<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کا ذکر کیے جانے کے خدشے پر مودی نے سربراہی اجلاس میں شرکت سے گریز کیا، رپورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278700/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے اس ہفتے ملائیشیا میں علاقائی رہنماؤں کے سربراہی اجلاس میں شرکت سے اس لیے گریز کیا تاکہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات اور پاکستان پر ممکنہ گفتگو سے بچ سکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مودی ابتدائی طور پر اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت کرنے والے تھے، تاہم آخری لمحات میں انہوں نے اپنا فیصلہ بدل دیا اور اجلاس میں ورچوئل طور پر شریک ہونے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کے مطابق بھارتی حکومتی حکام کو خدشہ تھا کہ ٹرمپ ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرا سکتے ہیں کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کی تھی، جسے بھارت مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق مودی نہیں چاہتے تھے کہ ٹرمپ کے ساتھ کوئی ایسی ملاقات ہو جو اُن کے لیے شرمندگی کا باعث بنے، خاص طور پر اس وقت جب اہم ریاست بہار میں آئندہ ہفتے انتخابات شروع ہونے والے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ہفتے دیوالی کے موقع پر فون پر گفتگو کی تھی۔ گفتگو کے بعد ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ انہوں نے مودی کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ جنگ نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے تجارت سمیت کئی امور پر بات کی، لیکن زیادہ تر گفتگو تجارت کے بارے میں تھی۔ میں نے مودی سے کہا کہ پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اور امریکہ کے تعلقات پچھلے پانچ ماہ کے دوران پاکستان کے ساتھ تنازع کے بعد کشیدہ ہو گئے تھے۔ اگست میں ٹرمپ نے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا، جس کا نصف حصہ بھارت کی روسی تیل کی خریداری پر بطور جرمانہ تھا۔ اس کے بعد سے تجارتی مذاکرات سست روی کا شکار ہیں اور کسی معاہدے کے آثار ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ماہ کے آغاز میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ مودی نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت روسی تیل کی خریداری بند کر دے گا، تاہم بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس دعوے کی تردید کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق مودی اس کے بعد سے دو علاقائی اجلاسوں میں شرکت سے گریز کر چکے ہیں جہاں ان کی ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات ہو سکتی تھی۔ مودی کی ٹیم کے مطابق ملائیشیا میں ٹرمپ سے دوطرفہ ملاقات کے کوئی واضح نتائج نظر نہیں آ رہے تھے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان گزشتہ ہفتے ہونے والی فون کال بھی نئی دہلی کی توقعات پر پوری نہیں اتری۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق مودی اپنی جماعت کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں اور بہار کے اہم ریاستی انتخابات سے قبل وہ کسی ایسی ملاقات کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے تھے جو اُن کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی اپنی جماعت کی انتخابی مہم کا مرکزی چہرہ ہیں اور ٹرمپ کے کسی بھی بیان، خصوصاً پاکستان سے متعلق تبصرے، کو اُن کے سیاسی مخالفین ان کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ متعدد بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا اور کہا کہ وہ اس کوشش پر نوبیل امن انعام کے حقدار ہیں۔ اس ہفتے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور کے دورے کے دوران ان کی ایک بڑی سرگرمی تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کی نگرانی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کے روز ٹوکیو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ کو تجارتی معاہدوں کے ذریعے روکنے میں کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں نے وزیرِاعظم مودی سے اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سے کہا کہ اگر تم لڑنے جا رہے ہو تو ہم تجارت نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے بقول “انہوں نے کہا کہ نہیں، نہیں، اس کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ میں نے کہا کہ اس کا بہت تعلق ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے موقف کے برعکس، پاکستان نے ٹرمپ کو جنگ بندی کے لیے کردار ادا کرنے پر سراہا اور انہیں نوبیل انعام کے لیے نامزد بھی کیا ہے۔ ٹرمپ نے بھی پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیرِاعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے انہیں “عظیم شخصیات” قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوالالمپور میں آسیان (اے ایس ای اے این) سربراہی اجلاس سے مودی کی غیرحاضری غیر معمولی تھی۔ 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ تمام اجلاسوں میں شریک رہے ہیں، سوائے 2022 کے۔ 2020 اور 2021 میں کووِڈ-19 وبا کے باعث اجلاس ورچوئل طور پر منعقد ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی اور ٹرمپ پہلے قریبی تعلقات رکھتے تھے اور ایک دوسرے کی انتخابی مہمات میں عوامی حمایت کا مظاہرہ بھی کر چکے ہیں۔ تاہم اب یہ تعلق مودی کے سیاسی مخالفین، خصوصاً کانگریس کے رہنما راہول گاندھی، کی شدید تنقید کی زد میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راہول گاندھی نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ وزیرِاعظم مودی ٹرمپ سے خوفزدہ ہیں، اور ان کی خاموشی کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے تعلقات جون میں 35 منٹ کی تلخ گفتگو کے بعد بگڑ گئے تھے، جس میں انہوں نے براہِ راست تنازع پر بات کی۔ تاہم ستمبر کے بعد سے وہ کم از کم تین بار دوبارہ رابطہ کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان رابطوں کے باوجود مودی کا اجلاس میں شرکت نہ کرنا اُن کی ٹرمپ سے براہِ راست ملاقات سے ہچکچاہٹ ظاہر کرتا ہے کیونکہ ٹرمپ کے غیر متوقع بیانات کئی عالمی رہنماؤں، بشمول یوکرین کے ولودیمیر زیلینسکی اور جنوبی افریقہ کے سیرل رامافوسا، کے لیے بھی شرمندگی کا باعث بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی نے اتوار کو آسیان اجلاس میں ورچوئل خطاب کیا جبکہ پیر کو ان کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کوالالمپور میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے دوطرفہ تعلقات پر گفتگو کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبیو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاکستان سے تعلقات بھارت کے نقصان پر قائم نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق مودی آئندہ  ماہ جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں جی 20 رہنماؤں کے اجلاس میں شریک ہوں گے، جہاں ان کی مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع ہیں اور اگر تجارتی مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تو ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات کو بھی خارج از امکان نہیں کہا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے اس ہفتے ملائیشیا میں علاقائی رہنماؤں کے سربراہی اجلاس میں شرکت سے اس لیے گریز کیا تاکہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات اور پاکستان پر ممکنہ گفتگو سے بچ سکیں۔</strong></p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مودی ابتدائی طور پر اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت کرنے والے تھے، تاہم آخری لمحات میں انہوں نے اپنا فیصلہ بدل دیا اور اجلاس میں ورچوئل طور پر شریک ہونے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>بلومبرگ کے مطابق بھارتی حکومتی حکام کو خدشہ تھا کہ ٹرمپ ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرا سکتے ہیں کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کی تھی، جسے بھارت مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق مودی نہیں چاہتے تھے کہ ٹرمپ کے ساتھ کوئی ایسی ملاقات ہو جو اُن کے لیے شرمندگی کا باعث بنے، خاص طور پر اس وقت جب اہم ریاست بہار میں آئندہ ہفتے انتخابات شروع ہونے والے ہیں۔</p>
<p>یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ہفتے دیوالی کے موقع پر فون پر گفتگو کی تھی۔ گفتگو کے بعد ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ انہوں نے مودی کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ جنگ نہ کریں۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے تجارت سمیت کئی امور پر بات کی، لیکن زیادہ تر گفتگو تجارت کے بارے میں تھی۔ میں نے مودی سے کہا کہ پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں ہونی چاہیے۔</p>
<p>بھارت اور امریکہ کے تعلقات پچھلے پانچ ماہ کے دوران پاکستان کے ساتھ تنازع کے بعد کشیدہ ہو گئے تھے۔ اگست میں ٹرمپ نے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا، جس کا نصف حصہ بھارت کی روسی تیل کی خریداری پر بطور جرمانہ تھا۔ اس کے بعد سے تجارتی مذاکرات سست روی کا شکار ہیں اور کسی معاہدے کے آثار ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے۔</p>
<p>اس ماہ کے آغاز میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ مودی نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت روسی تیل کی خریداری بند کر دے گا، تاہم بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس دعوے کی تردید کی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق مودی اس کے بعد سے دو علاقائی اجلاسوں میں شرکت سے گریز کر چکے ہیں جہاں ان کی ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات ہو سکتی تھی۔ مودی کی ٹیم کے مطابق ملائیشیا میں ٹرمپ سے دوطرفہ ملاقات کے کوئی واضح نتائج نظر نہیں آ رہے تھے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان گزشتہ ہفتے ہونے والی فون کال بھی نئی دہلی کی توقعات پر پوری نہیں اتری۔</p>
<p>بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق مودی اپنی جماعت کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں اور بہار کے اہم ریاستی انتخابات سے قبل وہ کسی ایسی ملاقات کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے تھے جو اُن کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی اپنی جماعت کی انتخابی مہم کا مرکزی چہرہ ہیں اور ٹرمپ کے کسی بھی بیان، خصوصاً پاکستان سے متعلق تبصرے، کو اُن کے سیاسی مخالفین ان کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ متعدد بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا اور کہا کہ وہ اس کوشش پر نوبیل امن انعام کے حقدار ہیں۔ اس ہفتے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور کے دورے کے دوران ان کی ایک بڑی سرگرمی تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کی نگرانی تھی۔</p>
<p>منگل کے روز ٹوکیو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ کو تجارتی معاہدوں کے ذریعے روکنے میں کردار ادا کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میں نے وزیرِاعظم مودی سے اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سے کہا کہ اگر تم لڑنے جا رہے ہو تو ہم تجارت نہیں کریں گے۔</p>
<p>ٹرمپ کے بقول “انہوں نے کہا کہ نہیں، نہیں، اس کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ میں نے کہا کہ اس کا بہت تعلق ہے۔”</p>
<p>بھارت کے موقف کے برعکس، پاکستان نے ٹرمپ کو جنگ بندی کے لیے کردار ادا کرنے پر سراہا اور انہیں نوبیل انعام کے لیے نامزد بھی کیا ہے۔ ٹرمپ نے بھی پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیرِاعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے انہیں “عظیم شخصیات” قرار دیا۔</p>
<p>کوالالمپور میں آسیان (اے ایس ای اے این) سربراہی اجلاس سے مودی کی غیرحاضری غیر معمولی تھی۔ 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ تمام اجلاسوں میں شریک رہے ہیں، سوائے 2022 کے۔ 2020 اور 2021 میں کووِڈ-19 وبا کے باعث اجلاس ورچوئل طور پر منعقد ہوئے تھے۔</p>
<p>مودی اور ٹرمپ پہلے قریبی تعلقات رکھتے تھے اور ایک دوسرے کی انتخابی مہمات میں عوامی حمایت کا مظاہرہ بھی کر چکے ہیں۔ تاہم اب یہ تعلق مودی کے سیاسی مخالفین، خصوصاً کانگریس کے رہنما راہول گاندھی، کی شدید تنقید کی زد میں ہے۔</p>
<p>راہول گاندھی نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ وزیرِاعظم مودی ٹرمپ سے خوفزدہ ہیں، اور ان کی خاموشی کو اجاگر کیا۔</p>
<p>بلومبرگ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے تعلقات جون میں 35 منٹ کی تلخ گفتگو کے بعد بگڑ گئے تھے، جس میں انہوں نے براہِ راست تنازع پر بات کی۔ تاہم ستمبر کے بعد سے وہ کم از کم تین بار دوبارہ رابطہ کر چکے ہیں۔</p>
<p>ان رابطوں کے باوجود مودی کا اجلاس میں شرکت نہ کرنا اُن کی ٹرمپ سے براہِ راست ملاقات سے ہچکچاہٹ ظاہر کرتا ہے کیونکہ ٹرمپ کے غیر متوقع بیانات کئی عالمی رہنماؤں، بشمول یوکرین کے ولودیمیر زیلینسکی اور جنوبی افریقہ کے سیرل رامافوسا، کے لیے بھی شرمندگی کا باعث بن چکے ہیں۔</p>
<p>مودی نے اتوار کو آسیان اجلاس میں ورچوئل خطاب کیا جبکہ پیر کو ان کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کوالالمپور میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے دوطرفہ تعلقات پر گفتگو کی ہے۔</p>
<p>روبیو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاکستان سے تعلقات بھارت کے نقصان پر قائم نہیں کیے گئے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق مودی آئندہ  ماہ جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں جی 20 رہنماؤں کے اجلاس میں شریک ہوں گے، جہاں ان کی مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع ہیں اور اگر تجارتی مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تو ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات کو بھی خارج از امکان نہیں کہا جا سکتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278700</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Oct 2025 22:02:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/2821484933eade2.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/2821484933eade2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
