<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:45:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:45:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ، بنیاد مستحکم کرنے کی ضرورت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278624/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی آئی ٹی اور آئی ٹی سے وابستہ خدمات کی برآمدات ستمبر 2025 میں تاریخی بلندی پر پہنچ گئیں، جو 366 ملین ڈالر تک جا پہنچی ہیں، جو شعبے میں مضبوط رفتار کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد اور اگست 2025 کے مقابلے میں 9 فیصد اضافہ ہے، جو اب تک کی سب سے زیادہ ماہانہ برآمدی قدر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نمو کے نتیجے میں مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی  میں برآمدات 1.06 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو 21 فیصد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ مالی سال 2025 میں آئی ٹی شعبہ ٹیکسٹائل اور چاول کے بعد زرمبادلہ کا تیسرا بڑا ذریعہ بن کر ابھرا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات میں اس تیزی نے ستمبر 2025 میں 110 ملین ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں اہم کردار ادا کیا، جو رواں مالی سال کا پہلا سرپلس ہے۔ جب کہ اشیائے تجارت کی برآمدات دباؤ کا شکار رہیں، آئی ٹی شعبے نے بیرونی کھاتوں کو سہارا دیا۔ خالص آئی ٹی برآمدات (یعنی برآمدات منفی درآمدات) ستمبر میں 330 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو سالانہ 29 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 8 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/27080756b28ed61.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/27080756b28ed61.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) شعبہ خدمات کے شعبے میں سب سے بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے، جو خدماتی تجارت میں سب سے زیادہ سرپلس فراہم کرتا ہے۔ مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں آئی سی ٹی برآمدات مجموعی خدماتی برآمدات کا 48 فیصد تھیں۔ گزشتہ چھ سالوں میں آئی سی ٹی برآمدات مالی سال 20 کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 300 ملین ڈالر سے بڑھ کر 1.1 ارب ڈالر سے زائد ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی سپورٹ نے اس کارکردگی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئی ٹی برآمد کنندگان کے اسپیشلائزڈ فارن کرنسی اکاؤنٹس میں رکھے جانے والے منافع کی حد 35 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کر دی، جس سے کمپنیوں کو اپنی کمائی کا بڑا حصہ بیرونِ ملک رکھنے اور کیش فلو میں لچک پیدا کرنے کی اجازت ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/270807584a75f90.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/270807584a75f90.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اکاؤنٹس کے ذریعے بیرونِ ملک سرمایہ کاری کی اجازت نے برآمد کنندگان کو اپنی عالمی موجودگی بڑھانے کا موقع دیا، جبکہ زرمبادلہ کے استحکام نے منافع کی واپسی کو بھی سہارا دیا۔ اب زیادہ تر آئی ٹی کمپنیاں اسپیشل فارن کرنسی اکاؤنٹس رکھتی ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ برآمد کنندگان اپنے منافع کے انتظام اور واپسی کے طریقے میں ساختی تبدیلی لا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طلب کے لحاظ سے پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں نے اپنی کلائنٹ بیس خلیجی ممالک میں، بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بڑھائی ہے، جس سے وہ روایتی شمالی امریکہ اور یورپی مارکیٹوں پر انحصار کم کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/27080801a4a40f7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/27080801a4a40f7.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کے اندازوں کے مطابق مالی سال 2025-26 میں آئی ٹی برآمدات میں 18 سے 20 فیصد اضافہ متوقع ہے، جسے مستحکم میکرو اکنامک حالات، پالیسی تسلسل، اور شعبے کی توسیع سے سہارا ملے گا۔
آگے چل کر حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے 5 ارب ڈالر اور اُڑان پاکستان اقتصادی منصوبے کے تحت مالی سال 2028-29 تک 10 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف مقرر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہدف کے حصول کے لیے صرف مسلسل دوہرے ہندسوں میں اضافہ ہی نہیں بلکہ شعبے کی گہرائی  بھی ضروری ہے۔ اگرچہ ترقی کی رفتار مضبوط ہے، لیکن پاکستان کا آئی ٹی شعبہ اب بھی ساختی طور پر کمزور ہے جو زیادہ تر فری لانسرز اور چھوٹی ایجنسیوں پر منحصر ہے۔ اگر بڑی کمپنیوں کی توسیع اور تحقیق و ترقی  میں سرمایہ کاری نہ کی گئی، تو یہ شعبہ عالمی ڈیجیٹل معیشت میں کم قیمت سطح پر ہی محدود رہنے کا خطرہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی آئی ٹی اور آئی ٹی سے وابستہ خدمات کی برآمدات ستمبر 2025 میں تاریخی بلندی پر پہنچ گئیں، جو 366 ملین ڈالر تک جا پہنچی ہیں، جو شعبے میں مضبوط رفتار کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد اور اگست 2025 کے مقابلے میں 9 فیصد اضافہ ہے، جو اب تک کی سب سے زیادہ ماہانہ برآمدی قدر ہے۔</strong></p>
<p>اس نمو کے نتیجے میں مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی  میں برآمدات 1.06 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو 21 فیصد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ مالی سال 2025 میں آئی ٹی شعبہ ٹیکسٹائل اور چاول کے بعد زرمبادلہ کا تیسرا بڑا ذریعہ بن کر ابھرا تھا۔</p>
<p>برآمدات میں اس تیزی نے ستمبر 2025 میں 110 ملین ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں اہم کردار ادا کیا، جو رواں مالی سال کا پہلا سرپلس ہے۔ جب کہ اشیائے تجارت کی برآمدات دباؤ کا شکار رہیں، آئی ٹی شعبے نے بیرونی کھاتوں کو سہارا دیا۔ خالص آئی ٹی برآمدات (یعنی برآمدات منفی درآمدات) ستمبر میں 330 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو سالانہ 29 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 8 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/27080756b28ed61.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/27080756b28ed61.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>پاکستان کا انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) شعبہ خدمات کے شعبے میں سب سے بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے، جو خدماتی تجارت میں سب سے زیادہ سرپلس فراہم کرتا ہے۔ مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں آئی سی ٹی برآمدات مجموعی خدماتی برآمدات کا 48 فیصد تھیں۔ گزشتہ چھ سالوں میں آئی سی ٹی برآمدات مالی سال 20 کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 300 ملین ڈالر سے بڑھ کر 1.1 ارب ڈالر سے زائد ہو چکی ہیں۔</p>
<p>پالیسی سپورٹ نے اس کارکردگی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئی ٹی برآمد کنندگان کے اسپیشلائزڈ فارن کرنسی اکاؤنٹس میں رکھے جانے والے منافع کی حد 35 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کر دی، جس سے کمپنیوں کو اپنی کمائی کا بڑا حصہ بیرونِ ملک رکھنے اور کیش فلو میں لچک پیدا کرنے کی اجازت ملی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/270807584a75f90.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/270807584a75f90.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>ان اکاؤنٹس کے ذریعے بیرونِ ملک سرمایہ کاری کی اجازت نے برآمد کنندگان کو اپنی عالمی موجودگی بڑھانے کا موقع دیا، جبکہ زرمبادلہ کے استحکام نے منافع کی واپسی کو بھی سہارا دیا۔ اب زیادہ تر آئی ٹی کمپنیاں اسپیشل فارن کرنسی اکاؤنٹس رکھتی ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ برآمد کنندگان اپنے منافع کے انتظام اور واپسی کے طریقے میں ساختی تبدیلی لا چکے ہیں۔</p>
<p>طلب کے لحاظ سے پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں نے اپنی کلائنٹ بیس خلیجی ممالک میں، بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بڑھائی ہے، جس سے وہ روایتی شمالی امریکہ اور یورپی مارکیٹوں پر انحصار کم کر رہی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/27080801a4a40f7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/27080801a4a40f7.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>مارکیٹ کے اندازوں کے مطابق مالی سال 2025-26 میں آئی ٹی برآمدات میں 18 سے 20 فیصد اضافہ متوقع ہے، جسے مستحکم میکرو اکنامک حالات، پالیسی تسلسل، اور شعبے کی توسیع سے سہارا ملے گا۔
آگے چل کر حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے 5 ارب ڈالر اور اُڑان پاکستان اقتصادی منصوبے کے تحت مالی سال 2028-29 تک 10 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف مقرر کیا ہے۔</p>
<p>اس ہدف کے حصول کے لیے صرف مسلسل دوہرے ہندسوں میں اضافہ ہی نہیں بلکہ شعبے کی گہرائی  بھی ضروری ہے۔ اگرچہ ترقی کی رفتار مضبوط ہے، لیکن پاکستان کا آئی ٹی شعبہ اب بھی ساختی طور پر کمزور ہے جو زیادہ تر فری لانسرز اور چھوٹی ایجنسیوں پر منحصر ہے۔ اگر بڑی کمپنیوں کی توسیع اور تحقیق و ترقی  میں سرمایہ کاری نہ کی گئی، تو یہ شعبہ عالمی ڈیجیٹل معیشت میں کم قیمت سطح پر ہی محدود رہنے کا خطرہ رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278624</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Oct 2025 11:05:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/27110154a03fe84.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/27110154a03fe84.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
