<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:12:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:12:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ مسلسل چھٹے روز مندی کا شکار، 100 انڈیکس 1600 پوائنٹس گر گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278703/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو  فروخت کا دباؤ برقرار رہا، بعد ازاں اسلام آباد اور کابل کے درمیان مذاکرات سے کوئی حل نہیں نکلا جس کے نتیجے میں ٹریڈنگ کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1600 سے زائد  پوائنٹس گنوابیٹھا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,635.97 پوائنٹس یا 1.02 فیصد کی کمی سے 158,465.05 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے بدھ کو کہا کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان استنبول میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی قابلِ عمل حل تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ افغان فریق بنیادی مسئلے سے ہٹتا رہا اور اہم نکتے سے گریز کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استنبول میں مذاکرات ہفتہ کے روز اُس وقت شروع ہوئے جب کابل پر طالبان کے 2021 کے قبضے کے بعد سرحدی جھڑپوں کا بدترین واقعہ پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق کارپوریٹ نتائج سے متعلق سرمایہ کاروں کے رجحانات نے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جاری مندی کے رجحان میں کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ مارکیٹ میں مندی کا رجحان برقرار رہا کیونکہ سرمایہ کاروں نے  ملے جلے کارپوریٹ نتائج پر ردعمل دیا، کچھ کمپنیوں نے شاندار منافع ظاہر کیا جبکہ دیگر توقعات پر پوری نہ اتریں۔ لیوریجڈ پوزیشنز پر مارجن کالز نے گراوٹ کو مزید تیز کیا جب کہ فیوچرز رول اوور ہفتے کے باعث اتار چڑھاؤ کی سطح بلند رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق نقصان کی بڑی وجہ لک، یو بی ایل، ماری، ایم سی بی اور ایفرٹ کے شیئرز رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس سے 577 پوائنٹس کم کیے۔ اس کے برعکس  این بی پی، تھل، بی اے ایف ایل، جے وی ڈی سی اور آئی ایل پی نے جزوی سہارا دیا، اور 186 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مندی کے گزشتہ چھ سیشنز میں کے ایس ای-100 انڈیکس 8 ہزار 800 سے زائد پوائنٹس گنوا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ منگل کو بھی مارکیٹ میں بھاری فروخت اور منافع کے حصول کے باعث کے ایس ای-100 انڈیکس 2,062.78 پوائنٹس یا 1.27 فیصد کی کمی کے ساتھ 160,101.03 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مارکیٹ میں ایشیائی شیئرز کو وال اسٹریٹ سے حوصلہ ملا، جہاں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے مثبت توقعات نے سرمایہ کاروں کو متحرک کیا۔ رواں ہفتے امریکی شرح سود میں کمی کے امکان نے بانڈز کو سپورٹ فراہم کی جبکہ ڈالر میں دباؤ برقرار رہا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے اندازہ لگایا کہ بدھ کو متوقع فیڈرل ریزرو کی کمی سال کی آخری نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وال اسٹریٹ این ویڈیا اور مائیکروسافٹ کی مثبت خبروں کے بعد ریکارڈ سطح پر بند ہوا، این ویڈیا نے اپنے اے آئی چِپ کے لیے 500 ارب ڈالر کے بکنگز کا اعلان کیا اور امریکی محکمہ توانائی کے لیے سات سپر کمپیوٹرز بنانے کا منصوبہ بھی شیئر کیا۔ مائیکروسافٹ نے اوپن اے آئی کو پبلک بینیفٹ کارپوریشن میں تبدیل کرنے کا معاہدہ کیا اور 27 فیصد حصہ حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مثبت عوامل نے ایشیا کے اسٹاکس کو بھی فروغ دیا، جہاں ایم ایس سی آئی ایشیا-پیسیفک (جاپان کے علاوہ) انڈیکس 0.16 فیصد بڑھا جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس 1 فیصد سے زائد بڑھ کر ایک اور ریکارڈ قائم کیا۔ جنوبی کوریا کا کوسپی بھی این ویڈیا کے سپلائر ایس کے ہائینکس کی مضبوط آمدنی اور مثبت توقعات کے باعث ریکارڈ بلند سطح تک پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹر بینک مارکیٹ میں بدھ کے روز  امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے مقامی کرنسی 280.96 روپے پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کے معمولی اضافے کی عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم کم ہو کر 951.84 ملین شیئرز رہ گیا، جو گزشتہ روز 1.019 ارب شیئرز تھا۔ تاہم، حصص کی مالیت بڑھ کر 41.31 ارب روپے ہو گئی، جو گزشتہ سیشن میں 36.94 ارب روپے رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک لمیٹڈ کاروباری حجم میں سرِفہرست رہی، جس کے 92.99 ملین شیئرز کا لین دین ہوا، اس کے بعد ہیاسکول پٹرول کے 53.92 ملین اور ورلڈ کال ٹیلی کام کے 51.08 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو مجموعی طور پر 478 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 123 کے نرخوں میں اضافہ، 314 کے نرخوں میں کمی، جبکہ 41 کے نرخ مستحکم رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/29165521b9916fb.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/29165521b9916fb.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو  فروخت کا دباؤ برقرار رہا، بعد ازاں اسلام آباد اور کابل کے درمیان مذاکرات سے کوئی حل نہیں نکلا جس کے نتیجے میں ٹریڈنگ کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1600 سے زائد  پوائنٹس گنوابیٹھا</strong></p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,635.97 پوائنٹس یا 1.02 فیصد کی کمی سے 158,465.05 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے بدھ کو کہا کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان استنبول میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی قابلِ عمل حل تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ افغان فریق بنیادی مسئلے سے ہٹتا رہا اور اہم نکتے سے گریز کرتا رہا۔</p>
<p>استنبول میں مذاکرات ہفتہ کے روز اُس وقت شروع ہوئے جب کابل پر طالبان کے 2021 کے قبضے کے بعد سرحدی جھڑپوں کا بدترین واقعہ پیش آیا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق کارپوریٹ نتائج سے متعلق سرمایہ کاروں کے رجحانات نے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جاری مندی کے رجحان میں کردار ادا کیا۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ مارکیٹ میں مندی کا رجحان برقرار رہا کیونکہ سرمایہ کاروں نے  ملے جلے کارپوریٹ نتائج پر ردعمل دیا، کچھ کمپنیوں نے شاندار منافع ظاہر کیا جبکہ دیگر توقعات پر پوری نہ اتریں۔ لیوریجڈ پوزیشنز پر مارجن کالز نے گراوٹ کو مزید تیز کیا جب کہ فیوچرز رول اوور ہفتے کے باعث اتار چڑھاؤ کی سطح بلند رہی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق نقصان کی بڑی وجہ لک، یو بی ایل، ماری، ایم سی بی اور ایفرٹ کے شیئرز رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس سے 577 پوائنٹس کم کیے۔ اس کے برعکس  این بی پی، تھل، بی اے ایف ایل، جے وی ڈی سی اور آئی ایل پی نے جزوی سہارا دیا، اور 186 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔</p>
<p>مندی کے گزشتہ چھ سیشنز میں کے ایس ای-100 انڈیکس 8 ہزار 800 سے زائد پوائنٹس گنوا چکا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ منگل کو بھی مارکیٹ میں بھاری فروخت اور منافع کے حصول کے باعث کے ایس ای-100 انڈیکس 2,062.78 پوائنٹس یا 1.27 فیصد کی کمی کے ساتھ 160,101.03 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی مارکیٹ میں ایشیائی شیئرز کو وال اسٹریٹ سے حوصلہ ملا، جہاں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے مثبت توقعات نے سرمایہ کاروں کو متحرک کیا۔ رواں ہفتے امریکی شرح سود میں کمی کے امکان نے بانڈز کو سپورٹ فراہم کی جبکہ ڈالر میں دباؤ برقرار رہا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے اندازہ لگایا کہ بدھ کو متوقع فیڈرل ریزرو کی کمی سال کی آخری نہیں ہوگی۔</p>
<p>وال اسٹریٹ این ویڈیا اور مائیکروسافٹ کی مثبت خبروں کے بعد ریکارڈ سطح پر بند ہوا، این ویڈیا نے اپنے اے آئی چِپ کے لیے 500 ارب ڈالر کے بکنگز کا اعلان کیا اور امریکی محکمہ توانائی کے لیے سات سپر کمپیوٹرز بنانے کا منصوبہ بھی شیئر کیا۔ مائیکروسافٹ نے اوپن اے آئی کو پبلک بینیفٹ کارپوریشن میں تبدیل کرنے کا معاہدہ کیا اور 27 فیصد حصہ حاصل کیا۔</p>
<p>ان مثبت عوامل نے ایشیا کے اسٹاکس کو بھی فروغ دیا، جہاں ایم ایس سی آئی ایشیا-پیسیفک (جاپان کے علاوہ) انڈیکس 0.16 فیصد بڑھا جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس 1 فیصد سے زائد بڑھ کر ایک اور ریکارڈ قائم کیا۔ جنوبی کوریا کا کوسپی بھی این ویڈیا کے سپلائر ایس کے ہائینکس کی مضبوط آمدنی اور مثبت توقعات کے باعث ریکارڈ بلند سطح تک پہنچا۔</p>
<p>انٹر بینک مارکیٹ میں بدھ کے روز  امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے مقامی کرنسی 280.96 روپے پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کے معمولی اضافے کی عکاس ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم کم ہو کر 951.84 ملین شیئرز رہ گیا، جو گزشتہ روز 1.019 ارب شیئرز تھا۔ تاہم، حصص کی مالیت بڑھ کر 41.31 ارب روپے ہو گئی، جو گزشتہ سیشن میں 36.94 ارب روپے رہی تھی۔</p>
<p>کے الیکٹرک لمیٹڈ کاروباری حجم میں سرِفہرست رہی، جس کے 92.99 ملین شیئرز کا لین دین ہوا، اس کے بعد ہیاسکول پٹرول کے 53.92 ملین اور ورلڈ کال ٹیلی کام کے 51.08 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔</p>
<p>بدھ کو مجموعی طور پر 478 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 123 کے نرخوں میں اضافہ، 314 کے نرخوں میں کمی، جبکہ 41 کے نرخ مستحکم رہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/29165521b9916fb.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/29165521b9916fb.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278703</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Oct 2025 23:42:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/291020407d8d5f4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/291020407d8d5f4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
