<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>متضاد معاشی بیانیہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278650/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معیشت کی حالت پر عوامی رائے اور حکومت کے حامی حلقوں کے درمیان ایک نمایاں طور پر مختلف بیانیہ اب واضح طور پر سامنے آچکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ اس اختلاف کی وجوہات کیا ہیں تاکہ دونوں بیانیوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جا سکے، اس مقصد کے ساتھ کہ جاری سخت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے وسیع عوامی حمایت یقینی بنائی جائے اور مستقبل میں اُس معاشی و سماجی بےچینی سے بچا جا سکے جو حالیہ برسوں میں تین جنوبی ایشیائی ممالک، سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال، میں سیاسی انتشار کا باعث بنی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی توجہ زیادہ تر ادائیگیوں کے توازن سے متعلق چکروی مسائل پر مرکوز ہے۔ آئی ایم ایف کی 10 اکتوبر 2024 کی اسٹاف لیول رپورٹ کے مطابق، وقت کے ساتھ معاشی تغیرات میں اضافے اور پاکستان کی معاشی پالیسیوں اور اس کے معاشی عروج و زوال کے درمیان “گہری وابستگی” کے باعث ہر آنے والی حکومت کو آئی ایم ایف سے قرض لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ ملک اس وقت اپنے چوبیسویں قرض پروگرام پر ہے، جس کے ساتھ سخت اور سیاسی طور پر مشکل شرائط منسلک ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ شرائط مزید سخت اور فوری نوعیت کی ہو گئی ہیں کیونکہ ہر حکومت جیسے ہی زرمبادلہ کے ذخائر اس سطح پر پہنچتے ہیں جو روپے کی اندرونی و بیرونی قدر کے استحکام کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے، اصلاحات کا سلسلہ ترک کر دیتی ہے۔ حالانکہ 10 اکتوبر 2025 تک زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب 44 کروڑ ڈالر کی بلند ترین سطح پر ہیں، مگر یہ مکمل طور پر غیر ملکی قرضوں سے حاصل شدہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادائیگیوں کا توازن پاکستان اور دیگر ممالک کے شہریوں کے درمیان تمام معاشی لین دین کا ریکارڈ ہوتا ہے، جو تین کھاتوں پر مشتمل ہے: کرنٹ اکاؤنٹ (تجارتی توازن)، فنانشل اکاؤنٹ (سرمایہ کاری) اور کیپٹل اکاؤنٹ (منتقلیاں، بشمول قرضے اور ان کی واپسی جب واجب الادا ہو)۔ گو کہ یہ تفصیلات عام عوام کے لیے کم دلچسپی کی حامل ہیں، لیکن ان کے اثرات براہِ راست عوامی فلاح و بہبود پر پڑتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا دعویٰ ہے کہ ادائیگیوں کے توازن میں استحکام حاصل کر لیا گیا ہے۔ تجارتی خسارہ کم ہوا ہے (اگرچہ درآمدی پابندیوں میں نرمی کے بعد یہ دوبارہ بڑھنے لگا ہے تاکہ اُن مقامی پیداواری شعبوں کو سہولت دی جا سکے جو خام مال اور نیم تیار شدہ اشیا کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں)، مالیاتی کھاتے میں بہتری آئی ہے (حکومت ملک میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کے منافع منتقل کر رہی ہے، اگرچہ چینی بجلی گھروں کے مالکان تاحال اپنے واجبات کی عدم ادائیگی پر شاکی ہیں، جن کا تخمینہ اگست 2025 میں تقریباً 500 ارب روپے سے کچھ کم لگایا گیا، اور حکومت 200 ارب روپے سے زائد کے تاخیر جرمانے کی معافی مانگ رہی ہے)، اور آخر میں، کیپٹل اکاؤنٹ میں بہتری آئی ہے کیونکہ اب خالص رقوم کے بہاؤ میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ غیر ملکی قرضوں تک نسبتاً آسان رسائی ہے۔ یہ بہتری جغرافیائی سیاسی حالات میں تبدیلی اور ملکی کریڈٹ ریٹنگ میں معمولی بہتری سے منسلک کی جا رہی ہے، اگرچہ پاکستان اب بھی سرمایہ کاری کے درجے سے نیچے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف عوام کس اعداد و شمار کو دیکھ رہی ہے؟ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے جاری کردہ دو بڑے معاشی اشاریے، مہنگائی اور بے روزگاری، عام آدمی کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ دونوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے، تاہم ملک بھر میں کیے گئے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ عوام ان اعداد و شمار کو اپنی معاشی حقیقت کے طور پر تسلیم نہیں کر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔ اول، ہر گھرانے کا اپنا ایک مخصوص طرزِ خرچ ہوتا ہے جو اس کے خاندانی تقاضوں پر مبنی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، دو اسکول جانے والے بچوں والے خاندان کو تعلیم پر زیادہ ماہانہ اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں، جو پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے تعلیم کو دی گئی اوسط شرحِ وزن میں مناسب طور پر جھلکتا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، نجی شعبے سے وابستہ افراد، جو معیشت میں مجموعی طور پر 93 فیصد روزگار رکھتے ہیں، کی آمدن گزشتہ پانچ سے چھ سال میں مہنگائی کے تناسب سے نہیں بڑھی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مجموعی پیداوار میں اضافہ محدود رہا ہے، جب کہ نمو زیادہ تر تھوک و خوردہ تجارت کے پھیلاؤ سے ہوئی ہے، جو دراصل کم ذخائر اور اسمگل شدہ اشیاء پر مبنی ہے، نہ کہ حقیقی پیداوار میں اضافے پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور سوم، اعداد و شمار کی ساکھ مشکوک سمجھی جاتی ہے کیونکہ وقتاً فوقتاً ڈیٹا میں رد و بدل کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، خصوصاً مہنگائی اور پیداوار کے حوالے سے، تاکہ ایسا تاثر دیا جا سکے کہ اقتصادی ٹیم کی کارکردگی بہتر ہے حالانکہ عوامی سطح پر اس کا کوئی حقیقی احساس نہیں پایا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنے جاری سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام میں بالواسطہ طور پر اس نکتۂ نظر کی توثیق کی۔ اس نے 10 اکتوبر 2024 کی دستاویزات میں کہا کہ “فنڈ کو فراہم کردہ اعداد و شمار عمومی طور پر زیادہ تر شعبوں میں نگرانی کے لیے مناسب ہیں، تاہم قومی حسابات (این اے) اور حکومتی مالیاتی شماریات (جی ایف ایس) میں ایسی کمزوریاں موجود ہیں جو نگرانی کے عمل کو کسی حد تک متاثر کرتی ہیں۔ جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے کے مساوی شعبوں سے متعلق بنیادی اعداد و شمار میں نمایاں خامیاں برقرار ہیں، جب کہ جی ایف ایس کی تفصیل اور قابلِ اعتماد ہونے سے متعلق بھی مسائل موجود ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے مطابق پاکستانی حکام ان کمزوریوں کو دور کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں اور اس ضمن میں فنڈ کی تکنیکی معاونت (ٹی اے) حاصل ہے، جو جی ایف ایس اور ایک نئے پیداواری قیمت اشاریے (پی پی آئی) پر مبنی ہے۔ یہ تکنیکی معاونت یکم جولائی 2025 سے مؤثر ہوئی ہے اور جون 2026 کے اختتام تک مکمل ہونے کا منصوبہ ہے، اس لیے اس کے کامیاب یا ناکام ہونے کا فیصلہ ابھی قبل از وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ امر قابلِ غور ہے کہ تکنیکی معاونت (ٹی اے) سے متعلق سفارشات پر مؤثر نتائج کے لیے مکمل عمل درآمد ضروری ہوتا ہے، اور یہ ہمیشہ نہیں ہوتا۔ اس کی ایک نمایاں مثال ایشیائی ترقیاتی بینک کا ’’انصاف تک رسائی پروگرام‘‘ ہے، جو واضح طور پر ناکامی سے دوچار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;غیر رسمی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معیشت کی بدانتظامی پر عوامی بےچینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) دونوں اس رجحان سے بخوبی آگاہ ہیں، جیسا کہ عالمی بینک کے اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 44.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو درمیانی آمدنی والے ممالک کے معیار (یعنی یومیہ 4.2 ڈالر) کے مطابق ہے، نہ کہ کم آمدنی والے ممالک کے معیار (یومیہ 3.20 ڈالر) کے۔ اسی پس منظر میں حکومت اور آئی ایم ایف نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاہم ایک شرط کے ساتھ: یہ اقدام صرف اُس صورت میں ممکن ہے جب مالی گنجائش موجود ہو۔ فی الحال یہ گنجائش نہایت محدود ہے، کیونکہ حکومت اخراجات میں کمی کے بجائے محصولات میں اضافے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق درج ذیل حکومتی پالیسیوں پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے:
(الف) بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار مجموعی محصولات کا 75 تا 80 فیصد تک برقرار ہے، جس کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب طبقے پر زیادہ پڑتا ہے، لہٰذا ٹیکس وصولی کو ’’ادائیگی کی صلاحیت‘‘ کے اصول پر منتقل کرنا ناگزیر ہے؛
(ب) موجودہ اخراجات میں کم از کم ڈیڑھ کھرب روپے کی کمی کی جائے تاکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بالواسطہ سے براہِ راست ٹیکس نظام کی منتقلی کے لیے مہلت مل سکے؛(د) سماجی شعبے کے پروگراموں، جن میں سیلاب امداد، بجلی اور خوراک پر سبسڈیز شامل ہیں،کو آئی ایم ایف کی سفارش کے مطابق بی آئی ایس پی میں ضم کرنے کی تجویز ہے، تاہم صوبائی حکومتیں (زیادہ تر سیاسی وجوہات کی بنا پر) اس کی مزاحمت کر رہی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ان کے تحفظات کو فعال طور پر حل کیا جائے؛ اور (ہ) بی آئی ایس پی میں بیروزگار مردوں کو شامل نہیں کیا گیا، جب کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے حالیہ پہلے ڈیجیٹل گھریلو سروے کے مطابق ملک میں بیروزگاری کی شرح 22 فیصد تک پہنچ چکی ہے، اس لیے مستحق گھرانے کی نئی تعریف وضع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معیشت کی حالت پر عوامی رائے اور حکومت کے حامی حلقوں کے درمیان ایک نمایاں طور پر مختلف بیانیہ اب واضح طور پر سامنے آچکا ہے۔</strong></p>
<p>یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ اس اختلاف کی وجوہات کیا ہیں تاکہ دونوں بیانیوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جا سکے، اس مقصد کے ساتھ کہ جاری سخت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے وسیع عوامی حمایت یقینی بنائی جائے اور مستقبل میں اُس معاشی و سماجی بےچینی سے بچا جا سکے جو حالیہ برسوں میں تین جنوبی ایشیائی ممالک، سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال، میں سیاسی انتشار کا باعث بنی۔</p>
<p>حکومت کی توجہ زیادہ تر ادائیگیوں کے توازن سے متعلق چکروی مسائل پر مرکوز ہے۔ آئی ایم ایف کی 10 اکتوبر 2024 کی اسٹاف لیول رپورٹ کے مطابق، وقت کے ساتھ معاشی تغیرات میں اضافے اور پاکستان کی معاشی پالیسیوں اور اس کے معاشی عروج و زوال کے درمیان “گہری وابستگی” کے باعث ہر آنے والی حکومت کو آئی ایم ایف سے قرض لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ ملک اس وقت اپنے چوبیسویں قرض پروگرام پر ہے، جس کے ساتھ سخت اور سیاسی طور پر مشکل شرائط منسلک ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ شرائط مزید سخت اور فوری نوعیت کی ہو گئی ہیں کیونکہ ہر حکومت جیسے ہی زرمبادلہ کے ذخائر اس سطح پر پہنچتے ہیں جو روپے کی اندرونی و بیرونی قدر کے استحکام کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے، اصلاحات کا سلسلہ ترک کر دیتی ہے۔ حالانکہ 10 اکتوبر 2025 تک زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب 44 کروڑ ڈالر کی بلند ترین سطح پر ہیں، مگر یہ مکمل طور پر غیر ملکی قرضوں سے حاصل شدہ ہیں۔</p>
<p>ادائیگیوں کا توازن پاکستان اور دیگر ممالک کے شہریوں کے درمیان تمام معاشی لین دین کا ریکارڈ ہوتا ہے، جو تین کھاتوں پر مشتمل ہے: کرنٹ اکاؤنٹ (تجارتی توازن)، فنانشل اکاؤنٹ (سرمایہ کاری) اور کیپٹل اکاؤنٹ (منتقلیاں، بشمول قرضے اور ان کی واپسی جب واجب الادا ہو)۔ گو کہ یہ تفصیلات عام عوام کے لیے کم دلچسپی کی حامل ہیں، لیکن ان کے اثرات براہِ راست عوامی فلاح و بہبود پر پڑتے ہیں۔</p>
<p>حکومت کا دعویٰ ہے کہ ادائیگیوں کے توازن میں استحکام حاصل کر لیا گیا ہے۔ تجارتی خسارہ کم ہوا ہے (اگرچہ درآمدی پابندیوں میں نرمی کے بعد یہ دوبارہ بڑھنے لگا ہے تاکہ اُن مقامی پیداواری شعبوں کو سہولت دی جا سکے جو خام مال اور نیم تیار شدہ اشیا کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں)، مالیاتی کھاتے میں بہتری آئی ہے (حکومت ملک میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کے منافع منتقل کر رہی ہے، اگرچہ چینی بجلی گھروں کے مالکان تاحال اپنے واجبات کی عدم ادائیگی پر شاکی ہیں، جن کا تخمینہ اگست 2025 میں تقریباً 500 ارب روپے سے کچھ کم لگایا گیا، اور حکومت 200 ارب روپے سے زائد کے تاخیر جرمانے کی معافی مانگ رہی ہے)، اور آخر میں، کیپٹل اکاؤنٹ میں بہتری آئی ہے کیونکہ اب خالص رقوم کے بہاؤ میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ غیر ملکی قرضوں تک نسبتاً آسان رسائی ہے۔ یہ بہتری جغرافیائی سیاسی حالات میں تبدیلی اور ملکی کریڈٹ ریٹنگ میں معمولی بہتری سے منسلک کی جا رہی ہے، اگرچہ پاکستان اب بھی سرمایہ کاری کے درجے سے نیچے ہے۔</p>
<p>دوسری طرف عوام کس اعداد و شمار کو دیکھ رہی ہے؟ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے جاری کردہ دو بڑے معاشی اشاریے، مہنگائی اور بے روزگاری، عام آدمی کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ دونوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے، تاہم ملک بھر میں کیے گئے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ عوام ان اعداد و شمار کو اپنی معاشی حقیقت کے طور پر تسلیم نہیں کر رہے۔</p>
<p>اس کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔ اول، ہر گھرانے کا اپنا ایک مخصوص طرزِ خرچ ہوتا ہے جو اس کے خاندانی تقاضوں پر مبنی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، دو اسکول جانے والے بچوں والے خاندان کو تعلیم پر زیادہ ماہانہ اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں، جو پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے تعلیم کو دی گئی اوسط شرحِ وزن میں مناسب طور پر جھلکتا نہیں۔</p>
<p>دوم، نجی شعبے سے وابستہ افراد، جو معیشت میں مجموعی طور پر 93 فیصد روزگار رکھتے ہیں، کی آمدن گزشتہ پانچ سے چھ سال میں مہنگائی کے تناسب سے نہیں بڑھی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مجموعی پیداوار میں اضافہ محدود رہا ہے، جب کہ نمو زیادہ تر تھوک و خوردہ تجارت کے پھیلاؤ سے ہوئی ہے، جو دراصل کم ذخائر اور اسمگل شدہ اشیاء پر مبنی ہے، نہ کہ حقیقی پیداوار میں اضافے پر۔</p>
<p>اور سوم، اعداد و شمار کی ساکھ مشکوک سمجھی جاتی ہے کیونکہ وقتاً فوقتاً ڈیٹا میں رد و بدل کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، خصوصاً مہنگائی اور پیداوار کے حوالے سے، تاکہ ایسا تاثر دیا جا سکے کہ اقتصادی ٹیم کی کارکردگی بہتر ہے حالانکہ عوامی سطح پر اس کا کوئی حقیقی احساس نہیں پایا جاتا۔</p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنے جاری سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام میں بالواسطہ طور پر اس نکتۂ نظر کی توثیق کی۔ اس نے 10 اکتوبر 2024 کی دستاویزات میں کہا کہ “فنڈ کو فراہم کردہ اعداد و شمار عمومی طور پر زیادہ تر شعبوں میں نگرانی کے لیے مناسب ہیں، تاہم قومی حسابات (این اے) اور حکومتی مالیاتی شماریات (جی ایف ایس) میں ایسی کمزوریاں موجود ہیں جو نگرانی کے عمل کو کسی حد تک متاثر کرتی ہیں۔ جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے کے مساوی شعبوں سے متعلق بنیادی اعداد و شمار میں نمایاں خامیاں برقرار ہیں، جب کہ جی ایف ایس کی تفصیل اور قابلِ اعتماد ہونے سے متعلق بھی مسائل موجود ہیں۔”</p>
<p>آئی ایم ایف کے مطابق پاکستانی حکام ان کمزوریوں کو دور کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں اور اس ضمن میں فنڈ کی تکنیکی معاونت (ٹی اے) حاصل ہے، جو جی ایف ایس اور ایک نئے پیداواری قیمت اشاریے (پی پی آئی) پر مبنی ہے۔ یہ تکنیکی معاونت یکم جولائی 2025 سے مؤثر ہوئی ہے اور جون 2026 کے اختتام تک مکمل ہونے کا منصوبہ ہے، اس لیے اس کے کامیاب یا ناکام ہونے کا فیصلہ ابھی قبل از وقت ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>تاہم یہ امر قابلِ غور ہے کہ تکنیکی معاونت (ٹی اے) سے متعلق سفارشات پر مؤثر نتائج کے لیے مکمل عمل درآمد ضروری ہوتا ہے، اور یہ ہمیشہ نہیں ہوتا۔ اس کی ایک نمایاں مثال ایشیائی ترقیاتی بینک کا ’’انصاف تک رسائی پروگرام‘‘ ہے، جو واضح طور پر ناکامی سے دوچار ہوا۔</p>
</blockquote>
<p>غیر رسمی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معیشت کی بدانتظامی پر عوامی بےچینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) دونوں اس رجحان سے بخوبی آگاہ ہیں، جیسا کہ عالمی بینک کے اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 44.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو درمیانی آمدنی والے ممالک کے معیار (یعنی یومیہ 4.2 ڈالر) کے مطابق ہے، نہ کہ کم آمدنی والے ممالک کے معیار (یومیہ 3.20 ڈالر) کے۔ اسی پس منظر میں حکومت اور آئی ایم ایف نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاہم ایک شرط کے ساتھ: یہ اقدام صرف اُس صورت میں ممکن ہے جب مالی گنجائش موجود ہو۔ فی الحال یہ گنجائش نہایت محدود ہے، کیونکہ حکومت اخراجات میں کمی کے بجائے محصولات میں اضافے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق درج ذیل حکومتی پالیسیوں پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے:
(الف) بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار مجموعی محصولات کا 75 تا 80 فیصد تک برقرار ہے، جس کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب طبقے پر زیادہ پڑتا ہے، لہٰذا ٹیکس وصولی کو ’’ادائیگی کی صلاحیت‘‘ کے اصول پر منتقل کرنا ناگزیر ہے؛
(ب) موجودہ اخراجات میں کم از کم ڈیڑھ کھرب روپے کی کمی کی جائے تاکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بالواسطہ سے براہِ راست ٹیکس نظام کی منتقلی کے لیے مہلت مل سکے؛(د) سماجی شعبے کے پروگراموں، جن میں سیلاب امداد، بجلی اور خوراک پر سبسڈیز شامل ہیں،کو آئی ایم ایف کی سفارش کے مطابق بی آئی ایس پی میں ضم کرنے کی تجویز ہے، تاہم صوبائی حکومتیں (زیادہ تر سیاسی وجوہات کی بنا پر) اس کی مزاحمت کر رہی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ان کے تحفظات کو فعال طور پر حل کیا جائے؛ اور (ہ) بی آئی ایس پی میں بیروزگار مردوں کو شامل نہیں کیا گیا، جب کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے حالیہ پہلے ڈیجیٹل گھریلو سروے کے مطابق ملک میں بیروزگاری کی شرح 22 فیصد تک پہنچ چکی ہے، اس لیے مستحق گھرانے کی نئی تعریف وضع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278650</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Oct 2025 17:50:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/27162457375d207.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/27162457375d207.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
