<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے باوجود بھارت سے تعلقات متاثر نہیں ہوئے، امریکی وزیر خارجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278609/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ تعلقات میں بہتری کے باوجود امریکا اور بھارت کے تعلقات متاثر نہیں ہوئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے روز ایک پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکا کو پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو وسعت دینے اور باہمی مفادات کے امور پر کام کرنے کا موقع نظر آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ پاکستان کے ساتھ ہمارے اقدامات بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات یا دوستی کی قیمت پر ہو رہے ہیں۔ ہمارے بھارت سے تعلقات گہرے، تاریخی اور انتہائی اہم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ بھارت کو تاریخی طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود کشیدگی کے باعث خدشات ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمیں دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان اور امریکا کے تعلقات اُس وقت مضبوط ہوئے جب پاکستان نے امریکی حکومت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ کو ٹالنے اور تنازع کے حل میں تسلیم کیا، امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ مئی میں تنازع شروع ہونے سے پہلے ہی وہ پاکستانی حکومت سے رابطے میں آ چکے تھے اور انہیں بتایا تھا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ ایک نئے اتحاد، ایک اسٹریٹجک شراکت داری کی از سرِ نو تعمیر میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اُن کے بقول ”ہم سمجھتے ہیں کہ کئی امور ایسے ہیں جن پر ہم پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمۂ خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری پریس بریفنگ کے متن کے مطابق مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا کو بھارت سے متعلق چیلنجز کا ادراک ہے لیکن اس کا مقصد اُن ممالک کے ساتھ شراکت کے مواقع پیدا کرنا ہے جہاں ایسا ممکن ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے انسدادِ دہشت گردی اور دیگر معاملات میں پاکستان کے ساتھ طویل شراکت داری کی ہے اور اگر ممکن ہو تو ہم چاہتے ہیں کہ یہ تعلق اس سے آگے بڑھے، اگرچہ ہمیں علم ہے کہ اس راستے میں مشکلات اور چیلنجز ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو نے مزید کہا کہ تعلقات میں بہتری ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے، مگر اُن کے بقول “ میرا نہیں خیال کہ یہ تعلقات بھارت یا کسی اور ملک کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات کی قیمت پر ہیں یا ان کی جگہ لے رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال پاک امریکا تعلقات میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، توانائی اور اسٹریٹجک تعاون سمیت سیاسی و معاشی سطح پر روابط مضبوط ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عسکری سفارت کاری (ملٹری ڈپلومیسی) بھی ان تعلقات کو مزید استحکام دینے میں کردار ادا کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ امریکا کا قریبی اتحادی ہونے کے ناتے پاکستان کی حکومت اور پالیسی ساز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے مزید قرضہ سہولیات حاصل کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں حکومت اب بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں مختلف بانڈز جاری کرنے کی بھی زیادہ بہتر حیثیت میں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مالیاتی قرضوں کو مزید متنوع اور از سرِ نو ترتیب دیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ تعلقات میں بہتری کے باوجود امریکا اور بھارت کے تعلقات متاثر نہیں ہوئے۔</strong></p>
<p>ہفتے کے روز ایک پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکا کو پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو وسعت دینے اور باہمی مفادات کے امور پر کام کرنے کا موقع نظر آیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ پاکستان کے ساتھ ہمارے اقدامات بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات یا دوستی کی قیمت پر ہو رہے ہیں۔ ہمارے بھارت سے تعلقات گہرے، تاریخی اور انتہائی اہم ہیں۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ بھارت کو تاریخی طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود کشیدگی کے باعث خدشات ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمیں دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان اور امریکا کے تعلقات اُس وقت مضبوط ہوئے جب پاکستان نے امریکی حکومت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ کو ٹالنے اور تنازع کے حل میں تسلیم کیا، امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ مئی میں تنازع شروع ہونے سے پہلے ہی وہ پاکستانی حکومت سے رابطے میں آ چکے تھے اور انہیں بتایا تھا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ ایک نئے اتحاد، ایک اسٹریٹجک شراکت داری کی از سرِ نو تعمیر میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اُن کے بقول ”ہم سمجھتے ہیں کہ کئی امور ایسے ہیں جن پر ہم پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں۔“</p>
<p>امریکی محکمۂ خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری پریس بریفنگ کے متن کے مطابق مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا کو بھارت سے متعلق چیلنجز کا ادراک ہے لیکن اس کا مقصد اُن ممالک کے ساتھ شراکت کے مواقع پیدا کرنا ہے جہاں ایسا ممکن ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے انسدادِ دہشت گردی اور دیگر معاملات میں پاکستان کے ساتھ طویل شراکت داری کی ہے اور اگر ممکن ہو تو ہم چاہتے ہیں کہ یہ تعلق اس سے آگے بڑھے، اگرچہ ہمیں علم ہے کہ اس راستے میں مشکلات اور چیلنجز ہوں گے۔</p>
<p>مارکو روبیو نے مزید کہا کہ تعلقات میں بہتری ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے، مگر اُن کے بقول “ میرا نہیں خیال کہ یہ تعلقات بھارت یا کسی اور ملک کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات کی قیمت پر ہیں یا ان کی جگہ لے رہے ہیں۔“</p>
<p>رواں سال پاک امریکا تعلقات میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، توانائی اور اسٹریٹجک تعاون سمیت سیاسی و معاشی سطح پر روابط مضبوط ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عسکری سفارت کاری (ملٹری ڈپلومیسی) بھی ان تعلقات کو مزید استحکام دینے میں کردار ادا کر رہی ہے۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ امریکا کا قریبی اتحادی ہونے کے ناتے پاکستان کی حکومت اور پالیسی ساز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے مزید قرضہ سہولیات حاصل کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔</p>
<p>مزید برآں حکومت اب بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں مختلف بانڈز جاری کرنے کی بھی زیادہ بہتر حیثیت میں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مالیاتی قرضوں کو مزید متنوع اور از سرِ نو ترتیب دیا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278609</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Oct 2025 09:47:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/27094649b50318f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/27094649b50318f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
