<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 15:24:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 15:24:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>استنبول میں پاک افغان امن مذاکرات کا تیسرا دن بھی بے نتیجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278639/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;افغانستان اور پاکستان کے حکام استنبول میں پیر کو تیسرے دن بھی مذاکرات جاری رکھیں گے، کیونکہ وہ  مستقل امن معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں، اس معاملے سے واقف  تین مختلف ذرائع یہ بات معلوم ہوئی۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کرڈالی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیائی پڑوسی ممالک نے 19 اکتوبر کو دوحہ میں کئی دنوں تک جاری سرحدی جھڑپوں کے بعد فائر بندی پر اتفاق کیا تھا، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے، یہ 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سب سے شدید تشدد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ کی ثالثی میں جاری موجودہ دوسرے دور کے امن مذاکرات کا مقصد  طویل مدتی جنگ بندی کا معاہدہ طے کرنا ہے، لیکن دونوں ممالک نے مذاکرات کے نتائج کے بارے میں مختلف مؤقف پیش کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے دو سیکیورٹی ذرائع نے افغان طالبان پر الزام لگایا ہے کہ وہ مذاکراتی عمل میں تعاون نہیں کر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ذریعے نے کہا کہ پاکستانی وفد نے واضح کر دیا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے ہمارے بنیادی مطالبات پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب طالبان کے ایک نمائندے نے اس بات کو  غلط قرار دیا کہ مذاکرات میں تاخیر طالبان کی وجہ سے ہورہی ہے اور کہا کہ بات چیت ابھی بھی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر ملاقات اچھے ماحول میں ہو رہی ہے اور ہم نے متعدد امور پر دوستانہ انداز میں بات چیت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے یہ معلومات اس شرط پر فراہم کیں کہ ان کے نام ظاہر نہیں کیے جائیں گے کیونکہ انہیں عوامی طور پر بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کے روز سرکاری نشریاتی ادارے  آر ٹی اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسلامی امارت افغانستان مذاکرات کی حامی ہے اور سمجھتی ہے کہ مسائل اور اختلافات بات چیت کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مذاکرات کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے روز پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ افغانستان امن چاہتا ہے، لیکن اگر استنبول مذاکرات میں معاہدہ نہ ہو سکا تو اس کا مطلب کھلی جنگ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کی رات ٹرمپ نے اس تنازع کے خاتمے میں مدد دینے کی پیشکش دوبارہ دہرائی۔ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں  اجلاس کے موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ میں اس مسئلے کو بہت جلد حل کر لوں گا، میں دونوں کو جانتا ہوں اور مجھے کوئی شک نہیں کہ ہم یہ معاملہ بہت جلد حل کر لیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جھڑپوں کا آغاز اس ماہ کابل میں ہونے والے ایک فضائی حملے کے بعد ہوا، جس میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ کو نشانہ بنایا گیا تھا، یہ ایک ایسا عسکری گروپ ہے جو افغانستان کی طالبان حکومت سے الگ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی ٹی پی نے جواب میں پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ فوجی چوکیوں پر حملے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا کہنا ہے کہ طالبان ٹی ٹی پی کو افغانستان میں بلاخوف و خطر کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں، جہاں سے وہ پاکستانی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی فوج کے مطابق ہفتے کے اختتام پر پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں پانچ پاکستانی فوجی شہید اور 25 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>افغانستان اور پاکستان کے حکام استنبول میں پیر کو تیسرے دن بھی مذاکرات جاری رکھیں گے، کیونکہ وہ  مستقل امن معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں، اس معاملے سے واقف  تین مختلف ذرائع یہ بات معلوم ہوئی۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کرڈالی۔</strong></p>
<p>جنوبی ایشیائی پڑوسی ممالک نے 19 اکتوبر کو دوحہ میں کئی دنوں تک جاری سرحدی جھڑپوں کے بعد فائر بندی پر اتفاق کیا تھا، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے، یہ 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سب سے شدید تشدد تھا۔</p>
<p>ترکیہ کی ثالثی میں جاری موجودہ دوسرے دور کے امن مذاکرات کا مقصد  طویل مدتی جنگ بندی کا معاہدہ طے کرنا ہے، لیکن دونوں ممالک نے مذاکرات کے نتائج کے بارے میں مختلف مؤقف پیش کیے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے دو سیکیورٹی ذرائع نے افغان طالبان پر الزام لگایا ہے کہ وہ مذاکراتی عمل میں تعاون نہیں کر رہے۔</p>
<p>ایک ذریعے نے کہا کہ پاکستانی وفد نے واضح کر دیا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے ہمارے بنیادی مطالبات پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔</p>
<p>دوسری جانب طالبان کے ایک نمائندے نے اس بات کو  غلط قرار دیا کہ مذاکرات میں تاخیر طالبان کی وجہ سے ہورہی ہے اور کہا کہ بات چیت ابھی بھی جاری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر ملاقات اچھے ماحول میں ہو رہی ہے اور ہم نے متعدد امور پر دوستانہ انداز میں بات چیت کی ہے۔</p>
<p>ذرائع نے یہ معلومات اس شرط پر فراہم کیں کہ ان کے نام ظاہر نہیں کیے جائیں گے کیونکہ انہیں عوامی طور پر بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔</p>
<p>طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کے روز سرکاری نشریاتی ادارے  آر ٹی اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسلامی امارت افغانستان مذاکرات کی حامی ہے اور سمجھتی ہے کہ مسائل اور اختلافات بات چیت کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مذاکرات کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔</p>
<p>ہفتے کے روز پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ افغانستان امن چاہتا ہے، لیکن اگر استنبول مذاکرات میں معاہدہ نہ ہو سکا تو اس کا مطلب کھلی جنگ ہوگا۔</p>
<p>اتوار کی رات ٹرمپ نے اس تنازع کے خاتمے میں مدد دینے کی پیشکش دوبارہ دہرائی۔ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں  اجلاس کے موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ میں اس مسئلے کو بہت جلد حل کر لوں گا، میں دونوں کو جانتا ہوں اور مجھے کوئی شک نہیں کہ ہم یہ معاملہ بہت جلد حل کر لیں گے۔</p>
<p>جھڑپوں کا آغاز اس ماہ کابل میں ہونے والے ایک فضائی حملے کے بعد ہوا، جس میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ کو نشانہ بنایا گیا تھا، یہ ایک ایسا عسکری گروپ ہے جو افغانستان کی طالبان حکومت سے الگ ہے۔</p>
<p>ٹی ٹی پی نے جواب میں پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ فوجی چوکیوں پر حملے کیے۔</p>
<p>پاکستان کا کہنا ہے کہ طالبان ٹی ٹی پی کو افغانستان میں بلاخوف و خطر کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں، جہاں سے وہ پاکستانی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔</p>
<p>پاکستانی فوج کے مطابق ہفتے کے اختتام پر پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں پانچ پاکستانی فوجی شہید اور 25 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278639</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Oct 2025 13:07:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/2712444155d1d2a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/2712444155d1d2a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
