<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 04:50:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 04:50:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278627/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے ستمبر 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا جو زیادہ تر ترسیلاتِ زر میں اضافے کے باعث ممکن ہوا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ترسیلاتِ زر بڑھ کر 3,183.75 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں جو اگست میں 3,138.17 ملین ڈالر تھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترسیلاتِ زر کو اسٹیٹ بینک کے مطابق ایکس 12 اریما (ٹائم سیریز کی پیشن گوئی کا ایک شماریاتی طریقہ) اور منی ٹیب (ایک سافٹ ویئر جو اریما تجزیہ کے لیے ڈیٹا پوائنٹس کے یکساں وقفوں اور زمانی ترتیب کے ساتھ استعمال ہوتا ہے) کے ذریعے سیزنلی  طور پر ایڈجسٹ کیا گیا۔ ان شماریاتی طریقوں کی بنیاد پر بینک نے ستمبر 2025 کیلئے مجموعی ترسیلاتِ زر کا تخمینہ 3,206.51 ملین امریکی ڈالر لگایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ:(i) ستمبر 2025 کی مجموعی ترسیلاتِ زر (سیزنل ایڈجسٹمنٹ کو نکال کر) ستمبر 2024 کی 2.8 ارب امریکی ڈالر کی ترسیلات کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہیں  جو تقریباً 14 فیصد کے قابلِ ذکر اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں۔(ii) ستمبر 2025 کی مجموعی ترسیلاتِ زر رواں کیلنڈر سال کی سب سے زیادہ سطح نہیں تھیں کیونکہ مئی 2025 میں کل ترسیلات کا تخمینہ 3,685.59 ملین امریکی ڈالر لگایا گیا تھا  جو ممکنہ طور پر جون 2025 میں عید کی آمد سے منسلک ہو سکتا ہے، اسی طرح مئی 2025 کے لیے ایڈجسٹ کی گئی ترسیلاتِ زر کا تخمینہ 3,494 ملین امریکی ڈالر تھا، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا اس تخمینے میں آنے والی عید کے اثرات کو شامل کیا گیا تھا یا نہیں۔(iii) جولائی 2025 میں ترسیلاتِ زر 3,214.651 ملین امریکی ڈالر رہیں، جب کہ ستمبر کی مجموعی ترسیلات اس کے مقابلے میں تقریباً 1 فیصد کم تھیں اور سیزنلی طور پر ایڈجسٹ شدہ اعداد و شمار تقریباً 8 فیصد کم ریکارڈ کیے گئے۔اگرچہ صورتحال یہی ہے، لیکن ترسیلات زر کی زیادہ آمد قابل تعریف ہے کیونکہ یہ ان مناسب پالیسی اقدامات کے ذریعے کی گئی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہیں جن کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک میں رقم بھیجنے کے لیے غیر قانونی ہنڈی/حوالہ نظام کا استعمال نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس (جس میں تجارتی توازن، ترسیلاتِ زر اور خالص آمدنی/منتقلیاں شامل ہیں) حاصل کرنا قابلِ تعریف ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ ملک کو وقتاً فوقتاً منفی تجارتی توازن کا سامنا رہتا ہے۔ یہ منفی توازن عموماً بوم اینڈ بسٹ سائیکل (یعنی ترقی کے دوران خام مال یا نیم تیار شدہ مصنوعات کی زیادہ درآمدات سے صنعت کا فروغ، جو بعد میں تجارتی خسارے اور بیرونی قرضوں کی ضرورت کا باعث بنتا ہے) سے منسلک ہوتا ہے۔ روایتی طور پر، پاکستان میں درآمدات کو انتظامی اقدامات کے ذریعے قابو میں رکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی تناظر میں یہ واضح ہے کہ حکومت نے حالیہ ماضی میں ایسے اقدامات ضرور کیے، جن کے نتیجے میں معاشی نمو کی رفتار میں کمی واقع ہوئی، اور اس کے ساتھ ساتھ قومی پیداوار میں کمی، بے روزگاری میں اضافہ (22 فیصد) اور غربت کی بلند سطح (44.7 فیصد) جیسے مسائل بھی سامنے آئے۔ جب ان پابندیوں کو نرم کیا گیا تو درآمدات میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ستمبر میں تجارتی خسارہ 7,352 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا جو اگست کے 5,139 ملین ڈالر کے خسارے سے زیادہ تھا، اور وہ خود جولائی کے 2,637 ملین ڈالر کے خسارے سے زیادہ تھا۔ یہ صورتِ حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت کو اپنی توجہ برآمدات میں اضافے پر بھی مرکوز کرنی چاہیے، ایسی برآمدات پر جو صرف اچھے سیزن یا ہماری بڑی برآمدات کی عالمی قیمتوں میں اضافے پر منحصر نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی اداروں کو بیلنس آف پیمنٹ کی صورتحال پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جو نہ صرف کرنٹ اکاؤنٹ بلکہ بڑے پیمانے پر کی جانے والی قرض گیری کو بھی شامل کرتا ہے، یہ قرضے زیادہ تر بیرونی ادائیگیوں اور بجٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے لیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیٹ مینجمنٹ آفس نے رواں سال کے لیے کچھ تشویشناک اعدادوشمار مرتب کیے ہیں جن کے مطابق مجموعی بیرونی قرضوں کی آمد کا تخمینہ 19,923 ملین امریکی ڈالر لگایا گیا ہے، جس میں کثیر الجہتی اداروں سے 5 ارب ڈالر (اضافی 410 ملین ڈالر آئی ایم ایف کے آر ایس ایف پروگرام کے تحت)، دوطرفہ ڈپازٹس کی مد میں 10.3 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں سے 3 ارب ڈالر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادائیگیوں (آؤٹ فلو) کا تخمینہ 19,559 ملین امریکی ڈالر لگایا گیا جس میں کثیر الجہتی اداروں کو 5,056 ملین ڈالر، دوطرفہ فریقوں کو 10,343 ملین ڈالر اور کمرشل بینکوں کو 3,100 ملین ڈالر کی ادائیگیاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملکی سطح پر مجموعی قرضوں کی آمد کا تخمینہ 22 کھرب روپے لگایا گیا ہے، جو زیادہ تر ٹریژری بلز کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے (8.7 کھرب روپے)، جب کہ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کے اجرا سے مزید 8.5 کھرب روپے اور اجارہ سکوک کے اجرا سے 3.3 کھرب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ 15.5 کھرب روپے کو ملکی ادائیگیوں (بشمول سود اور اصل رقم کی واپسی جب بھی واجب الادا ہو) کے طور پر مختص کیا گیا ہے، اس لیے حکومت کو اپنی بجٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید 6.395 کھرب روپے قرض لینے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضرورت اس بات کی ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس کے تمام اجزاء میں بہتری پر توجہ دی جائے، اور موجودہ بیرونی و ملکی قرضوں پر حد سے زیادہ انحصار کو قلیل مدت میں روکنے اور درمیانی مدت میں بتدریج کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے ستمبر 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا جو زیادہ تر ترسیلاتِ زر میں اضافے کے باعث ممکن ہوا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ترسیلاتِ زر بڑھ کر 3,183.75 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں جو اگست میں 3,138.17 ملین ڈالر تھیں۔</strong></p>
<p>ترسیلاتِ زر کو اسٹیٹ بینک کے مطابق ایکس 12 اریما (ٹائم سیریز کی پیشن گوئی کا ایک شماریاتی طریقہ) اور منی ٹیب (ایک سافٹ ویئر جو اریما تجزیہ کے لیے ڈیٹا پوائنٹس کے یکساں وقفوں اور زمانی ترتیب کے ساتھ استعمال ہوتا ہے) کے ذریعے سیزنلی  طور پر ایڈجسٹ کیا گیا۔ ان شماریاتی طریقوں کی بنیاد پر بینک نے ستمبر 2025 کیلئے مجموعی ترسیلاتِ زر کا تخمینہ 3,206.51 ملین امریکی ڈالر لگایا۔</p>
<p>تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ:(i) ستمبر 2025 کی مجموعی ترسیلاتِ زر (سیزنل ایڈجسٹمنٹ کو نکال کر) ستمبر 2024 کی 2.8 ارب امریکی ڈالر کی ترسیلات کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہیں  جو تقریباً 14 فیصد کے قابلِ ذکر اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں۔(ii) ستمبر 2025 کی مجموعی ترسیلاتِ زر رواں کیلنڈر سال کی سب سے زیادہ سطح نہیں تھیں کیونکہ مئی 2025 میں کل ترسیلات کا تخمینہ 3,685.59 ملین امریکی ڈالر لگایا گیا تھا  جو ممکنہ طور پر جون 2025 میں عید کی آمد سے منسلک ہو سکتا ہے، اسی طرح مئی 2025 کے لیے ایڈجسٹ کی گئی ترسیلاتِ زر کا تخمینہ 3,494 ملین امریکی ڈالر تھا، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا اس تخمینے میں آنے والی عید کے اثرات کو شامل کیا گیا تھا یا نہیں۔(iii) جولائی 2025 میں ترسیلاتِ زر 3,214.651 ملین امریکی ڈالر رہیں، جب کہ ستمبر کی مجموعی ترسیلات اس کے مقابلے میں تقریباً 1 فیصد کم تھیں اور سیزنلی طور پر ایڈجسٹ شدہ اعداد و شمار تقریباً 8 فیصد کم ریکارڈ کیے گئے۔اگرچہ صورتحال یہی ہے، لیکن ترسیلات زر کی زیادہ آمد قابل تعریف ہے کیونکہ یہ ان مناسب پالیسی اقدامات کے ذریعے کی گئی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہیں جن کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک میں رقم بھیجنے کے لیے غیر قانونی ہنڈی/حوالہ نظام کا استعمال نہ کریں۔</p>
<p>پاکستان کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس (جس میں تجارتی توازن، ترسیلاتِ زر اور خالص آمدنی/منتقلیاں شامل ہیں) حاصل کرنا قابلِ تعریف ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ ملک کو وقتاً فوقتاً منفی تجارتی توازن کا سامنا رہتا ہے۔ یہ منفی توازن عموماً بوم اینڈ بسٹ سائیکل (یعنی ترقی کے دوران خام مال یا نیم تیار شدہ مصنوعات کی زیادہ درآمدات سے صنعت کا فروغ، جو بعد میں تجارتی خسارے اور بیرونی قرضوں کی ضرورت کا باعث بنتا ہے) سے منسلک ہوتا ہے۔ روایتی طور پر، پاکستان میں درآمدات کو انتظامی اقدامات کے ذریعے قابو میں رکھا جاتا ہے۔</p>
<p>اسی تناظر میں یہ واضح ہے کہ حکومت نے حالیہ ماضی میں ایسے اقدامات ضرور کیے، جن کے نتیجے میں معاشی نمو کی رفتار میں کمی واقع ہوئی، اور اس کے ساتھ ساتھ قومی پیداوار میں کمی، بے روزگاری میں اضافہ (22 فیصد) اور غربت کی بلند سطح (44.7 فیصد) جیسے مسائل بھی سامنے آئے۔ جب ان پابندیوں کو نرم کیا گیا تو درآمدات میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ستمبر میں تجارتی خسارہ 7,352 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا جو اگست کے 5,139 ملین ڈالر کے خسارے سے زیادہ تھا، اور وہ خود جولائی کے 2,637 ملین ڈالر کے خسارے سے زیادہ تھا۔ یہ صورتِ حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت کو اپنی توجہ برآمدات میں اضافے پر بھی مرکوز کرنی چاہیے، ایسی برآمدات پر جو صرف اچھے سیزن یا ہماری بڑی برآمدات کی عالمی قیمتوں میں اضافے پر منحصر نہ ہوں۔</p>
<p>حکومتی اداروں کو بیلنس آف پیمنٹ کی صورتحال پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جو نہ صرف کرنٹ اکاؤنٹ بلکہ بڑے پیمانے پر کی جانے والی قرض گیری کو بھی شامل کرتا ہے، یہ قرضے زیادہ تر بیرونی ادائیگیوں اور بجٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے لیے جاتے ہیں۔</p>
<p>ڈیٹ مینجمنٹ آفس نے رواں سال کے لیے کچھ تشویشناک اعدادوشمار مرتب کیے ہیں جن کے مطابق مجموعی بیرونی قرضوں کی آمد کا تخمینہ 19,923 ملین امریکی ڈالر لگایا گیا ہے، جس میں کثیر الجہتی اداروں سے 5 ارب ڈالر (اضافی 410 ملین ڈالر آئی ایم ایف کے آر ایس ایف پروگرام کے تحت)، دوطرفہ ڈپازٹس کی مد میں 10.3 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں سے 3 ارب ڈالر شامل ہیں۔</p>
<p>ادائیگیوں (آؤٹ فلو) کا تخمینہ 19,559 ملین امریکی ڈالر لگایا گیا جس میں کثیر الجہتی اداروں کو 5,056 ملین ڈالر، دوطرفہ فریقوں کو 10,343 ملین ڈالر اور کمرشل بینکوں کو 3,100 ملین ڈالر کی ادائیگیاں شامل ہیں۔</p>
<p>ملکی سطح پر مجموعی قرضوں کی آمد کا تخمینہ 22 کھرب روپے لگایا گیا ہے، جو زیادہ تر ٹریژری بلز کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے (8.7 کھرب روپے)، جب کہ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کے اجرا سے مزید 8.5 کھرب روپے اور اجارہ سکوک کے اجرا سے 3.3 کھرب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>چونکہ 15.5 کھرب روپے کو ملکی ادائیگیوں (بشمول سود اور اصل رقم کی واپسی جب بھی واجب الادا ہو) کے طور پر مختص کیا گیا ہے، اس لیے حکومت کو اپنی بجٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید 6.395 کھرب روپے قرض لینے کی توقع ہے۔</p>
<p>ضرورت اس بات کی ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس کے تمام اجزاء میں بہتری پر توجہ دی جائے، اور موجودہ بیرونی و ملکی قرضوں پر حد سے زیادہ انحصار کو قلیل مدت میں روکنے اور درمیانی مدت میں بتدریج کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278627</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Oct 2025 11:25:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/271117120279436.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/271117120279436.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
