<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دسمبر تک متوقع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278666/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کے لیے اگلی 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دسمبر 2025 تک بورڈ اجلاس میں دیے جانے کی توقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد کے مطابق، پاکستان نے آئی ایم ایف جائزے کے لیے درکار تمام کارکردگی کے معیار پر کامیابی سے عملدرآمد کیا ہے، جس سے جاری پروگرام کے تحت فنڈز کے اجرا کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق، گورنر اسٹیٹ بینک نے یہ بات پیر کو مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس کے بعد منعقدہ اینالسٹ بریفنگ میں بتائی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2026 کے لیے 10 ارب ڈالر کے قابلِ واپسی قرضوں میں سے 3.1 ارب ڈالر پہلے ہی ادا کیے جا چکے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق تمام اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں اور آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس دسمبر 2025 تک متوقع ہے، جس کے بعد پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کی حد میں رہے گا۔ ترسیلاتِ زر کے حوالے سے بھی بہتری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، اور مالی سال 2026 میں ترسیلات 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو گزشتہ سال کے 38 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی زرمبادلہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ تین برسوں میں 20 ارب ڈالر سے زائد کی خریداری کی ہے، اور ادائیگیوں کی ضروریات پوری کرنے کے بعد یہ عمل جاری ہے۔ انسائٹ ریسرچ کے مطابق، زرمبادلہ کے ذخائر کا ہدف بڑھا کر 17.8 ارب ڈالر کر دیا گیا ہے، جو پہلے 17.5 ارب ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر جمیل احمد نے کہا کہ مرکزی بینک بیرونی قرضوں کی ادائیگی بروقت جاری رکھے گا۔ اسٹیٹ بینک اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کے درآمدی اعداد و شمار میں فرق مختلف بنیادی ڈیٹا ذرائع کے استعمال کے باعث ہے، جو وقت کے ساتھ معمول پر آنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا گیا کہ درآمدات میں مقداری اضافہ پہلے ہی درآمدی بل میں جذب ہو چکا ہے، تاہم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کسی غیر متوقع اضافے سے درآمدی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ مارکیٹ کی توقعات کے مطابق، ایم پی سی نے پالیسی ریٹ 11 فیصد پر برقرار رکھا ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ اگرچہ معاشی اشاریوں میں بہتری آئی ہے، لیکن عالمی قیمتوں، تجارتی کشیدگی اور ملکی سپلائی چین کے مسائل معاشی منظرنامے پر اثر ڈال سکتے ہیں، اس لیے پالیسی ریٹ کو موجودہ سطح پر برقرار رکھا گیا ہے تاکہ مجموعی قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کے لیے اگلی 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دسمبر 2025 تک بورڈ اجلاس میں دیے جانے کی توقع ہے۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد کے مطابق، پاکستان نے آئی ایم ایف جائزے کے لیے درکار تمام کارکردگی کے معیار پر کامیابی سے عملدرآمد کیا ہے، جس سے جاری پروگرام کے تحت فنڈز کے اجرا کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق، گورنر اسٹیٹ بینک نے یہ بات پیر کو مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس کے بعد منعقدہ اینالسٹ بریفنگ میں بتائی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2026 کے لیے 10 ارب ڈالر کے قابلِ واپسی قرضوں میں سے 3.1 ارب ڈالر پہلے ہی ادا کیے جا چکے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق تمام اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں اور آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس دسمبر 2025 تک متوقع ہے، جس کے بعد پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط ملے گی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کی حد میں رہے گا۔ ترسیلاتِ زر کے حوالے سے بھی بہتری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، اور مالی سال 2026 میں ترسیلات 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو گزشتہ سال کے 38 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔</p>
<p>غیر ملکی زرمبادلہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ تین برسوں میں 20 ارب ڈالر سے زائد کی خریداری کی ہے، اور ادائیگیوں کی ضروریات پوری کرنے کے بعد یہ عمل جاری ہے۔ انسائٹ ریسرچ کے مطابق، زرمبادلہ کے ذخائر کا ہدف بڑھا کر 17.8 ارب ڈالر کر دیا گیا ہے، جو پہلے 17.5 ارب ڈالر تھا۔</p>
<p>گورنر جمیل احمد نے کہا کہ مرکزی بینک بیرونی قرضوں کی ادائیگی بروقت جاری رکھے گا۔ اسٹیٹ بینک اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کے درآمدی اعداد و شمار میں فرق مختلف بنیادی ڈیٹا ذرائع کے استعمال کے باعث ہے، جو وقت کے ساتھ معمول پر آنے کی توقع ہے۔</p>
<p>مزید بتایا گیا کہ درآمدات میں مقداری اضافہ پہلے ہی درآمدی بل میں جذب ہو چکا ہے، تاہم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کسی غیر متوقع اضافے سے درآمدی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ مارکیٹ کی توقعات کے مطابق، ایم پی سی نے پالیسی ریٹ 11 فیصد پر برقرار رکھا ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ اگرچہ معاشی اشاریوں میں بہتری آئی ہے، لیکن عالمی قیمتوں، تجارتی کشیدگی اور ملکی سپلائی چین کے مسائل معاشی منظرنامے پر اثر ڈال سکتے ہیں، اس لیے پالیسی ریٹ کو موجودہ سطح پر برقرار رکھا گیا ہے تاکہ مجموعی قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278666</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Oct 2025 09:46:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/28094500aaaab8a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/28094500aaaab8a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
