<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کینیڈین وزیرِاعظم امریکا سے مذاکرات کی بحالی کے لیے تیار، صدر شی جن پنگ سے ملاقات متوقع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278653/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کینیڈین وزیرِاعظم مارک کارنی نے پیر کے روز کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کے لیے تیار ہیں ، یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اس سے قبل واشنگٹن نے کینیڈین مصنوعات پر مزید 10 فیصد اضافی محصولات عائد کر دیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارک کارنی نے رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم امریکا کے ساتھ (مذاکرات کی میز پر ) بیٹھنے کے لیے تیار ہیں، میں خود صدر سے اور میرے رفقا ان کے ہم منصبوں سے بات کریں گے جب امریکا بات چیت کے لیے تیار ہوگا۔‘ یہ بیان ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کے ساتھ تمام تجارتی مذاکرات ختم کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ ٹرمپ نے اس فیصلے کی وجہ  ایک جعلی اشتہاری مہم کو قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارنی ملائیشیا میں ایک علاقائی سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے، جس میں ٹرمپ بھی شریک ہوئے، تاہم وہ پیر کی صبح جاپان روانہ ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارک کارنی نے بتایا کہ کوالالمپور میں ان کی امریکی صدر سے کوئی براہِ راست ملاقات یا رابطہ نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کارنی نے مزید کہا کہ ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات پر اتفاق ہو گیا ہے، کیونکہ دونوں رہنما بدھ کے روز جنوبی کوریا میں ہونے والی ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پیک) سربراہی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارنی کے مطابق شی کے ساتھ گفتگو میں تجارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ عالمی نظام کی ارتقائی سمت پر بھی بات چیت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ٹرمپ کے بھی اسی اے پیک عشائیے میں شرکت کی توقع ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ ان کی کارنی سے ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی جانب سے مختلف عالمی شعبوں پر عائد محصولات، بالخصوص اسٹیل، ایلومینیم اور آٹوموبائلز پر ،کینیڈا کی معیشت پر شدید اثر ڈال چکے ہیں، جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع کم ہوئے اور کاروبار مالی دباؤ کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارنی نے امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ہم نے اپنے تجارتی تعلقات میں بہتری کے لیے ایک ضمنی معاہدے پر خاصی پیش رفت کی تھی، خصوصاً اسٹیل، ایلومینیم اور توانائی سے متعلق شعبوں میں نمایاں پیش رفت حاصل ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو کی جانب سے جاری کردہ ایک اشتہار میں امریکا کے سابق صدر رونالڈ ریگن کے 1987 میں کیے گئے ریڈیو خطاب کے اقتباسات استعمال کیے گئے، جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ درآمدات پر زیادہ محصولات امریکا کی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اشتہار میں ریگن کا یہ قول نمایاں طور پر شامل تھا کہ زیادہ محصولات بالآخر غیر ملکی ممالک کی جوابی کارروائی اور شدید تجارتی جنگوں کا باعث بنتے ہیں، یہ اقتباس رونالڈ ریگن صدارتی لائبریری کی ویب سائٹ پر موجود تقریر کے متن سے مطابقت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رونالڈ ریگن فاؤنڈیشن نے جمعرات کو پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ اونٹاریو حکومت نے منتخب آڈیو اور ویڈیو کا استعمال کیا ہے اور وہ اپنے قانونی اختیارات پر غور کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اونٹاریو حکومت نے پیر کے روز متنازع اینٹی ٹیریف اشتہار ہٹانے کا اعلان کیا تاکہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کینیڈین وزیرِاعظم مارک کارنی نے پیر کے روز کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کے لیے تیار ہیں ، یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اس سے قبل واشنگٹن نے کینیڈین مصنوعات پر مزید 10 فیصد اضافی محصولات عائد کر دیے۔</strong></p>
<p>مارک کارنی نے رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم امریکا کے ساتھ (مذاکرات کی میز پر ) بیٹھنے کے لیے تیار ہیں، میں خود صدر سے اور میرے رفقا ان کے ہم منصبوں سے بات کریں گے جب امریکا بات چیت کے لیے تیار ہوگا۔‘ یہ بیان ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کے ساتھ تمام تجارتی مذاکرات ختم کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ ٹرمپ نے اس فیصلے کی وجہ  ایک جعلی اشتہاری مہم کو قرار دیا ہے۔</p>
<p>کارنی ملائیشیا میں ایک علاقائی سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے، جس میں ٹرمپ بھی شریک ہوئے، تاہم وہ پیر کی صبح جاپان روانہ ہو گئے۔</p>
<p>مارک کارنی نے بتایا کہ کوالالمپور میں ان کی امریکی صدر سے کوئی براہِ راست ملاقات یا رابطہ نہیں ہوا۔</p>
<p>تاہم کارنی نے مزید کہا کہ ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات پر اتفاق ہو گیا ہے، کیونکہ دونوں رہنما بدھ کے روز جنوبی کوریا میں ہونے والی ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پیک) سربراہی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔</p>
<p>کارنی کے مطابق شی کے ساتھ گفتگو میں تجارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ عالمی نظام کی ارتقائی سمت پر بھی بات چیت ہوگی۔</p>
<p>امریکی صدر ٹرمپ کے بھی اسی اے پیک عشائیے میں شرکت کی توقع ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ ان کی کارنی سے ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں۔</p>
<p>ٹرمپ کی جانب سے مختلف عالمی شعبوں پر عائد محصولات، بالخصوص اسٹیل، ایلومینیم اور آٹوموبائلز پر ،کینیڈا کی معیشت پر شدید اثر ڈال چکے ہیں، جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع کم ہوئے اور کاروبار مالی دباؤ کا شکار ہیں۔</p>
<p>کارنی نے امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ہم نے اپنے تجارتی تعلقات میں بہتری کے لیے ایک ضمنی معاہدے پر خاصی پیش رفت کی تھی، خصوصاً اسٹیل، ایلومینیم اور توانائی سے متعلق شعبوں میں نمایاں پیش رفت حاصل ہوئی تھی۔</p>
<p>کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو کی جانب سے جاری کردہ ایک اشتہار میں امریکا کے سابق صدر رونالڈ ریگن کے 1987 میں کیے گئے ریڈیو خطاب کے اقتباسات استعمال کیے گئے، جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ درآمدات پر زیادہ محصولات امریکا کی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔</p>
<p>اشتہار میں ریگن کا یہ قول نمایاں طور پر شامل تھا کہ زیادہ محصولات بالآخر غیر ملکی ممالک کی جوابی کارروائی اور شدید تجارتی جنگوں کا باعث بنتے ہیں، یہ اقتباس رونالڈ ریگن صدارتی لائبریری کی ویب سائٹ پر موجود تقریر کے متن سے مطابقت رکھتا ہے۔</p>
<p>رونالڈ ریگن فاؤنڈیشن نے جمعرات کو پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ اونٹاریو حکومت نے منتخب آڈیو اور ویڈیو کا استعمال کیا ہے اور وہ اپنے قانونی اختیارات پر غور کر رہی ہے۔</p>
<p>اونٹاریو حکومت نے پیر کے روز متنازع اینٹی ٹیریف اشتہار ہٹانے کا اعلان کیا تاکہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278653</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Oct 2025 17:36:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/27171857ce6d6b0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/27171857ce6d6b0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
