<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278629/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے مارکیٹ کے اندازوں کے مطابق پیر کو پالیسی ریٹ 11 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کے جاری  بیان میں کہا گیا کہ  ایم پی سی نے آج کے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیاہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے نوٹ کیا کہ ستمبر میں ہیڈ لائن افراطِ زر میں نمایاں اضافہ ہو کر 5.6 فیصد تک پہنچ گیا، جب کہ بنیادی افراطِ زر 7.3 فیصد پر مستحکم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق ایم پی سی نے اندازہ لگایا کہ حالیہ سیلابوں کے معیشت پر مجموعی اثرات توقع سے کچھ کم رہے ہیں۔ فصلوں کے نقصانات محدود ہیں اور سپلائی میں رکاوٹیں بھی معمولی رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ معاشی سرگرمیوں میں مزید بہتری آئی ہے جس کا اظہار مختلف معاشی اشاریوں کی مضبوط کارکردگی سے ہوتا ہے۔ ان عوامل کی بنیاد پر ملک کا مجموعی معاشی منظرنامہ پچھلے تخمینوں کے مقابلے میں بہتر ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ساتھ ہی اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ عالمی کموڈیٹی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، برآمدات کے لیے چیلنجز اور مقامی سطح پر خوراک کی فراہمی میں ممکنہ مسائل اس منظرنامے کے لیے غیر یقینی عوامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے گزشتہ اجلاس کے بعد سے پیش آنے والی چند اہم پیش رفتوں پر بھی روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے مالی سال 2025 کے لیے حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو پاکستان بیورو آف اسٹیٹِسٹکس (پی بی ایسٓ ) نے 2.7 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے فیڈرل کمیٹی آن ایگریکلچر کے مطابق ، حالیہ سیلابوں کے باوجود بڑی خریف فصلوں کی ابتدائی پیداوار گزشتہ سال کے برابر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا یہ کہ 500 ملین ڈالر کے یوروبانڈ کی ادائیگی کے باوجود اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھا  پاکستان نے آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت عملے کی سطح پر معاہدہ طے کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانچواں یہ کہ صارفین اور کاروباری اداروں کی افراطِ زر سے متعلق توقعات حالیہ ایس بی پی ،آئی بی اے سروے کے مطابق کم ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں عالمی سطح پر کموڈیٹی قیمتوں میں مخلوط رجحان دیکھا گیا، جب کہ تیل کی قیمتوں میں خاصا اتار چڑھاؤ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کا کہنا تھا کہ حقیقی پالیسی ریٹ اب بھی اتنا مثبت ہے کہ افراطِ زر کو درمیانی مدت میں 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر مستحکم رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;افراطِ زر کا منظرنامہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں بتایا گیا کہ ستمبر میں ہیڈ لائن افراطِ زر 3 فیصد سے بڑھ کر 5.6 فیصد تک پہنچ گئی، جو زیادہ تر سیلاب سے متاثرہ فصلوں کی قیمتوں میں اضافے، توانائی کی قیمتوں میں اوپر جانے اور بنیادی افراطِ زر کے بلند رہنے کی وجہ سے ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ پچھلے سیلابوں کے مقابلے میں اس بار غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ نسبتاً محدود رہا ہے۔ یہ بات حالیہ ہفتہ وار قیمتوں کے اشاریوں میں نمایاں ہے، جہاں گندم، چینی اور جلد خراب ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار سست پڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کا کہنا تھا کہ اگرچہ افراطِ زر آئندہ چند ماہ کے دوران مالی سال 2026 کی دوسری ششماہی میں ہدف کی بالائی حد سے تجاوز کر سکتا ہے، تاہم توقع ہے کہ مالی سال 2027 میں یہ دوبارہ ہدفی دائرے میں واپس آ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مانیٹری پالیسی کمیٹی کا گزشتہ اجلاس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔ یہ فیصلہ مارکیٹ توقعات کے مطابق نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت کمیٹی نے نوٹ کیا تھا کہ جولائی اور اگست میں مہنگائی نسبتاً معتدل رہی جبکہ بنیادی افراطِ زر (کور افراطِ زر) کی شرح دھیرے دھیرے کم ہوتی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ اجلاس کے بعد کئی اہم معاشی پیش رفتیں ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روپے کی قدر میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پٹرول کی قیمتوں میں 0.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتیں گزشتہ ایم پی سی کے بعد تقریباً 2 فیصد کم ہو کر فی بیرل تقریباً 62 ڈالر کے قریب رہ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں سالانہ بنیاد پر ہیڈلائن افراطِ زر ستمبر 2025 میں 5.6 فیصد رہی جس کے اعداد و شمار پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس نے جاری کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ  نے ستمبر میں 110 ملین ڈالر کا نمایاں سرپلس دکھایا جو پچھلے مالی سال کے اسی مہینے میں ریکارڈ کیے گئے 52 ملین ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ہفتہ وار بنیاد پر 14 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا، اور 17 اکتوبر 2025 تک یہ 14.45 بلین ڈالر تک پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کے مطابق مجموعی زرمبادلہ ذخائر 19.85 بلین ڈالر  ہیں جس میں  کمرشل بینکوں کے پاس موجود نیٹ غیر ملکی ذخائر 5.40 بلین ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے مارکیٹ کے اندازوں کے مطابق پیر کو پالیسی ریٹ 11 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔</strong></p>
<p>مرکزی بینک کے جاری  بیان میں کہا گیا کہ  ایم پی سی نے آج کے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیاہے۔</p>
<p>کمیٹی نے نوٹ کیا کہ ستمبر میں ہیڈ لائن افراطِ زر میں نمایاں اضافہ ہو کر 5.6 فیصد تک پہنچ گیا، جب کہ بنیادی افراطِ زر 7.3 فیصد پر مستحکم رہا۔</p>
<p>بیان کے مطابق ایم پی سی نے اندازہ لگایا کہ حالیہ سیلابوں کے معیشت پر مجموعی اثرات توقع سے کچھ کم رہے ہیں۔ فصلوں کے نقصانات محدود ہیں اور سپلائی میں رکاوٹیں بھی معمولی رہیں۔</p>
<p>مزید یہ کہ معاشی سرگرمیوں میں مزید بہتری آئی ہے جس کا اظہار مختلف معاشی اشاریوں کی مضبوط کارکردگی سے ہوتا ہے۔ ان عوامل کی بنیاد پر ملک کا مجموعی معاشی منظرنامہ پچھلے تخمینوں کے مقابلے میں بہتر ہوا ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے ساتھ ہی اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ عالمی کموڈیٹی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، برآمدات کے لیے چیلنجز اور مقامی سطح پر خوراک کی فراہمی میں ممکنہ مسائل اس منظرنامے کے لیے غیر یقینی عوامل ہیں۔</p>
<p>کمیٹی نے گزشتہ اجلاس کے بعد سے پیش آنے والی چند اہم پیش رفتوں پر بھی روشنی ڈالی۔</p>
<p>پہلے مالی سال 2025 کے لیے حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو پاکستان بیورو آف اسٹیٹِسٹکس (پی بی ایسٓ ) نے 2.7 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد کر دی۔</p>
<p>دوسرے فیڈرل کمیٹی آن ایگریکلچر کے مطابق ، حالیہ سیلابوں کے باوجود بڑی خریف فصلوں کی ابتدائی پیداوار گزشتہ سال کے برابر رہی۔</p>
<p>تیسرا یہ کہ 500 ملین ڈالر کے یوروبانڈ کی ادائیگی کے باوجود اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ جاری رہا۔</p>
<p>چوتھا  پاکستان نے آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت عملے کی سطح پر معاہدہ طے کر لیا۔</p>
<p>پانچواں یہ کہ صارفین اور کاروباری اداروں کی افراطِ زر سے متعلق توقعات حالیہ ایس بی پی ،آئی بی اے سروے کے مطابق کم ہوئی ہیں۔</p>
<p>آخر میں عالمی سطح پر کموڈیٹی قیمتوں میں مخلوط رجحان دیکھا گیا، جب کہ تیل کی قیمتوں میں خاصا اتار چڑھاؤ رہا۔</p>
<p>کمیٹی کا کہنا تھا کہ حقیقی پالیسی ریٹ اب بھی اتنا مثبت ہے کہ افراطِ زر کو درمیانی مدت میں 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر مستحکم رکھا جا سکے۔</p>
<p><strong>افراطِ زر کا منظرنامہ</strong></p>
<p>بیان میں بتایا گیا کہ ستمبر میں ہیڈ لائن افراطِ زر 3 فیصد سے بڑھ کر 5.6 فیصد تک پہنچ گئی، جو زیادہ تر سیلاب سے متاثرہ فصلوں کی قیمتوں میں اضافے، توانائی کی قیمتوں میں اوپر جانے اور بنیادی افراطِ زر کے بلند رہنے کی وجہ سے ہوا۔</p>
<p>ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ پچھلے سیلابوں کے مقابلے میں اس بار غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ نسبتاً محدود رہا ہے۔ یہ بات حالیہ ہفتہ وار قیمتوں کے اشاریوں میں نمایاں ہے، جہاں گندم، چینی اور جلد خراب ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار سست پڑی ہے۔</p>
<p>کمیٹی کا کہنا تھا کہ اگرچہ افراطِ زر آئندہ چند ماہ کے دوران مالی سال 2026 کی دوسری ششماہی میں ہدف کی بالائی حد سے تجاوز کر سکتا ہے، تاہم توقع ہے کہ مالی سال 2027 میں یہ دوبارہ ہدفی دائرے میں واپس آ جائے گا۔</p>
<p><strong>مانیٹری پالیسی کمیٹی کا گزشتہ اجلاس</strong></p>
<p>ستمبر میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔ یہ فیصلہ مارکیٹ توقعات کے مطابق نہیں تھا۔</p>
<p>اس وقت کمیٹی نے نوٹ کیا تھا کہ جولائی اور اگست میں مہنگائی نسبتاً معتدل رہی جبکہ بنیادی افراطِ زر (کور افراطِ زر) کی شرح دھیرے دھیرے کم ہوتی رہی۔</p>
<p>گزشتہ اجلاس کے بعد کئی اہم معاشی پیش رفتیں ہوئی ہیں۔</p>
<p>روپے کی قدر میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پٹرول کی قیمتوں میں 0.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتیں گزشتہ ایم پی سی کے بعد تقریباً 2 فیصد کم ہو کر فی بیرل تقریباً 62 ڈالر کے قریب رہ گئی ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں سالانہ بنیاد پر ہیڈلائن افراطِ زر ستمبر 2025 میں 5.6 فیصد رہی جس کے اعداد و شمار پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس نے جاری کیے ہیں۔</p>
<p>مزید برآں، پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ  نے ستمبر میں 110 ملین ڈالر کا نمایاں سرپلس دکھایا جو پچھلے مالی سال کے اسی مہینے میں ریکارڈ کیے گئے 52 ملین ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔</p>
<p>غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ہفتہ وار بنیاد پر 14 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا، اور 17 اکتوبر 2025 تک یہ 14.45 بلین ڈالر تک پہنچ گئے۔</p>
<p>مرکزی بینک کے مطابق مجموعی زرمبادلہ ذخائر 19.85 بلین ڈالر  ہیں جس میں  کمرشل بینکوں کے پاس موجود نیٹ غیر ملکی ذخائر 5.40 بلین ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278629</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Oct 2025 17:21:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/271202161f52ad1.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/271202161f52ad1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
