<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترقی کے حکومتی دعوے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278678/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) کی جانب سے بجلی اور توانائی کے شعبے میں 100 فیصد سے زائد نمو اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو میں 2.7 فیصد سے بڑھا کر 3.6 فیصد تک اضافے کے دعوے کو سابق وزیر خزانہ اور ممتاز ماہرِ معیشت ڈاکٹر حفیظ پاشا نے چیلنج کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این اے سی جی ڈی پی کے عبوری اور نظرثانی شدہ تخمینوں سمیت نیشنل اکاؤنٹس کے اعداد و شمار کی منظوری دیتی ہے اور ان کا اجرا کرتی ہے۔ یہ کمیٹی پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے انتظامی دائرہ کار میں کام کرتی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے لیے نظرثانی شدہ جی ڈی پی شرحِ نمو 3.04 فیصد بتائی گئی ہے، جو پہلے 2.68 فیصد اندازہ لگائی گئی تھی۔ یہ تخمینہ بین الاقوامی اداروں کے تخمینوں سے زیادہ ہم آہنگ ہے، جن میں عالمی بینک کا 2.7 فیصد، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا 2.7 فیصد اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کا 3 فیصد شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ واضح نہیں کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے بالآخر اس نظرثانی کو تسلیم کریں گے یا نہیں، کیونکہ اکتوبر 2024 کی دستاویزات میں آئی ایم ایف نے نشاندہی کی تھی کہ معیشت کے اُن شعبوں کے دستیاب بنیادی اعداد و شمار میں نمایاں خامیاں موجود ہیں جو جی ڈی پی کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتے ہیں۔ اسی طرح حکومت کے مالیاتی اعداد و شمار (گورنمنٹ فنانس اسٹیٹسٹکس) کی تفصیلات اور درستگی سے متعلق بھی مسائل موجود ہیں۔ انہی کمزوریوں کے پیشِ نظر آئی ایم ایف نے تکنیکی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو جون 2026 کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این اے سی نے بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں 121.38 فیصد ترقی کا تخمینہ لگایا ہے جس کی بڑی وجہ مئی تا جون 2025 کے دوران آنے والی شدید گرمی کی لہر کو قرار دیا گیا ہے جیسا کہ پاور ڈویژن کی رپورٹس میں بتایا گیا۔ آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق کیپٹو پاور پلانٹس کی نیشنل گرڈ میں واپسی نے صنعتی شعبے میں بجلی کی طلب میں اضافے میں بھی کردار ادا کیا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مئی میں اپریل کے مقابلے میں ماہانہ 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم یہ بات واضح نہیں کہ پانی کی فراہمی میں بہتری کو کتنی اہمیت دی گئی ہے کیونکہ اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کی جاسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر حفیظ پاشا نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ معاشی سست روی کی ایک بڑی وجہ ایک کھرب روپے کا گردشی قرضہ اور برآمدات میں جمود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے 2.25 کھرب روپے کے گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے کمرشل بینکوں سے 1.25 کھرب روپے کا قرض حاصل کیا ہے، جس سے نجی شعبے کے لیے قرض کی دستیابی مزید محدود ہو جائے گی۔ اس قرض پر سود کی ادائیگی کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جائے گا تاہم 11 فیصد ڈسکاؤنٹ ریٹ کی وجہ سے صارفین پر پڑنے والا مالی دباؤ پہلے کے مقابلے میں کم ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمدات پر انتظامی پابندیوں میں نرمی کے باعث تجارتی خسارہ ایک بار پھر بڑھنے لگا ہے تاکہ برآمدی پیداوار کو فروغ دیا جا سکے۔ تاہم پیداواری شعبہ اب بھی خطے کے مقابلے میں بلند پیداواری لاگت  خصوصاً خام مال اور سرمایہ جاتی اخراجات پر شکایت کرتا نظر آتا ہے جو اس کی بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقتی صلاحیت کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود جی ڈی پی کی شرحِ نمو کو ابتدائی تخمینے 2.68 فیصد سے بڑھانے کے لیے مالی سال 2025 کی آخری سہ ماہی میں 5.66 فیصد نمو ظاہر کی گئی جب کہ پہلی سہ ماہی میں یہ شرح 1.8 فیصد، دوسری میں 1.94 فیصد اور تیسری میں 2.79 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ تخمینہ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) کے ان اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتا جو وزارتِ خزانہ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں، جن کے مطابق جولائی تا مئی 2024-25 میں ایل ایس ایم کی شرح نمو منفی 1.21 فیصد رہی (جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں مثبت 0.86 فیصد تھی)، جب کہ جون 2025 میں یہ مزید منفی 0.74 فیصد اندازہ لگائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناقابلِ فہم طور پر اگست 2025 کے اکانومک اپڈیٹ اینڈ آؤٹ لک میں جولائی تا جون 2024-25 کے دوران بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) کی شرحِ نمو 4.14 فیصد ظاہر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے دفاع میں این اے سی بلاشبہ اپنے دائرۂ کار کی شرائط کا حوالہ دے سکتی ہے، جن کے مطابق اکاؤنٹس 3 سال کے عرصے میں حتمی شکل دیے جاتے ہیں، پہلے سال عبوری (مئی میں 6 سے 9 ماہ کے اعداد و شمار پر مبنی)، دوسرے سال نظرثانی شدہ (پورے سال کے اعداد و شمار پر مبنی) اور تیسرے سال حتمی (آڈٹ شدہ اعداد و شمار)۔ اس طرح، آئندہ کسی مرحلے پر ایڈجسٹمنٹ کی گنجائش موجود ہے، تاہم جی ڈی پی شرحِ نمو میں حالیہ اضافے سے سرمایہ کاری کے اعتماد میں اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں یہ امید کی جا سکتی ہے کہ آئی ایم ایف کے تکنیکی معاونت (ٹی اے) پروگرام کی تکمیل کے بعد پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) اور قومی اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کی ساکھ پر مزید کوئی سوال باقی نہیں رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) کی جانب سے بجلی اور توانائی کے شعبے میں 100 فیصد سے زائد نمو اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو میں 2.7 فیصد سے بڑھا کر 3.6 فیصد تک اضافے کے دعوے کو سابق وزیر خزانہ اور ممتاز ماہرِ معیشت ڈاکٹر حفیظ پاشا نے چیلنج کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>این اے سی جی ڈی پی کے عبوری اور نظرثانی شدہ تخمینوں سمیت نیشنل اکاؤنٹس کے اعداد و شمار کی منظوری دیتی ہے اور ان کا اجرا کرتی ہے۔ یہ کمیٹی پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے انتظامی دائرہ کار میں کام کرتی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے لیے نظرثانی شدہ جی ڈی پی شرحِ نمو 3.04 فیصد بتائی گئی ہے، جو پہلے 2.68 فیصد اندازہ لگائی گئی تھی۔ یہ تخمینہ بین الاقوامی اداروں کے تخمینوں سے زیادہ ہم آہنگ ہے، جن میں عالمی بینک کا 2.7 فیصد، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا 2.7 فیصد اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کا 3 فیصد شامل ہیں۔</p>
<p>تاہم یہ واضح نہیں کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے بالآخر اس نظرثانی کو تسلیم کریں گے یا نہیں، کیونکہ اکتوبر 2024 کی دستاویزات میں آئی ایم ایف نے نشاندہی کی تھی کہ معیشت کے اُن شعبوں کے دستیاب بنیادی اعداد و شمار میں نمایاں خامیاں موجود ہیں جو جی ڈی پی کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتے ہیں۔ اسی طرح حکومت کے مالیاتی اعداد و شمار (گورنمنٹ فنانس اسٹیٹسٹکس) کی تفصیلات اور درستگی سے متعلق بھی مسائل موجود ہیں۔ انہی کمزوریوں کے پیشِ نظر آئی ایم ایف نے تکنیکی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو جون 2026 کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>این اے سی نے بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں 121.38 فیصد ترقی کا تخمینہ لگایا ہے جس کی بڑی وجہ مئی تا جون 2025 کے دوران آنے والی شدید گرمی کی لہر کو قرار دیا گیا ہے جیسا کہ پاور ڈویژن کی رپورٹس میں بتایا گیا۔ آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق کیپٹو پاور پلانٹس کی نیشنل گرڈ میں واپسی نے صنعتی شعبے میں بجلی کی طلب میں اضافے میں بھی کردار ادا کیا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مئی میں اپریل کے مقابلے میں ماہانہ 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم یہ بات واضح نہیں کہ پانی کی فراہمی میں بہتری کو کتنی اہمیت دی گئی ہے کیونکہ اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کی جاسکتی۔</p>
<p>ڈاکٹر حفیظ پاشا نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ معاشی سست روی کی ایک بڑی وجہ ایک کھرب روپے کا گردشی قرضہ اور برآمدات میں جمود ہے۔</p>
<p>حکومت نے 2.25 کھرب روپے کے گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے کمرشل بینکوں سے 1.25 کھرب روپے کا قرض حاصل کیا ہے، جس سے نجی شعبے کے لیے قرض کی دستیابی مزید محدود ہو جائے گی۔ اس قرض پر سود کی ادائیگی کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جائے گا تاہم 11 فیصد ڈسکاؤنٹ ریٹ کی وجہ سے صارفین پر پڑنے والا مالی دباؤ پہلے کے مقابلے میں کم ہو گا۔</p>
<p>درآمدات پر انتظامی پابندیوں میں نرمی کے باعث تجارتی خسارہ ایک بار پھر بڑھنے لگا ہے تاکہ برآمدی پیداوار کو فروغ دیا جا سکے۔ تاہم پیداواری شعبہ اب بھی خطے کے مقابلے میں بلند پیداواری لاگت  خصوصاً خام مال اور سرمایہ جاتی اخراجات پر شکایت کرتا نظر آتا ہے جو اس کی بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقتی صلاحیت کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود جی ڈی پی کی شرحِ نمو کو ابتدائی تخمینے 2.68 فیصد سے بڑھانے کے لیے مالی سال 2025 کی آخری سہ ماہی میں 5.66 فیصد نمو ظاہر کی گئی جب کہ پہلی سہ ماہی میں یہ شرح 1.8 فیصد، دوسری میں 1.94 فیصد اور تیسری میں 2.79 فیصد رہی۔</p>
<p>تاہم یہ تخمینہ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) کے ان اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتا جو وزارتِ خزانہ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں، جن کے مطابق جولائی تا مئی 2024-25 میں ایل ایس ایم کی شرح نمو منفی 1.21 فیصد رہی (جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں مثبت 0.86 فیصد تھی)، جب کہ جون 2025 میں یہ مزید منفی 0.74 فیصد اندازہ لگائی گئی ہے۔</p>
<p>ناقابلِ فہم طور پر اگست 2025 کے اکانومک اپڈیٹ اینڈ آؤٹ لک میں جولائی تا جون 2024-25 کے دوران بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) کی شرحِ نمو 4.14 فیصد ظاہر کی گئی ہے۔</p>
<p>اپنے دفاع میں این اے سی بلاشبہ اپنے دائرۂ کار کی شرائط کا حوالہ دے سکتی ہے، جن کے مطابق اکاؤنٹس 3 سال کے عرصے میں حتمی شکل دیے جاتے ہیں، پہلے سال عبوری (مئی میں 6 سے 9 ماہ کے اعداد و شمار پر مبنی)، دوسرے سال نظرثانی شدہ (پورے سال کے اعداد و شمار پر مبنی) اور تیسرے سال حتمی (آڈٹ شدہ اعداد و شمار)۔ اس طرح، آئندہ کسی مرحلے پر ایڈجسٹمنٹ کی گنجائش موجود ہے، تاہم جی ڈی پی شرحِ نمو میں حالیہ اضافے سے سرمایہ کاری کے اعتماد میں اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>آخر میں یہ امید کی جا سکتی ہے کہ آئی ایم ایف کے تکنیکی معاونت (ٹی اے) پروگرام کی تکمیل کے بعد پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) اور قومی اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کی ساکھ پر مزید کوئی سوال باقی نہیں رہے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278678</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Oct 2025 12:10:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/281152040f94d72.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/281152040f94d72.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
