<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:10:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:10:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مانیٹری پالیسی، کیا جمود نیا معمول بن جائیگا؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278675/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک بدستور عقل مندی اور احتیاط کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ آخرکار جب مہنگائی میں کمی رک چکی ہو اور کرنسی کے دباؤ برقرار ہوں، تو شرحِ سود میں کمی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا۔ مالی اصلاحات  کے بغیر مالیاتی پالیسی  اپنی حد کو پہنچ چکی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے نے اپنی ذمہ داری پوری کی۔ اس نے دو سال قبل زرمبادلہ کے ذخائر پر آنے والے بحران کو سنبھالا، سیاسی مداخلت کو  برداشت کیا، اور مالیاتی نظم و ضبط میں کچھ حد تک استحکام بحال کیا۔ اس نے اپنی پالیسی کے تسلسل سے ساکھ حاصل کی ، جب بہت کم ادارے مستقل مزاجی دکھا رہے تھے۔ مگر آگ بجھانے کی حکمتِ عملی  کوئی ترقیاتی منصوبہ نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب فوری خطرہ ٹل جاتا ہے تو وہی اوزار جو نظام کو بچاتے ہیں، اسے بھاری بوجھ بننے لگتے ہیں۔ پاکستان اب اسی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/28081119f17ec87.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/28081119f17ec87.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے نئے مینڈیٹ کے تحت وہ وہ کچھ نہیں کر سکتا جو ماضی میں سیاست دان اس سے کرواتے تھے۔ وہ سستی رقوم کے ذریعے معیشت کو متحرک نہیں کر سکتا، اور نہ ہی عارضی مدد کے نام پر بجٹ خسارے کو سہارا دے سکتا ہے۔ وہ دن گزر چکے۔ لیکن مالیاتی پالیسی کا حصہ اب بھی انہی پرانی عادتوں میں پھنسا ہوا ہے جنہوں نے گزشتہ بحران کو جنم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد اب بھی کرنسی کو اس کی حقیقی قدر تک پہنچنے نہیں دیتا۔ درآمدات پر نگرانی اب بھی جاری ہے، اور استحکام نے سمت  کی جگہ لے لی ہے۔ پالیسی اب کسی ہدف تک پہنچنے کی کوشش نہیں کر رہی، بس ٹھہری رہنے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تب قابلِ دفاع ہوتا اگر معاشی بنیادیں  اس کی تائید کرتیں۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ معاشی حجم  میں اب بھی دو عددی شرح  سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گردش میں موجود کرنسی ایک سال میں تقریباً ون ففتھ بڑھ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/28081122bad7f58.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/28081122bad7f58.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک ڈپازٹس جمود کا شکار ہیں۔ ریزرو منی اب بھی بلند ہے۔ یہ لیکویڈیٹی کی کمی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں سرمایہ موجود ہے لیکن اس کے لیے پیداواری مواقع نہیں۔ اعلیٰ شرحِ سود کے ساتھ ساتھ پھیلا ہوا سرمایہ  اس لیے موجود ہے کہ حقیقی معیشت نہ سخت ہو رہی ہے نہ پھیل رہی ہے۔ وہ بس تیر رہی ہے، بہہ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجہ ایک سطحی توازن  کی صورت میں ہے جو پُرامن تو دکھائی دیتا ہے مگر کچھ حاصل نہیں کرتا۔ مہنگائی قابو میں ہے مگر ختم نہیں ہوئی۔ ترقی سست ہے مگر خطرناک نہیں۔ شرحِ مبادلہ مستحکم ہے مگر محض اس لیے کہ اسے مصنوعی طور پر روکا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی معیشت ہے جو ظاہری استحکام کا مظاہرہ کر رہی ہے مگر حقیقی پیش رفت نہیں کر پا رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/280811252100778.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/280811252100778.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی ساز دعویٰ کر سکتے ہیں کہ مہنگائی ہدف کے اندر ہے اور ذخائر بہتر ہو رہے ہیں۔ مگر اس بیانیے کے پیچھے ایک منجمد قرض نظام چھپا ہوا ہے، اور ایک مالیاتی ڈھانچہ  جو اب بھی اپنے وسائل کے اندر رہنا نہیں سیکھ سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی ہوتا ہے جب نظام کا ایک پہلو اصلاح کرے اور دوسرا انکار کرے۔ اسٹیٹ بینک کو جمود کا محافظ  بنا دیا گیا ہے۔ وہ اعداد و شمار پر نظر رکھ سکتا ہے، لیکویڈیٹی کھڑکیاں  ایڈجسٹ کر سکتا ہے، اور احتیاط کے بیانات جاری کر سکتا ہے۔ مگر وہ نیا راستہ متعین نہیں کر سکتا، جب مالیاتی نظم و ضبط کے اصولوں کی خلاف ورزی دوسری طرف سے جاری ہو۔
وفاقی اور صوبائی حکومتیں اب بھی کنٹرول کے نشے میں ہیں ، کرنسی، قیمتوں اور تاثر پر۔ اسٹیٹ بینک اپنی ہی احتیاط کا قیدی ہے۔ ان دونوں کے درمیان ایک ایسی معیشت بیٹھی ہے جس کی ذمہ داری کوئی لینے کو تیار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بحران نہیں، مگر بحالی بھی نہیں۔ یہ ایک معطل حالت  ہے۔ اعداد و شمار کسی تباہی کا اشارہ نہیں دیتے کیونکہ کنٹرول ابھی باقی ہیں۔ مگر پالیسی فریم ورک نے اپنی سمت کھو دی ہے۔ ہر سہ ماہی پچھلی جیسی لگتی ہے، ہلکی سی ترقی، محتاط امید، اور خود پر فخر کہ ہم نے ایک ایسے بحران سے بچاؤ کیا جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ نظام زندہ رہتا ہے مگر بدلتا نہیں۔ وہ مستحکم ہوتا ہے، سختی کرتا ہے، انتظار کرتا ہے، اور پھر وہی دہراتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل خطرہ یہ ہے کہ یہ سب نیا معمول  بن جائے۔ ایک معیشت اتار چڑھاؤ سے سیکھ لے تو زندہ رہ سکتی ہے، مگر جمود  میں نہیں۔ یہ خیال کہ محض استحکام ہی ہدف ہے، اس بڑے سوال کو بدل چکا ہے کہ اس کے بعد کیا؟
اسٹیٹ بینک اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ اس کا اختیار وہیں ختم ہو جاتا ہے جہاں مالی اصلاحات  شروع ہونی چاہییں۔ جب تک وہ پل تعمیر نہیں ہوتا، شرحِ سود بلند رہے گی، لیکویڈیٹی پھیلی رہے گی، اور معیشت جمود میں پھنسی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی میں توقف  ضروری تھا، مگر اس نے خلا کو بھی بے نقاب کر دیا۔ مالیاتی پالیسی نے اپنا کام کر دیا ہے۔ اب اگلا قدم مالیاتی شعبے کو اٹھانا ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو معیشت اسی دائرے میں گھومتی رہے گی  کاغذ پر مستحکم، حقیقت میں ساکت، اور اگلے جھٹکے کا انتظار کرتی ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک بدستور عقل مندی اور احتیاط کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ آخرکار جب مہنگائی میں کمی رک چکی ہو اور کرنسی کے دباؤ برقرار ہوں، تو شرحِ سود میں کمی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا۔ مالی اصلاحات  کے بغیر مالیاتی پالیسی  اپنی حد کو پہنچ چکی ہے۔</strong></p>
<p>ادارے نے اپنی ذمہ داری پوری کی۔ اس نے دو سال قبل زرمبادلہ کے ذخائر پر آنے والے بحران کو سنبھالا، سیاسی مداخلت کو  برداشت کیا، اور مالیاتی نظم و ضبط میں کچھ حد تک استحکام بحال کیا۔ اس نے اپنی پالیسی کے تسلسل سے ساکھ حاصل کی ، جب بہت کم ادارے مستقل مزاجی دکھا رہے تھے۔ مگر آگ بجھانے کی حکمتِ عملی  کوئی ترقیاتی منصوبہ نہیں ہوتی۔</p>
<p>جب فوری خطرہ ٹل جاتا ہے تو وہی اوزار جو نظام کو بچاتے ہیں، اسے بھاری بوجھ بننے لگتے ہیں۔ پاکستان اب اسی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/28081119f17ec87.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/28081119f17ec87.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>اسٹیٹ بینک کے نئے مینڈیٹ کے تحت وہ وہ کچھ نہیں کر سکتا جو ماضی میں سیاست دان اس سے کرواتے تھے۔ وہ سستی رقوم کے ذریعے معیشت کو متحرک نہیں کر سکتا، اور نہ ہی عارضی مدد کے نام پر بجٹ خسارے کو سہارا دے سکتا ہے۔ وہ دن گزر چکے۔ لیکن مالیاتی پالیسی کا حصہ اب بھی انہی پرانی عادتوں میں پھنسا ہوا ہے جنہوں نے گزشتہ بحران کو جنم دیا تھا۔</p>
<p>اسلام آباد اب بھی کرنسی کو اس کی حقیقی قدر تک پہنچنے نہیں دیتا۔ درآمدات پر نگرانی اب بھی جاری ہے، اور استحکام نے سمت  کی جگہ لے لی ہے۔ پالیسی اب کسی ہدف تک پہنچنے کی کوشش نہیں کر رہی، بس ٹھہری رہنے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p>یہ تب قابلِ دفاع ہوتا اگر معاشی بنیادیں  اس کی تائید کرتیں۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ معاشی حجم  میں اب بھی دو عددی شرح  سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گردش میں موجود کرنسی ایک سال میں تقریباً ون ففتھ بڑھ چکی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/28081122bad7f58.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/28081122bad7f58.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>بینک ڈپازٹس جمود کا شکار ہیں۔ ریزرو منی اب بھی بلند ہے۔ یہ لیکویڈیٹی کی کمی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں سرمایہ موجود ہے لیکن اس کے لیے پیداواری مواقع نہیں۔ اعلیٰ شرحِ سود کے ساتھ ساتھ پھیلا ہوا سرمایہ  اس لیے موجود ہے کہ حقیقی معیشت نہ سخت ہو رہی ہے نہ پھیل رہی ہے۔ وہ بس تیر رہی ہے، بہہ رہی ہے۔</p>
<p>نتیجہ ایک سطحی توازن  کی صورت میں ہے جو پُرامن تو دکھائی دیتا ہے مگر کچھ حاصل نہیں کرتا۔ مہنگائی قابو میں ہے مگر ختم نہیں ہوئی۔ ترقی سست ہے مگر خطرناک نہیں۔ شرحِ مبادلہ مستحکم ہے مگر محض اس لیے کہ اسے مصنوعی طور پر روکا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی معیشت ہے جو ظاہری استحکام کا مظاہرہ کر رہی ہے مگر حقیقی پیش رفت نہیں کر پا رہی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/280811252100778.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/280811252100778.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>پالیسی ساز دعویٰ کر سکتے ہیں کہ مہنگائی ہدف کے اندر ہے اور ذخائر بہتر ہو رہے ہیں۔ مگر اس بیانیے کے پیچھے ایک منجمد قرض نظام چھپا ہوا ہے، اور ایک مالیاتی ڈھانچہ  جو اب بھی اپنے وسائل کے اندر رہنا نہیں سیکھ سکا۔</p>
<p>یہی ہوتا ہے جب نظام کا ایک پہلو اصلاح کرے اور دوسرا انکار کرے۔ اسٹیٹ بینک کو جمود کا محافظ  بنا دیا گیا ہے۔ وہ اعداد و شمار پر نظر رکھ سکتا ہے، لیکویڈیٹی کھڑکیاں  ایڈجسٹ کر سکتا ہے، اور احتیاط کے بیانات جاری کر سکتا ہے۔ مگر وہ نیا راستہ متعین نہیں کر سکتا، جب مالیاتی نظم و ضبط کے اصولوں کی خلاف ورزی دوسری طرف سے جاری ہو۔
وفاقی اور صوبائی حکومتیں اب بھی کنٹرول کے نشے میں ہیں ، کرنسی، قیمتوں اور تاثر پر۔ اسٹیٹ بینک اپنی ہی احتیاط کا قیدی ہے۔ ان دونوں کے درمیان ایک ایسی معیشت بیٹھی ہے جس کی ذمہ داری کوئی لینے کو تیار نہیں۔</p>
<p>یہ بحران نہیں، مگر بحالی بھی نہیں۔ یہ ایک معطل حالت  ہے۔ اعداد و شمار کسی تباہی کا اشارہ نہیں دیتے کیونکہ کنٹرول ابھی باقی ہیں۔ مگر پالیسی فریم ورک نے اپنی سمت کھو دی ہے۔ ہر سہ ماہی پچھلی جیسی لگتی ہے، ہلکی سی ترقی، محتاط امید، اور خود پر فخر کہ ہم نے ایک ایسے بحران سے بچاؤ کیا جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ نظام زندہ رہتا ہے مگر بدلتا نہیں۔ وہ مستحکم ہوتا ہے، سختی کرتا ہے، انتظار کرتا ہے، اور پھر وہی دہراتا ہے۔</p>
<p>اصل خطرہ یہ ہے کہ یہ سب نیا معمول  بن جائے۔ ایک معیشت اتار چڑھاؤ سے سیکھ لے تو زندہ رہ سکتی ہے، مگر جمود  میں نہیں۔ یہ خیال کہ محض استحکام ہی ہدف ہے، اس بڑے سوال کو بدل چکا ہے کہ اس کے بعد کیا؟
اسٹیٹ بینک اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ اس کا اختیار وہیں ختم ہو جاتا ہے جہاں مالی اصلاحات  شروع ہونی چاہییں۔ جب تک وہ پل تعمیر نہیں ہوتا، شرحِ سود بلند رہے گی، لیکویڈیٹی پھیلی رہے گی، اور معیشت جمود میں پھنسی رہے گی۔</p>
<p>پالیسی میں توقف  ضروری تھا، مگر اس نے خلا کو بھی بے نقاب کر دیا۔ مالیاتی پالیسی نے اپنا کام کر دیا ہے۔ اب اگلا قدم مالیاتی شعبے کو اٹھانا ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو معیشت اسی دائرے میں گھومتی رہے گی  کاغذ پر مستحکم، حقیقت میں ساکت، اور اگلے جھٹکے کا انتظار کرتی ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278675</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Oct 2025 11:30:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/2811241922c62bf.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/2811241922c62bf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
