<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ٹیرف کا دباؤ، چین اور آسیان ممالک نے اپ گریڈ فری ٹریڈ معاہدے پر دستخط کر دیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278689/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان نے منگل کو اپنے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو اپ گریڈ کرنے کا معاہدہ کر لیا، جس میں ڈیجیٹل اور گرین اکانومی سمیت نئی صنعتوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ دونوں فریقوں نے اسے خطے میں تجارت و سرمایہ کاری کے نئے دور کا آغاز قرار دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسیان کے اعدادوشمار کے مطابق، چین اور 11 رکنی تنظیم کے درمیان دوطرفہ تجارت گزشتہ سال 771 ارب ڈالر تک پہنچی، جس سے چین آسیان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا۔ چین، جسے  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد بھاری درآمدی ٹیرف کا سامنا ہے، خطے کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو مزید گہرا کرنا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی وزیرِاعظم لی چیانگ نے آسیان اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ہمیں تجارت و سرمایہ کاری کی آزادی اور سہولت کاری میں تیزی لانی ہوگی اور صنعتی انضمام کو مضبوط کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے کا نیا ورژن ایف ٹی اے 3.0 منگل کو ملائیشیا میں ہونے والے آسیان سربراہی اجلاس میں دستخط کے ساتھ مؤثر ہوا۔ یہ مذاکرات نومبر 2022 میں شروع ہوئے اور رواں سال مئی میں مکمل ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنگاپور کے وزیرِاعظم لارنس وونگ کے مطابق، نیا معاہدہ تجارتی رکاوٹوں میں مزید کمی، سپلائی چین کے روابط میں بہتری اور نئے شعبوں میں ترقی کے مواقع فراہم کرے گا۔ چین نے کہا کہ اپ گریڈ شدہ معاہدہ زراعت، ڈیجیٹل معیشت اور دواسازی جیسے شعبوں میں مارکیٹ تک بہتر رسائی کا راستہ ہموار کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین اور آسیان دونوں ریجنل کمپری ہینسو اکنامک پارٹنرشپ (آر سی ای پی) کا حصہ ہیں، جو دنیا کا سب سے بڑا تجارتی بلاک ہے، جس میں عالمی آبادی کا تقریباً ایک تہائی اور عالمی جی ڈی پی کا 30 فیصد شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، جنوبی بحیرہ چین میں کشیدگی اب بھی خطے میں چین کے کردار کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے چینی جارحیت پر تنقید کی، جس کے جواب میں بیجنگ نے کہا کہ تنازعات کی وجہ منیلا کی اشتعال انگیز کارروائیاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی وزیرِاعظم نے زور دیا کہ ہمیں باہمی اعتماد کو مضبوط کرنا ہوگا اور جنوبی بحیرہ چین کے ضابطہ اخلاق پر جلد اتفاق رائے حاصل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان نے منگل کو اپنے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو اپ گریڈ کرنے کا معاہدہ کر لیا، جس میں ڈیجیٹل اور گرین اکانومی سمیت نئی صنعتوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ دونوں فریقوں نے اسے خطے میں تجارت و سرمایہ کاری کے نئے دور کا آغاز قرار دیا۔</strong></p>
<p>آسیان کے اعدادوشمار کے مطابق، چین اور 11 رکنی تنظیم کے درمیان دوطرفہ تجارت گزشتہ سال 771 ارب ڈالر تک پہنچی، جس سے چین آسیان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا۔ چین، جسے  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد بھاری درآمدی ٹیرف کا سامنا ہے، خطے کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو مزید گہرا کرنا چاہتا ہے۔</p>
<p>چینی وزیرِاعظم لی چیانگ نے آسیان اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ہمیں تجارت و سرمایہ کاری کی آزادی اور سہولت کاری میں تیزی لانی ہوگی اور صنعتی انضمام کو مضبوط کرنا ہوگا۔</p>
<p>اس معاہدے کا نیا ورژن ایف ٹی اے 3.0 منگل کو ملائیشیا میں ہونے والے آسیان سربراہی اجلاس میں دستخط کے ساتھ مؤثر ہوا۔ یہ مذاکرات نومبر 2022 میں شروع ہوئے اور رواں سال مئی میں مکمل ہوئے۔</p>
<p>سنگاپور کے وزیرِاعظم لارنس وونگ کے مطابق، نیا معاہدہ تجارتی رکاوٹوں میں مزید کمی، سپلائی چین کے روابط میں بہتری اور نئے شعبوں میں ترقی کے مواقع فراہم کرے گا۔ چین نے کہا کہ اپ گریڈ شدہ معاہدہ زراعت، ڈیجیٹل معیشت اور دواسازی جیسے شعبوں میں مارکیٹ تک بہتر رسائی کا راستہ ہموار کرے گا۔</p>
<p>چین اور آسیان دونوں ریجنل کمپری ہینسو اکنامک پارٹنرشپ (آر سی ای پی) کا حصہ ہیں، جو دنیا کا سب سے بڑا تجارتی بلاک ہے، جس میں عالمی آبادی کا تقریباً ایک تہائی اور عالمی جی ڈی پی کا 30 فیصد شامل ہے۔</p>
<p>تاہم، جنوبی بحیرہ چین میں کشیدگی اب بھی خطے میں چین کے کردار کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے چینی جارحیت پر تنقید کی، جس کے جواب میں بیجنگ نے کہا کہ تنازعات کی وجہ منیلا کی اشتعال انگیز کارروائیاں ہیں۔</p>
<p>چینی وزیرِاعظم نے زور دیا کہ ہمیں باہمی اعتماد کو مضبوط کرنا ہوگا اور جنوبی بحیرہ چین کے ضابطہ اخلاق پر جلد اتفاق رائے حاصل کرنا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278689</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Oct 2025 13:41:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/28133945a8496b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/28133945a8496b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
