<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کی پاور ڈویژن کو نیپرا کے ساتھ مل کر نیٹ میٹرنگ کے نئے ٹیرف کے جائزے کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278668/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیپرا کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں نیٹ میٹرنگ کے نظرثانی شدہ بائے بیک ریٹس سے متعلق پاور ڈویژن کی جانب سے جمع کرائی گئی سمری پر کئی ماہ کی تاخیر کے بعد فوری کارروائی کی ہدایت جاری کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے ساتھ مشاورت میں نئے مجوزہ ٹیرف کی تصدیق کرنے کی ہدایت کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق یہ ہدایت وزیراعظم آفس میں 22 اکتوبر 2025 کو ہونے والے اجلاس کے دوران دی گئی، جس میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شریک تھے۔ ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ پاور ڈویژن نیپرا کے ساتھ مل کر بائے بیک ریٹس کے اثرات کا جائزہ لے گا تاکہ عام صارفین پر بوجھ کے حوالے سے حتمی تجاویز تیار کی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے تجویز دی ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے بائے بیک ریٹ کو موجودہ 22 روپے فی یونٹ سے کم کر کے تقریباً 11.30 روپے فی یونٹ کیا جائے کیونکہ موجودہ نرخ دیگر صارفین پر مالی دباؤ میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نیٹ میٹرنگ رولز 2015 کے تحت طے پانے والے تمام معاہدوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ آیا نرخوں میں تبدیلی قانونی طور پر ممکن ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو ہدایت دی کہ مستقبل کے صارفین کے لیے مجوزہ نیٹ بلنگ فریم ورک کے مطابق نئے اسٹینڈرڈ معاہدے تیار کیے جائیں۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات کو حکومت کے فیصلے سے متعلق ایک جامع اور مربوط بیانیہ تیار کرنے کا ٹاسک بھی دیا گیا ہے تاکہ نئی پالیسی کو عوامی سطح پر بہتر انداز میں پیش کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام میں وہ صارفین جو اپنی بجلی پیدا کر کے گرڈ میں شامل کرتے ہیں، فکسڈ چارجز کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہیں، جس کے باعث صلاحیت ادائیگیوں  میں اضافہ، بجلی کی فروخت میں کمی اور فکسڈ اخراجات کی کم وصولی نے گرڈ صارفین کے ٹیرف میں اضافے کو جنم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق مالی سال 2024 میں نیٹ میٹرنگ کی بڑھتی صلاحیت سے 3.2 ارب کلو واٹ گھنٹے کی فروخت میں کمی واقع ہوئی جس سے دیگر صارفین پر 101 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا اور ٹیرف میں اوسطاً 0.9 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو 2034 تک فروخت میں 18.8 ارب کلو واٹ گھنٹے کمی اور تقریباً 545 ارب روپے اضافی بوجھ کے امکانات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سیکرٹری پاور ڈاکٹر فخر عالم عرفان نے حالیہ پارلیمانی اجلاس میں نشاندہی کی کہ دن کے اوقات میں چھتوں پر نصب سولر سسٹمز کی زیادہ پیداوار بعض اوقات نیشنل گرڈ پر دباؤ کا باعث بنتی ہے، اس لیے نظام میں توازن برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیپرا کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں نیٹ میٹرنگ کے نظرثانی شدہ بائے بیک ریٹس سے متعلق پاور ڈویژن کی جانب سے جمع کرائی گئی سمری پر کئی ماہ کی تاخیر کے بعد فوری کارروائی کی ہدایت جاری کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے ساتھ مشاورت میں نئے مجوزہ ٹیرف کی تصدیق کرنے کی ہدایت کی ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق یہ ہدایت وزیراعظم آفس میں 22 اکتوبر 2025 کو ہونے والے اجلاس کے دوران دی گئی، جس میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شریک تھے۔ ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ پاور ڈویژن نیپرا کے ساتھ مل کر بائے بیک ریٹس کے اثرات کا جائزہ لے گا تاکہ عام صارفین پر بوجھ کے حوالے سے حتمی تجاویز تیار کی جا سکیں۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے تجویز دی ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے بائے بیک ریٹ کو موجودہ 22 روپے فی یونٹ سے کم کر کے تقریباً 11.30 روپے فی یونٹ کیا جائے کیونکہ موجودہ نرخ دیگر صارفین پر مالی دباؤ میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نیٹ میٹرنگ رولز 2015 کے تحت طے پانے والے تمام معاہدوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ آیا نرخوں میں تبدیلی قانونی طور پر ممکن ہے یا نہیں۔</p>
<p>مزید برآں، وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو ہدایت دی کہ مستقبل کے صارفین کے لیے مجوزہ نیٹ بلنگ فریم ورک کے مطابق نئے اسٹینڈرڈ معاہدے تیار کیے جائیں۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات کو حکومت کے فیصلے سے متعلق ایک جامع اور مربوط بیانیہ تیار کرنے کا ٹاسک بھی دیا گیا ہے تاکہ نئی پالیسی کو عوامی سطح پر بہتر انداز میں پیش کیا جا سکے۔</p>
<p>موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام میں وہ صارفین جو اپنی بجلی پیدا کر کے گرڈ میں شامل کرتے ہیں، فکسڈ چارجز کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہیں، جس کے باعث صلاحیت ادائیگیوں  میں اضافہ، بجلی کی فروخت میں کمی اور فکسڈ اخراجات کی کم وصولی نے گرڈ صارفین کے ٹیرف میں اضافے کو جنم دیا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق مالی سال 2024 میں نیٹ میٹرنگ کی بڑھتی صلاحیت سے 3.2 ارب کلو واٹ گھنٹے کی فروخت میں کمی واقع ہوئی جس سے دیگر صارفین پر 101 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا اور ٹیرف میں اوسطاً 0.9 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو 2034 تک فروخت میں 18.8 ارب کلو واٹ گھنٹے کمی اور تقریباً 545 ارب روپے اضافی بوجھ کے امکانات ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب سیکرٹری پاور ڈاکٹر فخر عالم عرفان نے حالیہ پارلیمانی اجلاس میں نشاندہی کی کہ دن کے اوقات میں چھتوں پر نصب سولر سسٹمز کی زیادہ پیداوار بعض اوقات نیشنل گرڈ پر دباؤ کا باعث بنتی ہے، اس لیے نظام میں توازن برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278668</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Oct 2025 10:06:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/28100501dddc2e0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/28100501dddc2e0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
