<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیو یارک میئر کی دوڑ، بائیں بازو کے امیدوار ظہران ممدانی جیت کے قریب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278603/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیو یارک کے سیاسی منظرنامے پر ایک نیا چہرہ تیزی سے ابھر کر سامنے آیا ہے ، بائیں بازو کے نظریات کے حامل ظہران ممدانی، جو امریکہ کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر نیو یارک کے ممکنہ پہلے مسلم میئر بننے کے قریب ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف چند ماہ قبل ایک غیر معروف مقامی قانون ساز کے طور پر جانے جانے والے 34 سالہ ظہران ممدانی نے جون میں ڈیموکریٹک پارٹی کی پرائمری میں حیران کن کامیابی حاصل کی، جس کے بعد ان کا مسکراتا چہرہ اب شہر بھر میں ٹی وی اسکرینوں اور نوجوان حامیوں کے بیجز پر دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوگنڈا میں بھارتی نژاد خاندان میں پیدا ہونے والے ظہران ممدانی 7 برس کی عمر میں امریکہ منتقل ہوئے اور 2018 میں امریکی شہریت حاصل کی۔ وہ معروف فلم ساز میرا نائر (مون سون ویڈنگ، سلام بمبئی) اور ممتاز محقق محمود ممدانی کے بیٹے ہیں، جس کے باعث ناقدین انہیں نیپو بے بی کہہ کر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظہران ممدانی نے برونکس ہائی اسکول آف سائنس اور بعد ازاں باؤڈوئن کالج میں تعلیم حاصل کی۔ 2015 میں انہوں نے ینگ کارڈامم کے نام سے ریپ موسیقی میں قسمت آزمائی کی، مگر جلد ہی سیاست کی طرف متوجہ ہو گئے۔ وہ گھروں کے قرضوں سے بچاؤ کے مشیر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے مالی مشکلات کے شکار شہریوں کی مدد کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2018 میں وہ کوئینز سے ریاستی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، جو زیادہ تر تارکین وطن اور کم آمدنی والے طبقات پر مشتمل علاقہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خود کو سوشلسٹ قرار دینے والے ظہران ممدانی کرایہ کنٹرول، مفت ڈے کیئر، مفت بس سروس اور شہری سطح پر چلنے والی گروسری اسٹورز کے حامی ہیں۔ فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت اور اسرائیل کو نسلی امتیاز پر مبنی ریاست قرار دینے کے باعث انہیں بعض یہودی حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے، تاہم وہ یہودی مخالف جذبات کی مذمت بھی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں چھوٹا کمیونسٹ قرار دیا ہے، مگر ماہرین کے مطابق ظہران ممدانی نے ناراض ووٹرز اور نظام سے نالاں شہریوں میں نئی توانائی پیدا کی ہے۔ ان کی مہم میں 1970 کی دہائی کی زمینی سیاست اور جدید 2025 کی ڈیجیٹل حکمت عملی کا امتزاج نمایاں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیو یارک کے سیاسی منظرنامے پر ایک نیا چہرہ تیزی سے ابھر کر سامنے آیا ہے ، بائیں بازو کے نظریات کے حامل ظہران ممدانی، جو امریکہ کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر نیو یارک کے ممکنہ پہلے مسلم میئر بننے کے قریب ہیں۔</strong></p>
<p>صرف چند ماہ قبل ایک غیر معروف مقامی قانون ساز کے طور پر جانے جانے والے 34 سالہ ظہران ممدانی نے جون میں ڈیموکریٹک پارٹی کی پرائمری میں حیران کن کامیابی حاصل کی، جس کے بعد ان کا مسکراتا چہرہ اب شہر بھر میں ٹی وی اسکرینوں اور نوجوان حامیوں کے بیجز پر دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>یوگنڈا میں بھارتی نژاد خاندان میں پیدا ہونے والے ظہران ممدانی 7 برس کی عمر میں امریکہ منتقل ہوئے اور 2018 میں امریکی شہریت حاصل کی۔ وہ معروف فلم ساز میرا نائر (مون سون ویڈنگ، سلام بمبئی) اور ممتاز محقق محمود ممدانی کے بیٹے ہیں، جس کے باعث ناقدین انہیں نیپو بے بی کہہ کر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔</p>
<p>ظہران ممدانی نے برونکس ہائی اسکول آف سائنس اور بعد ازاں باؤڈوئن کالج میں تعلیم حاصل کی۔ 2015 میں انہوں نے ینگ کارڈامم کے نام سے ریپ موسیقی میں قسمت آزمائی کی، مگر جلد ہی سیاست کی طرف متوجہ ہو گئے۔ وہ گھروں کے قرضوں سے بچاؤ کے مشیر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے مالی مشکلات کے شکار شہریوں کی مدد کی۔</p>
<p>2018 میں وہ کوئینز سے ریاستی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، جو زیادہ تر تارکین وطن اور کم آمدنی والے طبقات پر مشتمل علاقہ ہے۔</p>
<p>خود کو سوشلسٹ قرار دینے والے ظہران ممدانی کرایہ کنٹرول، مفت ڈے کیئر، مفت بس سروس اور شہری سطح پر چلنے والی گروسری اسٹورز کے حامی ہیں۔ فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت اور اسرائیل کو نسلی امتیاز پر مبنی ریاست قرار دینے کے باعث انہیں بعض یہودی حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے، تاہم وہ یہودی مخالف جذبات کی مذمت بھی کرتے ہیں۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں چھوٹا کمیونسٹ قرار دیا ہے، مگر ماہرین کے مطابق ظہران ممدانی نے ناراض ووٹرز اور نظام سے نالاں شہریوں میں نئی توانائی پیدا کی ہے۔ ان کی مہم میں 1970 کی دہائی کی زمینی سیاست اور جدید 2025 کی ڈیجیٹل حکمت عملی کا امتزاج نمایاں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278603</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Oct 2025 12:29:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/261227307444876.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/261227307444876.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
