<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میٹا کا پاکستان کے ساتھ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تجارت اور ای کامرس میں اشتراک بڑھانے پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278711/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا حکومت کی نئی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی کے تحت مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیجیٹل تجارت اور ای کامرس کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور میٹا کے ڈائریکٹر برائے پبلک پالیسی (جنوبی ایشیا) رافیل فرینکل کی قیادت میں آنے والے وفد کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔ ملاقات میں جدید ٹیکنالوجیز، ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کے استحکام سے متعلق تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو جاری کردہ بیان کے مطابق جام کمال خان نے میٹا کے وفد کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن میں تعاون پر میٹا کے شراکتی کردار کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت جنوبی ایشیا میں تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے جو نوجوان آبادی، بڑھتی ہوئی کنکٹیوٹی اور مضبوط آئی ٹی ٹیلنٹ بیس کی بدولت فروغ پارہی ہے جہاں ہر سال 75 ہزار سے زائد گریجویٹس تیار ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے بتایا کہ وزارتِ تجارت ای کامرس کو مستحکم کرنے، آئی ٹی برآمدات میں اضافے اور مصنوعی ذہانت کو قومی معیشت کا حصہ بنانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق مالی سال 2025 میں آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات کی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ برآمدات 1.06 ارب ڈالر رہیں، جو سالانہ بنیادوں پر 21 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ قومی ای کامرس پالیسی 2.0 (2025–2030) کو حتمی شکل دی جارہی ہے جس کے تحت پاکستان کی ای کامرس مارکیٹ کو 2030 تک 20 ارب ڈالر تک وسعت دینے کا ہدف مقرر ہے۔ پالیسی میں مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز کی ڈیجیٹلائزیشن، لاجسٹکس میں بہتری اور سرحد پار تجارت کی سہولت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ تجارت نے بتایا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے ای کامرس تعاون پروگرام اور MPCEPA جیسے علاقائی فورمز میں فعال کردار ادا کر رہا ہے، جہاں ڈیجیٹل تجارت اور ڈیٹا کے محفوظ بہاؤ جیسے موضوعات ترجیحی حیثیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے میٹا کو وزارت کے آئی ٹی سیکٹورل کونسل کے ذریعے تعاون کی دعوت دی تاکہ مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اصولوں، ڈیجیٹل سیکیورٹی اور ای کامرس کے بین الاقوامی معیار کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں وزیرِ تجارت نے میٹا کو پاکستان کے نوجوانوں کے لیے اے آئی اسکلنگ پروگرامز میں شراکت کی دعوت دی اور ایک ”میٹا-پاکستان ای کامرس ایکسیلیریٹر پائلٹ“ کے قیام کی تجویز دی تاکہ ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کے ریجنل ڈائریکٹر رافیل فرینکل نے پاکستان کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن میں پیش رفت کو سراہتے ہوئے مصنوعی ذہانت پر مبنی اختراعات، ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ اور ایس ایم ایز کی معاونت میں تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ میٹا اپنے پروگرام میٹا بوسٹ کے ذریعے پاکستانی کاروباری افراد اور چھوٹے کاروباروں کو ڈیجیٹل مہارتوں، ذمہ دارانہ مارکیٹنگ اور آن لائن تحفظ کے حوالے سے بااختیار بناتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ جدت، محفوظ آن لائن ماحول اور ٹیکنالوجی کے ذریعے معاشی استحکام کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا حکومت کی نئی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی کے تحت مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیجیٹل تجارت اور ای کامرس کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔</strong></p>
<p>یہ پیشرفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور میٹا کے ڈائریکٹر برائے پبلک پالیسی (جنوبی ایشیا) رافیل فرینکل کی قیادت میں آنے والے وفد کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔ ملاقات میں جدید ٹیکنالوجیز، ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کے استحکام سے متعلق تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>بدھ کو جاری کردہ بیان کے مطابق جام کمال خان نے میٹا کے وفد کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن میں تعاون پر میٹا کے شراکتی کردار کو سراہا۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت جنوبی ایشیا میں تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے جو نوجوان آبادی، بڑھتی ہوئی کنکٹیوٹی اور مضبوط آئی ٹی ٹیلنٹ بیس کی بدولت فروغ پارہی ہے جہاں ہر سال 75 ہزار سے زائد گریجویٹس تیار ہوتے ہیں۔</p>
<p>جام کمال نے بتایا کہ وزارتِ تجارت ای کامرس کو مستحکم کرنے، آئی ٹی برآمدات میں اضافے اور مصنوعی ذہانت کو قومی معیشت کا حصہ بنانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق مالی سال 2025 میں آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات کی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ برآمدات 1.06 ارب ڈالر رہیں، جو سالانہ بنیادوں پر 21 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ قومی ای کامرس پالیسی 2.0 (2025–2030) کو حتمی شکل دی جارہی ہے جس کے تحت پاکستان کی ای کامرس مارکیٹ کو 2030 تک 20 ارب ڈالر تک وسعت دینے کا ہدف مقرر ہے۔ پالیسی میں مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز کی ڈیجیٹلائزیشن، لاجسٹکس میں بہتری اور سرحد پار تجارت کی سہولت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔</p>
<p>وزیرِ تجارت نے بتایا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے ای کامرس تعاون پروگرام اور MPCEPA جیسے علاقائی فورمز میں فعال کردار ادا کر رہا ہے، جہاں ڈیجیٹل تجارت اور ڈیٹا کے محفوظ بہاؤ جیسے موضوعات ترجیحی حیثیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے میٹا کو وزارت کے آئی ٹی سیکٹورل کونسل کے ذریعے تعاون کی دعوت دی تاکہ مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اصولوں، ڈیجیٹل سیکیورٹی اور ای کامرس کے بین الاقوامی معیار کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جا سکیں۔</p>
<p>مزید برآں وزیرِ تجارت نے میٹا کو پاکستان کے نوجوانوں کے لیے اے آئی اسکلنگ پروگرامز میں شراکت کی دعوت دی اور ایک ”میٹا-پاکستان ای کامرس ایکسیلیریٹر پائلٹ“ کے قیام کی تجویز دی تاکہ ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>میٹا کے ریجنل ڈائریکٹر رافیل فرینکل نے پاکستان کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن میں پیش رفت کو سراہتے ہوئے مصنوعی ذہانت پر مبنی اختراعات، ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ اور ایس ایم ایز کی معاونت میں تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔</p>
<p>انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ میٹا اپنے پروگرام میٹا بوسٹ کے ذریعے پاکستانی کاروباری افراد اور چھوٹے کاروباروں کو ڈیجیٹل مہارتوں، ذمہ دارانہ مارکیٹنگ اور آن لائن تحفظ کے حوالے سے بااختیار بناتا رہے گا۔</p>
<p>دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ جدت، محفوظ آن لائن ماحول اور ٹیکنالوجی کے ذریعے معاشی استحکام کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278711</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Oct 2025 12:14:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/29115621282a15d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/29115621282a15d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
