی حلقوں میں غصے اور ٹیکس کے منصفانہ نظام پر بحث کو جنم دیا ہے، کیونکہ تنخواہ دار طبقہ اور کاروباری برادری دونوں بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کی شکایت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ(ای پی بی ڈی) کے چیئرمین گوہر اعجاز کے مطابق حکومت اس ریکارڈ وصولی کو بہتر تعمیل اور وسیع ٹیکس نیٹ سے جوڑ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کا بوجھ زیادہ تر تنخواہ دار طبقے اور منظم کاروباروں پر ڈالا گیا ہے، جبکہ غیر رسمی معیشت اب بھی بڑی حد تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق براہِ راست ٹیکس کی 70 فیصد سے زیادہ وصولی ودہولڈنگ ٹیکس (ڈبلیو ایچ ٹی) کی مد میں ہوئی، جو دراصل بالواسطہ طریقے سے وصول کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024-25 میں تنخواہ دار طبقے سے 575 ارب روپے وصول ہوئے، جو گزشتہ سال کے 364 ارب روپے کے مقابلے میں 57 فیصد اضافہ ہے۔ اس کے برعکس کاروباری شعبے نے مجموعی طور پر 5.3 کھرب روپے جمع کرائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناقدین کے مطابق ٹیکس نظام اب بھی انہی شعبوں پر بھاری ہے جو پہلے ہی قانون کی پابندی کرتے ہیں، جبکہ ٹیکس نیٹ سے باہر طبقات کو اب تک شامل نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا انتباہ ہے کہ اگر حکومت نے ساختی اصلاحات نہ کیں تو یہ وقتی کامیابیاں معیشت پر اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، چاہے کاغذی طور پر محصولات کا ریکارڈ ہی کیوں نہ بن جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی انکم ٹیکس وصولی مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر تاریخ کی بلند ترین سطح 5.83 کھرب روپے تک جا پہنچی، جو گزشتہ سال کے 4.57 کھرب روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔</strong></p>
<p>مگر اس غیرمعمولی اضافے نے عوامی حلقوں میں غصے اور ٹیکس کے منصفانہ نظام پر بحث کو جنم دیا ہے، کیونکہ تنخواہ دار طبقہ اور کاروباری برادری دونوں بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کی شکایت کر رہے ہیں۔</p>
<p>اقتصادی پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ(ای پی بی ڈی) کے چیئرمین گوہر اعجاز کے مطابق حکومت اس ریکارڈ وصولی کو بہتر تعمیل اور وسیع ٹیکس نیٹ سے جوڑ رہی ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کا بوجھ زیادہ تر تنخواہ دار طبقے اور منظم کاروباروں پر ڈالا گیا ہے، جبکہ غیر رسمی معیشت اب بھی بڑی حد تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق براہِ راست ٹیکس کی 70 فیصد سے زیادہ وصولی ودہولڈنگ ٹیکس (ڈبلیو ایچ ٹی) کی مد میں ہوئی، جو دراصل بالواسطہ طریقے سے وصول کیا جاتا ہے۔</p>
<p>مالی سال 2024-25 میں تنخواہ دار طبقے سے 575 ارب روپے وصول ہوئے، جو گزشتہ سال کے 364 ارب روپے کے مقابلے میں 57 فیصد اضافہ ہے۔ اس کے برعکس کاروباری شعبے نے مجموعی طور پر 5.3 کھرب روپے جمع کرائے۔</p>
<p>ناقدین کے مطابق ٹیکس نظام اب بھی انہی شعبوں پر بھاری ہے جو پہلے ہی قانون کی پابندی کرتے ہیں، جبکہ ٹیکس نیٹ سے باہر طبقات کو اب تک شامل نہیں کیا گیا۔</p>
<p>ماہرین کا انتباہ ہے کہ اگر حکومت نے ساختی اصلاحات نہ کیں تو یہ وقتی کامیابیاں معیشت پر اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، چاہے کاغذی طور پر محصولات کا ریکارڈ ہی کیوں نہ بن جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278726</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Oct 2025 15:31:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/291519599e23e9f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/291519599e23e9f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
